Owais Razvi Qadri Siddiqui
Sufi Singer

تمھیں دولھا بنا کر بھیجنا تھا بزم امکاں میں – Tumhe Dulha Bana Ka Bhejna Tha

162
نہ کیوں آرائشیں کرتا خدا دنیا کے ساماں میں
تمھیں دولھا بنا کر بھیجنا تھا بزم امکاں میں
یہ رنگینی یہ شادابی کہاں گلزار رضواں میں
ہزاروں جنتیں آکر بسی ہیں کوئے جاناں میں
خزاں کا کس طرح ہو دخل جنت کے گلستاں میں
بہاریں بس چکی ہیں جلوہء رنگین جاناں میں
تم آئے روشنی پھیلی ہوا دن کھل گئی آنکھیں
اندھیرا سا اندھیرا چھا رہا تھا بزم امکاں میں
تھکا ماندہ وہ ہے جو پاؤں اپنے توڑ کر بیٹھا
وہی پہنچا ہوا ٹھہرا جو پہنچا کوئے جاناں میں
تمھارا کلمہ پڑھتا اٹھے تم پر صدقے ہونے کو
جو پائے پاک سے ٹھوکر لگا دو جسم بیجاں میں
عجب انداز سے محبوب حق نے جلوہ فرمایا
سرور آنکھوں میں آیا جان دل میں نور ایماں میں
فدائے خار ہائے دشت طیبہ پھول جنت کے
یہ وہ کانٹے ہیں جن کو خود جگہ دیں گل رگ جاں میں
ہر ایک کی آرزو ہے پہلے مجھ کو ذبح فرمائیں
تماشا کر رہے ہیں مرنے والے عید قرباں میں
ظہور پاک سے پہلے بھی صدقے تھے نبی تم پر
تمھارے نام ہی کی روشنی تھی بزم امکاں میں
کلیم آسا نہ کیونکر غش ہو ان کے دیکھنے والے
نظر آتے ہیں جلوے طور کے رخسار تاباں میں
ہوا بدلی گھرے بادل کھلے گل بلبلیں چہکیں
تم آئے یا بہار جانفزا آئی گلستاں میں
کسی کی زندگی اپنی نہ ہوتی اس قدر میٹھی
مگر دھوون تمھارے پاؤں کا ہے شیرہء جاں میں
اسے قسمت نے اس کے جیتے جی جنت میں پہنچایا
جو دم لینے کو بیٹھا سایہء دیوار جاناں میں
کیا پروانوں کو بلبل نرالی شمع لائے تم
گرے پڑتے تھے جو آتش پہ وہ پہنچے گلستاں میں
نسیم طیبہ سے بھی شمع گل ہو جائے لیکن یوں
کل گلشن پھولیں جنت لہلہا اٹھے چراغاں میں
اگر دود چراغ بزم شہ چھو جائے کاجل سے
شب قدر تجلی کا ہو سرمہ چشمہء خوباں میں
کرم فرمائے گر باغ مدینہ کی ہوا کچھ بھی
گل جنت نکل آئیں ابھی سرو چراغاں میں
چمن کیونکر نہ مہکیں بلبلیں کیونکر نہ عاشق ہوں
تمھارا جلوہء رنگیں بھرا پھولوں نے داماں میں
اگر دود چراغ بزم والا مَس کرے کچھ بھی
شمیم مشک بس جائے گل شمع شبستاں میں
یہاں کے سنگریزوں سے حسن کیا لعل کو نسبت
یہ ان کی راہ گزر میں ہیں وہ پتھر ہے بدخشاں میں
Comments
Loading...