Owais Razvi Qadri Siddiqui
Sufi Singer

!حُسن تیرا سا نہ دیکھا نہ سنا

0 96

حُسن تیرا سا نہ دیکھا نہ سنا!
.
ایک بار چند غیر مُسلِم اَمِیْرُالْمُؤمنین حَضرتِ سَیِّدُنا ابوبکرصِدّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں حاضر ہوئے اورکہا:
.
اپنے صاحب (پیارے آقا عَلَیْہِ السَّلَام) کی صفات بیان کریں!آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرْشاد فرمایا:اے لوگوسُنو!میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ غارِ ثور میں ایسے تھا جیسے یہ میری دو(2)ا نگلیاں،جبکہ حِرا پہاڑ پر میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ چڑھا
تو بھی میں نے ان کے بہت قریب تھا،

اس قدر قُربت کے باوجود آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سراپائے اقدس کو بیان کرنابہت دُشوار مُعاملہ ہے، ہاں علی بن ابی طالب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس چلے جاؤ وہ بیان کر دیں گے۔

وہ لوگ اَمِیْرُالْمُؤمنین حَضرتِ سَیِّدُناعلی المرتضیٰ شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کی : اے ابوالحسن! اپنے چچا کے بیٹے (یعنی پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ)کےاَوصاف بیان کریں! تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرْشاد فرمایا: رَسُولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنہ توبہت زیادہ دراز قد تھے اور نہ ہی بالکل پست قد، بلکہ درمیانے قد سےکچھ بلندتھے، رنگ مبارک سفیدتھا جس میں سرخی کی آمیزش بھی تھی، مبارک زلفیں بہت زیادہ گھنگھریالی نہ تھیں بلکہ کچھ خمدارتھیں جو کانوں تک ہواکرتیں ، کُشادہ پیشانی، سُرمگیں آنکھیں، چمکدار دانت، بُلندبِینی، گردن خوب شفاف جیسے چاندی کی صراحی، جب چلتے تو مضبوطی سے قدم جماتے جیسے بلندی سے اُتر رہے ہوں،

جب کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو کامل توجُّہ فرماتے، جب قیام فرما تے تو لوگوں سے بلندمعلوم ہوتے اور جب بیٹھتے تب بھی سب میں نُمایاں ہوتے، جب کلام فرماتے تو لوگوں پر خاموشی چھا جاتی، جب خطبہ اِرْشاد فرماتےتو سامعین پرگِریہ طاری فرما دیتے، لوگوں پر سب سے زیادہ رحیم و مہربان،یتیموں کے لیے شفیق باپ کی مانند ، بیواؤں کے لیےکریم و نرم دل، سب سے زیادہ بہادر، سب سے زیادہ سخی اور روشن چہرے والے تھے، عباء (جُبہ)زیبِ تن فرماتے،جَو کی روٹی تَناوُل فرماتے،آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاتکیہ چمڑے کا تھاجس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، چارپائی کیکر کی لکڑی کی تھی جو کھجور کے پتوں کی رسی سے بُنی ہوئی تھی، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دو عمامے تھے ایک کا نام سحاب جبکہ دوسرے کو عُقاب کہا جاتا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اشیائے ضرورت میں تلوار ذُوالفَقَار، اُونٹنی عضباء، خچر دُلدُل، گدھا یعفور، گھوڑا بحر، بکری برکۃ، عصا ممشوق اور جھنڈا ’’ لِواء ُالحَمد‘‘ کے نام سے مَوسُوم تھے، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُونٹ
کو خود باندھتے اور اسے چارا ڈال دیا کرتے، کپڑوں کو پیوند لگا لیا کرتے اور جُوتے کی اصلاح بھی خود ہی فرمالیا کرتے تھے۔ مکمل حُلیہ مُبارکہ بیان فرمانے کے بعد اَمِیْرُالْمُؤمنین حَضرتِ سَیِّدُنا مَولیٰ علی شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ارشاد فرمایا: لَمْ اَرَ قَبْلَہٗ وَ لَا بَعْدَہٗ مِثْلَہٗ، میں نے حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پہلے اورآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد آپ جیسا کوئی اور نہیں دیکھا۔ایک روایت میں مکمل حُلیہ بیان فرمانے کے بعد حضرتِ مولیٰ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے یوں فرمایا:

یَقُوْلُ نَاعِتُہٗ لَم ْ اَ رَ قَبْلَہٗ وَلَا بَعْدَہٗ مِثْلَہٗ حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا ہر مدح خواں بالآخر یہی کہتا ہے کہ آپ جیسا نہ کوئی پہلے تھا اور نہ ہی بعد میں ہوگا۔ ( ازالۃ الخفا، ۴/۴۹۹،ملتقطاً وترمذی: ۵/۳۶۴، حدیث: ۳۶۵۷ و: ۳۶۵۸) مُفَسِّرِ شَہِیر،حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: حضرات صحابۂ کِرام (عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی مثل کیا دیکھتے خدا نے حُضُور(عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) کا مثل بنایا ہی نہیں۔(مرآۃ المناجیح، باب اسماء النبی و صفاتہ، الفصل الثانی، ۸/۵۸، ملتقطاً)

حُسن تیرا سا نہ دیکھا نہ سنا

کہتے ہیں اگلے زمانے والے

وہی دھوم ان کی ہے مَاشَاءَاللہ

مِٹ گئے آپ مٹانے والے

Comments
Loading...