Owais Razvi Qadri Siddiqui
Sufi Singer

نماز پڑھنے اور قائم کرنے میں کیا فرق ہے

154

: میں قرآن کریم کا ترجمہ پڑھ رہاہوں ، ترجمہ پڑھتے وقت میں نے کئی جگہ دیکھا کہ نماز قائم کرنے کاذکر ملتا ہے

، یعنی نماز قائم کرو، ایمان والے نماز قائم کرتے ہیں ، متقی نماز قائم کرتے ہیں ۔ میرا سوال یہ ہے کہ ’’ نماز پڑھو‘‘ کی جگہ ’’ نماز قائم کرو‘‘ کیوں فرمایا گیا؟ اس کی کیا وجہ ہے ؟ وضاحت فرمائیں تو نوازش ہوگی۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نماز قائم کرنے کا جو حکم فرمایا ہے مفسرین نے اُس کی متعدد تفاسیر کی ہیں ، صاحب روح المعانی علامہ شہاب الدین محمود آلوسی رحمۃ اللہ علیہ نے سورۂ بقرہ آیت نمبر:3  یقیمون الصلوٰۃ (وہ نماز قائم کرتے ہیں)کی تفسیر میں لکھا ہے :

(1) وہ فرائض وواجبات کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں

(2) سنتوں اور آداب کا لحاظ کرتے ہوئے نماز ادا کرتے ہیں

(3) پابندی کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں

(4) کوتاہی اور سستی کے بغیر مکمل نشاط کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں۔

حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰی وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَo

’’سب نمازوں کی محافظت کیا کرو اور بالخصوص درمیانی نماز کی، اور اﷲ کے حضور سراپا ادب و نیاز بن کر قیام کیا کروo‘‘

 البقرة، 2 : 238

نماز پڑھنے اور قائم کرنے میں بنیادی فرق یہ ہے کہ قرآن حکیم میں صرف نماز پڑھنے کا حکم نہیں ہے بلکہ بالتاکید نماز قائم کرنے پر اصرار ہے کیونکہ اگر صرف نماز پڑھنے کا حکم ہوتا تو زندگی میں ایک آدھ بار نماز کا ادا کر لینا ہی کافی ہوتا جبکہ قرآن حکیم میں متعدد حکمتوں کی بناء پر نماز قائم کرنے پر زور دیا گیا ہے مثلاً

اولاً : اقامت صلوٰۃ کے حکم میں مداومت کا پہلو مضمر ہے جس کا معنی یہ ہے کہ نماز اس طرح ادا کی جائے کہ اسے ترک کرنے کا تصور بھی باقی نہ رہے۔ قرآن حکیم اسے محافظت علی الصلوٰۃ سے تعبیر کرتا ہے۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

            تفسیر روح المعانی میں ہے : ومعنی ( یُقِیمُونَ الصلاۃ ) یعدلون أرکانہا بأن یوقعوہا مستجمعۃ للفرائض والواجبات أو لہا مع الآداب والسنن من أقام العود إذا قومہ أو یواظبون علیہا ویداومون من قامت السوق إذا نفقت وأقمتہا إذا جعلتہا نافقۃ أو یتشمرون لأدائہا بلا فترۃ عنہا ولا توان من قولہم قام بالأمر وأقامہ إذا جدّ فیہ ۔ (روح المعانی ، سورۃ البقرۃ، آیت نمبر:3)

 

نماز کی مداومت اور محافظت سے مراد یہ ہے کہ نماز اس طرح پوری زندگی کا مستقل وظیفہ اور شعار بن جائے جس طرح شبانہ روز مصروفیات میں آرام نہ کرنے اور کھانا نہ کھانے کا تصور محال ہے اس طرح ترکِ نماز کا تصور بھی خارج از امکان ہو جائے۔

ثانیاً : اقامت صلوٰۃ کے حکم کا معنی یہ ہے کہ نماز کو تمام تر ظاہری اور باطنی آداب ملحوظ رکھتے ہوئے ادا کیا جائے کیونکہ صرف ظاہری آداب سے نماز ادا تو ہو جائے گی لیکن باطنی آداب کی عدم موجودگی سے نماز کے مطلوبہ اثرات انسانی زندگی پر مرتب نہیں ہو پائیں گے۔

ثالثاً : نماز قائم کرنے کا مفہوم یہ بھی ہے کہ پورے معاشرے میں نظام صلوٰۃ برپا ہو جائے اور اس کے ذریعے ہر شعبہ زندگی کو ایسے ہمہ گیر انقلاب سے آشنا کیا جائے کہ معاشرے کی ہمہ جہت ترقی، اصلاح احوال اور فلاح دارین کے مقاصد پورے ہوتے رہیں۔

واللہ اعلم بالصواب –

 

Comments
Loading...