آپ اپنے بیٹے کو مخاطب کرتے ہوئے نصیحت کرتے ہیں کہ اے بیٹے میں تمہیں یہ وصیت بھی کرتا ہوں کہ
اغنیاء کے ساتھ تم بھی بطور ایک غنی اور پروقار بن کر رہنا جبکہ فقراء کے ساتھ عاجزی اور تواضع سے رہنا۔
_
ہر عمل میں اخلاص کو مضبوطی سے تھامنا اور وہ یہ ہے کہ ریاکاری کو بھلا دینا۔ ہمیشہ خدا تعالیٰ کی رویت اور اس کی رضا کے لئے عمل کرنا۔
_
اسباب کے حوالے سے کبھی خدا تعالیٰ کی ذات میں شک و شبہ نہ کرنا بلکہ ہر معاملہ میں خدا تعالیٰ کی ذات کے ساتھ قائم رہو۔
_
اپنی حاجتوں کو کسی شخص کے سامنے نہ رکھنا، چاہے اس کے اور تمہارے بیچ محبت، مودت اور قرابت دوستی کا تعلق ہی کیوں نہ ہو۔
_
فقراء کی خدمت کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ فقراء کے معاملہ میں تین چیزوں کی پابندی لازمی ہے: تواضع انکساری، حسن آداب، سخاوت نفس۔
_
اپنے نفس کی ریاضت میں دوام پیدا کر حتی کہ وہ زندہ ہوجائے۔
_
مخلوق میں سے خدا تعالیٰ کے سب سے زیادہ نزدیک وہ شخص ہے جو اخلاق میں سب سے زیادہ عمدہ اخلاق کا مالک ہے۔
_
تمام اعمال میں سب سے زیادہ افضل عمل ایسی چیز میں التفات سے بچنا ہے جو خدا تعالیٰ کو اذیت دے یعنی اس کی ناراضگی کا سبب بنے۔
_
جب فقراء کو خواہشات آلیں تو تم ان سے کنارہ کشی کرنا کیونکہ حقیقی فقیر خدا تعالیٰ کی ذات کے سواء ہر چیز سے مستغنی ہوتا ہے۔