سکون اور خواہش

( ڈاکٹر اظہر وحید ) 


سکون اور خواہش میں وہی فرق ہے جو صحت اور بیماری میں ہوتا ہے۔ جس طرح صحت‘ بیماری کی عدم موجودگی کا نام ہے‘ اس طرح سکون خواہش کے نہ ہونے کا نام ہے۔ خواہش جب دل میں وارد ہوتی ہے تو سب سے پہلے سکون کا خون کرتی ہے۔ خواہش سکون کی غارت گر ہے۔ سکون کا جائے مقام قلب ہے ، ذہن اور افکار نہیں۔ پُرسکون ہونا اگر ذہن کے رہین ِ منت ہوتا ٗ تو دنیا کا ہر ذہین و فطین آدمی سکون سے پُر ہوتا۔ دل کے عجائبات عجب ہیں …کہ ورائے عقل ہیں … عقل کا یہی کام ہے کہ دل پر حیران ہوئی چلی جائے۔ دل اپنی وسعت کے باب میں ایسا وسیع و بسیط کہ پوری کائنات کو ایک نقطے کی طرح اپنے اندر سمولے ، لیکن یہی دل اپنے اندر ایک وقت میں ایک سے زیادہ تمناؤں کو جگہ نہیں دیتا۔ سکون کی تمنا ہو تو دیگر تمناؤں کو دل سے رخصت کرنا ہوتا ہے۔ 

خواہش اور تمنا میں فرق ہے، خواہش مادّی اشیا و واقعات کی ہوتی ہے۔ تمنا غیر مادّی بھی ہو سکتی ہے، تمنا میں ذاتی مفاد نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ تمنا اور آرزو اپنی اصل میں صفات کی بجائے کسی ذات کے حوالے سے دل میں جگہ پانے والا جذبہ ہے۔ خواہش ذاتی سطح کی چیز ہے اور تمنا کی سطح آفاقی ہے۔ مثلاً ہم کہہ سکتے ہیں ٗ ہماری تمنا ہے کہ ہمارا ملک ترقی کرے ، ہمارے لوگ خوش اور خوشحال ہوں، تعلیم ، تہذیب اور شائستگی سے آراستہ ہوں… یہ خواہش نہیں ٗ تمنا ہے ، کیونکہ اس میں ذاتی مفاد اور فوری فائدہ شامل نہیں۔ اس کے برعکس اپنی یا محض اپنے بچوں کی خوشحالی کی تدبیریں سوچنا خواہش کے دائرے میں داخل ہے۔ تمنا کسی عمل میں شامل ہوکر وقت اور وسائل کی قربانی دینے پر آمادہ کرتی ہے، جبکہ خواہش وسائل پر قبضہ کرنے کا راستہ سجھاتی ہے۔ سکون کیلئے اپنی خواہشات کی اَز خودکٹوتی کرنا ہوتی ہے۔ ہمیں بظاہر نیک نظر آنے والی اپنی تمناؤں اور آرزوؤں کی اصلاح بھی کرواتے رہنا چاہیے… اس کیلئے کسی بے آرزو کے سامنے خود کو پیش کرنا لازم ہے۔

تمنا ایک روحانی کلیہ ہے اور روحانی کلیے سے کما حقہ ٗمستفید ہونے کیلئے روحانی نظام میں داخل ہونا ہوتا ہے۔ روحانی نظام کسی خود ساختہ مقصد کے حصول کی نفی کرتا ہے، یہ نظام اَمر اور صاحبِ اَمر کے تحت زندگی گزارنے کا نام ہے۔ یہاں نیکی اور اصلاح بھی کتاب سے پڑھ کر نہیں کی جاتی ہے، کیونکہ کتاب سے اُٹھائی ہوئی نیکی انسان کے نفس کی داستان بھی ہو سکتی ہے… وہ نیکی کے نام پر اپنے نفس کی آسائش ، آرائش اور زیبائش کا کام کر سکتا ہے۔ تزکیۂ نفس سے عاری نفوس جب نیکی کے نام پر اکٹھا ہوتے ہیں تو کچھ ہی عرصے بعد سیاست اور طاقت میں لت پت ہو جاتے ہیں۔ نیکی کی خواہش ٗ خواہش کی نیکی بن جاتی ہے۔


سکون کا خواہشمند سمجھتا ہے کہ وہ وسائل پر قبضہ کرنے سے سکون حاصل کر لے گا۔ دراں حالیکہ سکون قبضہ چھوڑنے سے حاصل ہوتا ہے … سارے مسائل ٗوسائل پر قبٖضہ کرنے سے شروع ہوتے ہیں۔ جمع شدہ اثاثے تقسیم کر دیے جائیں تو سکونِ خاطر جمع ہونے لگتا ہے۔ محبت کی طرح سکون بھی دینے والی چیز ہے‘ لینے اور وصول کرنے والی نہیں۔ خواہش کا کوئی سفر سکون کے جزیرے کی طرف نہیں جاتا۔ خواہش کے اَلاؤ میں سب سے پہلے سکون ہی جھونکا جاتا ہے۔ سکون کی ساری داستان انسان کے دامن سے وابستہ ہے… اور انسان ہے کہ اسے اشیا میں تلاش کرتا ہوا اِنسانوں سے دُور نکل جاتا ہے۔ 

مال و منصب کی دوڑ سکون سے محروم کر دیتی ہے۔ معاشرے میں رکھ رکھاؤ اور ناک اونچا رکھنے کی جملہ خواہشات سب سے پہلے انسان کے سکون پر کلہاڑا چلاتی ہیں۔خواہش کا مسافر ہجوم کے ساتھ بہہ جانے والے ایک بے سمت جلوس کا نعرہ باز ہوتاہے، جبکہ سکون اِس جلوس سے علیحدہ ہونے سے ملتا ہے۔ ہجوم کا حصہ بننے سے سماعتوں میں شور دَر آتا ہے۔ شعور کی دولت‘ طلب کے ٹلہ جوگیاں پر سکون کے آسن بیٹھنے سے ہاتھ آتی ہے۔ جو دولت انسان کے اندر ہے ٗ اسے باہر ڈھونڈنے میں وقت کے ضیاع کے علاوہ اور کیا مل سکتا ہے۔ جب انسان باہر کے ہنگاموں سے تنگ آکر اپنے اندر کی بیٹھک میں چند لمحے کیلئے بیٹھتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کتنا وقت ضائع کر دیا ہے … اس نے انمول وقت کو بے مول چیزوں کے عوض کس بے دردی سے لٹا دیا ہے۔ 
سکون سے محروم پریشان خیال انسان کسی بھی قسم کے تخلیقی جوہر سے محروم ہوتا ہے۔ باہر کے دھماکوں سے اندر کا سکون بلاسٹ نہیں ہوتا لیکن اگراندر بے چینی کے زلزلے رونما ہو رہے ہوں تو باہر کے مراقبہ ہال بھی فائدہ نہیں دیتے۔ 

سکون کا کلیہ قناعت ہے۔ قناعت سے محروم ٗسکون سے محروم ہے۔ چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں۔ قناعت کی ضد لالچ ہے۔ لالچ میں مبتلا آدمی قدم قدم پر دھوکے کھائے گا۔ قناعت صرف مال و اسباب ہی کے حساب میں نہیں ٗ بلکہ مقاصد و اہداف کے باب میں بھی ہونی چاہیے ۔ قناعت اپنے حاصل پر احساسِ اعتماد کا نام ہے۔ قناعت کو دولت کہا گیا ہے … قناعت ایسی دولت ہے ٗجو دولت سے بے نیاز کرتی ہے۔ قانع انسان بہت زیادہ aimbitious یعنی مقصد پرست نہیں ہوتا۔ مقصد پرستی انسان کو خود پرستی میں مشغول کر دیتی ہے۔ قناعت کے بغیر حال بے کیف رہتا ہے۔
جب تک تہذیبِِ نفس میسر نہ ہو ‘ انسان ضرورت اور خواہش میں فرق نہیں کر سکتا… وہ اپنی ہر خواہش کو بنیادی ضرورت سمجھتا ہے۔ جب تک تزکیہ نفس نہ ہو‘ انسان تمنا اور خواہش میں بھی فرق روا نہیں رکھ سکتا۔ بالعموم وہ اپنی خواہش کو کسی اِجتما عی تمنا کے پردے میں چھپا لیتا ہے۔ اصلاحِ معاشرہ کے پردے میں نہ معلوم کتنے لوگوں کی اَنا توجہ کی بھیک مانگ رہی ہے۔چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں۔ قناعت کی ضد لالچ ہے۔ لالچ کا شکار ہر جگہ شکار ہوگا۔ سب سے بڑا دھوکہ باز ہمیں مقام اور مرتبے کے سبز باغ دکھا کر لال پیلا ہونے پر مجبور کرتا ہے۔ نفس اپنے پینترے بدل لیتا ہے۔ کبھی یہ اصلاحِ معاشرہ کے بہروپ میں خود کو مصلح کے روپ میں دیکھتا ہے ، کبھی یہ اپنے لیے حصولِ طاقت و منصب ٗبرائے قیام نظامِ عدل کا جواز تلاش کر لیتا ہے۔ کسی نظام کے قیام کا سحر انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مفلوج کر دیتا ہے۔ کسی اصلاحی نظام کا داعیہ اسے داعی بننے پر مجبور کردیتا ہے اور یہیں سے بحر و برّ میں فساد رُونما ہو جاتا ہے… یہ فساد دراصل باطن میں رونما ہوتا ہے اور انجامِ کار ظاہر میں وقوع پذیر ہوجاتا ہے!! بہرطور لالچ نفس کی ایک تحریک ہے اور نفس کے لچکیلے ناگ کے روپ رنگ رنگ ہیں۔ نفس جب تک کسی دَر پر سرِ تسلیم خم نہ کر لے اس کی کچلی‘ کچلی نہیں جاسکتی۔

جاہ و منصب کی لالچ کبھی برادری اور خاندان کا شملہ اونچا رکھنے کا عزم لے کر آن وارد ہوتی ہے… ایسے میں نفس عصبیت کو عزت سے تعبیر کرے گا۔ ایسی جملہ مشغولیات انسان کو سکون سے محروم کرنےکا باعث ہوتی ہیں۔ اپنی قوم کو قوموں کی برادری میں بلند رکھنے کی خواہش ایک حد سے نکلتی ہے تو فساد فی الارض کا باعث بنتی ہے۔ اپنے نظریۂ حیات کو دوسری قوموں پر مسلط کرنے کی خواہش ٗجوع الارض بن جاتی ہے۔ تبلیغ خواہ دین ہی کی کیوں نہ ہو ‘ جب کردار کے دائرے سے نکل کر طاقت کے دائرے میں قدم رکھتی ہے تو اپنی اخلاقی طاقت کھو بیٹھتی ہے۔ ایسی صورت میں صورتِ حال اور بھی تشویشناک ہوجاتی ہے ٗجب مبلغ کی دعوت اور دعویٰ بھی کسی اخلاقی نظام کا قیام ہو ۔امن اور سکون کے نام پر افراتفری پیدا کرنا انقلاب نہیں کہلاتا۔ انقلاب قلب کے منقلب ہونےکا نام ہے…قالب کو زیرِ نگیں کرنے کا نام ہے۔ آج تک کسی طاقت نے مخلوق کے قلوب فتح نہیں کیے۔ خواہش قدم قدم پر طاقت کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔

سکون خواہش کو ساکن کرنے کا نام ہے۔ سکون کی سوکن خواہش ہے۔ خواہش کے روپ نت نئے ہیں، بےانت ہیں۔ لالچ کا ایک ماڈرن نام ایمبیشن ambition ہے۔ ambition کا لفظی مطلب شدید ترین خواہش ہے۔ اپنے خود ساختہ مقصد کے حصول کی خواہش میں شدت انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں نگل لیتی ہے۔دیکھنے میں ایک اچھا بھلا‘ بھلا مانس اپنے لیے ایک مقصد کا پھریرا بناتا ہے اور پھر اس مقصد کی توجیہہ تراشتا ہے… اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنے خودساختہ مقصد کے حصول کیلئے امکانات کے جنگل میں کسی ٹارزن کی طرح بھاگنا شروع کر دیتا ہے…وہ اپنے راستے میں نظر آنے والی تہذیب ، تفکر اور تدبر کی ہر وادی کو نظر انداز کرتا ہوا بگٹٹ بھاگتا چلا جاتا ہے ، یہاںتک کہ اس بھاگ دوڑ میں اسے بے سمت جذبوں کا ایک لاؤ لشکر مل جاتا ہے اور دم ِ واپسیں وہ اُن تمام وادیوں کو تاراج کرنے کیلئے نکل کھڑا ہوتا ہے جو کبھی اُس کے راستے میں مزاحم ہوئی ہوں۔ اُسے روحانیت اور تعلیم و تہذیب کے اسباق صرف بطور اوزار اور ہتھیار چاہیے ہوتے ہیں، یعنی تہذیب ِ نفس اس کا مقصد نہیں بلکہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کیلیے بہت سے ذرائع میں سے محض ایک ذریعہ ہے۔ ظاہر ہے جب مقصد حاصل ہو جاتا ہے تواس مقصد کیلئے اختیار کیے گئے ذریعے کی ضرورت نہیں رہتی۔ چھت پر پہنچنے کے بعد سیڑھیوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس لیےاب وہ کسی بھی قسم کی اخلاقی و روحانی ہدایت کی ضرورت سے بے نیاز ہو جاتاہے، کیونکہ کوئی ذریعہ کسی مقصد پر فائق نہیں ہو سکتا… مقصد ترجیح اوّل ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے اختیار کیے گئے ذریعہ ترجیح دوم… اور ترجیح دوم کبھی ترجیح اوّل کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔


خیر کے کام میں اگر خواہش شامل ہو جائے تو اس میں شر پیدا ہونے کا اِمکان پیداہو جاتا ہے۔ اگرچہ سر راہ آویزاں بورڈ اور بینر خیر کے نعروں سے مزین ہوتے ہیں ٗ لیکن درونِ خانہ شر انگیزیاں پنپ رہی ہوتی ہیں۔ سکون… سراسر خیر اور سلامتی ہے… خیر میں سکون ہے اور سکون میں خیر !! سکون کا راستہ ہماری خواہشات کے راستے سے یکسر جدا راستہ ہے۔ اگر معاشرے میں سکون ، اَمن اور سلامتی عام کرنے کی تمنا ہو تو سب سے پہلے اِس سکون کا اپنے گھر میں سکونت پذیر ہونا ضروری ہے… اِس گھر کا ایک نام دِل بھی ہے۔ کوئی شخص معاشرے کو وہ چیز نہیں دے سکتا جو اُس کے پاس موجود نہ ہو۔ سکون کے نام پر سکون برباد کرنے کی وبا بہت پرانی ہے۔ اِصلاح کے نام پر فساد پیدا کرنے کی بیماری بھی پرانی ہے۔ معاشرے میں اِصلاح کا کام ہماری خواہش کے مطابق نہیں ہو سکتا ۔ 


(روزنامہ “نئی بات” میں ہفتہ وار کالم “عکسِ خیال” )