آج ساری دنیا میں نماز روزہ زکوٰة اور دیگر احکام اسلام کی اشاعت اور پابندی کے لئے اللہ کے کچھ بندے کوشاں بھی ہیں اور عامل بھی مگر اس کے باوجود امت کے اندر ایک بڑا طبقہ وہ بھی ہے جو یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی دین سے نہ صرف دور بلکہ کافی حد تک بیزار نظر آتا ہے۔ امت کا طبقہ وہ بھی ہے جس نے صرف عقائد اور عبادت کو دین سمجھ لیا اور اپنے نجات اسی میں منحصر سمجھی اور ایک طبقہ نے ایک قدم اور آگے رکھ کر معاملات کو بھی اس میں ملا لیا ،پھر کچھ لوگوں نے اخلاقیات کی اصلاح بھی ضروری سمجھی۔ مگر ایک جز ایسا ہے جو اگر یہ کہا جائے کہ ان سب کو عملی جامہ پہنانے کی بنیاد ہے تو شاید جھوٹ نہ ہوگا ،وہ ہے معاشرہ کی اصلاح ،ہر طرف سے ایک چیخ وپکارہے ایک وا ویلا ہے ایک دوسرے کی نفرت ہو رہی ہے بھائی بھائی کا دشمن، پڑوسی پڑوسی سے نالاں ،استاد شاگر سے پریشان، ماں بیٹی پر خفا،ذات پات کی اونچ نیچ،اس تقسیم اور بگاڑ کے جہاں اور سبب ہیں ان میں ایک بڑا سبب یہ سوءمعاشرہ ہے کیونکہ اس سے ایک کو دوسرے سے کدروت وانقباض ہو تا ہے انبساط وانشراح کا اعظم مدار ہے۔
قرآن نے اس اونچ نیچ کو یہ کہہ کر قلع قمع کیا تھا ”کہ تم میں معزز وہ ہے جو اللہ کے نزدیک متقی ہو“اور ایک دوسرے پر مہربانی کا یہ درس دیا تھا کہ اگر تم کسی مجلس میں بیٹھے ہو بظاہر آنے والے کے لئے کوئی جگہ نہ بھی ہو تب بھی اپنے کو ایسی حرکت دو جس سے کشادگی پیدا ہو جائے۔ معاشرہ کو سلامت رکھنے کے لئے اسلام نے کتنا پیارا درس دیا قرآن پاک کی سورۃنور میں فرمایا” کہ جب تم کسی دوسرے کے گھر میں جانے لگو(گو اس میں صرف مردہی رہتے ہوں)تو اجازت لئے بغیر مت داخل ہو “اس میں اپنے ہم جلیسوں کی کتنی رعایت رکھی گئی ہے اور یہ اصول صرف مسلمان کے گھر میں داخل ہونے کے لئے ہی نہیں بلکہ اگر کبھی اپنے کسی غیر مسلم کے گھر میں بھی جانے کی ضرورت پڑی تو اس کی اجازت کے بغیر اس کے گھر میں بھی مت داخل ہونا ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب دوآدمی ساتھ کھارہے ہو ں تو دوچھوارے ایک ساتھ مت اٹھانا (چھوارے تو مثال کے لئے بتائے ہیں مراد ہر وہ پھل جس کو بندہ کئی ایک ساتھ اٹھا سکتا ہے)یہاں تک کہ اپنے ساتھی سے اجازت نہ لے۔
دیکھئے اس میں نہایت خفیف امر سے محض اس وجہ سے کہ کسی کو ناگوار گذرے گا ممانعت فرما دی۔ اسی طرح رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے لہسن پیاز کھایا ہو وہ ہم سے یعنی ہمارے مجمع سے الگ رہے۔ یہ اس وجہ سے کہ کہیں اس کی بد بو سے کسی کو تکلیف نہ ہو،یہی وجہ ہے کہ لہسن پیاز کھاکر مسجد میں آنا منع فرمایا ہے۔ یہاں میرے وہ بھائی جو بیڑا سگریٹ پینے کے عادی ہوتے ہیں بیڑا سگریٹ پیتے پیتے مسجد کے گیٹ تک آتے ہیں اور گیٹ پر پھینک کر اندر داخل ہوتے ہیں ،جو کہ ایک سنگین غلطی ہے اس کو دور کرنا چاہیے۔ اسی طرح کچھ لوگ مجلس کے اندر بیڑا سگریٹ پینا شروع کردیتے ہیں جبکہ مجلس میں وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جن کو اس سے تکلیف ہوتی ہے اور یہ پینے والا ایذائے مسلم کے جرم کا مرتکب ہوتا ہے اور اپنے کو بڑا ہوشیار اور مہذب سمجھتا ہے جبکہ یہ مجلس کے آداب کے خلاف ہے یہ بیٹھنے والا اس سے بدظن ہو کر باہر آکر اس کی برائی کرے گا کچھ اور لوگ اس کی اس حرکت سے متنفر ہوں گے اور معاشرہ بگاڑ کی راہ پر چل پڑے گا ،رسول اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہمان کو اتنی دیر قیام نہیں کرنا چاہے کہ جس سے میزبان تنگ پڑ جائے۔ اسی طرح ہمارے پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کئی لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر کھارہے ہوں اگر تمہارا پیٹ جلدی بھر جائے تو اپنا ہاتھ مت کھینچو،کیونکہ اس سے دوسرا ساتھی شرم کی وجہ سے ہاتھ روک لے گا جبکہ ابھی اس کا پیٹ نہیں بھرا ہے۔اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ایسا کا م نہیں کرنا چاہے جس سے کسی کو شرم آ جائے اس طرح جب کوئی کوئی بات پوچھے صاف کہے بعض آدمیوں کو عادت ہوتی ہے کہ بلا وجہ کسی کو آدھی بات سنا کر پریشان کرتے ہیں ،ایک مرتبہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ در رسالت پر تشریف لائے دروازہ کھٹکایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون انہوں نے جواب دیا میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں میں کیا ہوتا ہے ،یعنی اپنا نام صاف بتانا چاہے تھا اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو الجھن میں نہیں ڈالنا چاہے۔ اسی طرح ایسے دوشخصوں کے درمیان میں نہیں بیٹھنا چاہے جو قصداًالگ بیٹھے ہوں ممکن ہے وہ کوئی ایسی بات کررہے ہوں جس کو دوسروں سے مخفی رکھنا چاہتے ہوں ،ہاں باپ کو بیٹے کی استاد کو شاگرد کی،حاکم کو محکوم کی اصلاح مقصود ہوتی ہے اس لئے وہ ان کی مخفی باتوں پر بھی بغرض اصلاح نظر رکھ بھی سکتے ہیں اور رکھنی بھی چاہے۔ ورنہ یہی اولاد آگے چل کر جب برے ماحول اور معاشرہ میں قدم رکھتی ہے تو پھر سنبھالنا مشکل ہو تا ہے

حدیث پاک میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھینک آتی تو اپنے منہ کو ہاتھ یا کپڑے سے چھپالیتے اور آواز کو پست فرماتے ،اس سے یہ معلوم ہوا کہ مجلس میں اتنی زور سے بھی آواز نہیں اٹھا نی چاہے کہ جس سے دوسروں کو اذیت پہنچے۔ ابتدائے اسلام میں جمعہ کے دن غسل کر نا واجب تھا بعد میں یہ وجوب منسوخ ہو گیا۔ مگر مسنون اب بھی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ جمعہ کے دن عام طور پر بھیڑ ہوتی ہے اگر لوگ یوں ہی میلے کچیلے کپڑوں میں آئے جن میں بد بو ہو تو لوگوں کو تکلیف ہو گی اس لئے حکم ہوا کہ غسل کر کے آیا کرو۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ شب برات کی رات حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آہستہ سے اٹھے اس خیال سے کہ عائشہ جاگ جائے اور پریشان ہو آہستہ سے نعلین مبارک پہنی ،دروازہ آہستہ سے کھولا بند کیا اور باہر تشریف لے گئے اس میں سونے والے کی اتنی احتیاط کی گئی کہ جاگ کر پریشان نہ ہو جائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو عورتوں کو لا یا گیا جن میں سے ایک نفلی نماز اور روزہ کثرت سے رکھتی تھی مگر اپنے پڑوسیوں کو ستاتی تھی۔اور دوسری نفلی نماز اورروزہ تو کم رکھتی تھی مگر ہمسائیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتی تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی کو دوزخی اور دوسری کو جنتی فرمایا۔ ان تما م روایات اور واقعات سے معلوم ہو گیا کہ معاشرہ کی اصلاح کتنی ضروری ہے اس میں عوام تو بکثرت اور خواص بھی کم وبیش مبتلا ہے لہذا تحریروتقریر اور اپنے عمل کے ذریعہ سے معاشرہ کے سدھار کے لئے بے حد کوشش ضروری ہے ،میں یہاں پر کچھ اداب تحریر کرتا ہوں شاید کہ راقم اور قاری کو اس سے کچھ فائدہ حاصل ہو۔
1.

جب کسی کے پاس ملنے یا کچھ کہنے کے لئے جاو اور اس کو کسی کام میں مشغول پاو،مثلا قرآن کی تلاوت کر رہا ہے یا کوئی طالب علم اپنا سبق یاد کر رہا ہے یا سٹڈی کر رہا ہے ،یا قصداًتنہائی میں بیٹھا ہے یا سو رہا ہے یا حالات سے معلوم ہو جائے کہ یہ شخص اس وقت کسی سے ملنا نہیں چاہتا تو زبردستی سلام یا کلام کر کے اس کو اپنی طرف متوجہ نہ کرو بلکہ واپس چلے جاو پھر کبھی آو اوراگر کوئی ضروری ہی کام ہو جو ابھی ہونا ضروری ہے تو پہلے ان سے وقت مانگ لو اور بتاو مجھے اتنا وقت چاہے ،مگر اس میں بعض لوگ اور غلطی کر جاتے ہیں اجازت مانگے گے دو منٹ کی اور وقت لیں گے ایک گھنٹہ جس سے مخاطب کو تکلیف ہوتی ہے ،جب وقت ملے تو اپنی بات جو دومنٹ میں ختم کرنی تھی ڈیڑ ھ منٹ میں ہی ختم کرلو اور واپس چل پڑو۔
2.

جب ک۱سی کے انتظار میں بیٹھنا ہو تو اس طورپر مت بیٹھو کہ زبردستی اس کو اپنی طرف مخاطب کرو یا ایسی حرکت مت کرو جس سے اس کو یہ لگے کہ یہ میری انتطارمیں ہے جب یہ اپنے کام سے فاراغ ہو جائے تب ان سے جاکر ملو۔
3.

مصافحہ ایسے وقت مت کرو جب کہ دوسرا کسی ایسے کام میں مشغول ہو کہ اس کو آپ سے مصافحہ کرنے کے لئے ہاتھوں کو خالی کرنا پڑے ،مثلاً وہ گارے مٹی کا کام کر رہا تھا اور آپ نے جاکرجھٹ سے سلام کر کے ہاتھ بڑھا دیے اب اس کو صرف آپ سے مصافحہ کرنے کے لئے ہاتھو ں کو صاف کرنا اور دھونا پڑے گا جس سے اس کے کام کا حرج ہو گا۔

4.

بعض آدمی صاف بات نہیں کہتے بلکہ تکلف کے کنایات استعمال کرتے ہیں اور اسی کو ادب سمجھتے ہیں اس سے فی الحال یا فی الماٰل پریشانی ہوتی ہے اس لئے بات صاف اور واضح کرنی چاہیے اس سے وقت بھی بچتا ہے اور پریشانی بھی نہیں ہوتی۔

5.

بعضے آدمی چپ چاپ آکر پشت کے پیچھے بیٹھ جاتے ہیں اور مخاطب کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ اس کے پیچھے کوئی بیٹھا ہے یہ مجلس کی خیانت ہے۔
6.

بعض آدمی مسجد میں ایسی جگہ نیت باندھ لیتے ہیں کہ گذرنے والوں کا راستہ بند کر لیتے ہیں مثلا دوازے کے سامنے یا بالکل دیوار سے مل کر کہ گذرنے والا سامنے سے تو گذر نہیں سکتا اگر گھوم کر آتا تب بھی اس کی پشت سے جانے کا راستہ نہیں ہے اب یا تو گناہ کر کے سامنے سے گذرے گا اور یا پھر بلا وجہ اس کے انتظار میں اندر ہی اندرکڑھتا رہے گا۔
7.

کسی کے پاس جاو تو سلام کر کے یا کلام کر کے سامنے آکر اپنے آنے کی اطلاع دو اور یہ ایسی جگہ ہے جہاں عام طور پر آیا جاتا ہے مثلاً مسجد خانقاہ وغیرہ ورنہ گھر میں تو بغیر اجازت کے داخل ہونا ہی منع ہے ،اگر مجلس میں بغیر اطلاع کے آکر بیٹھ گئے تو ممکن ہے کہ وہ آپ سے کوئی بات پوشیدہ رکھنا چاہتے تھے مگر آپ دھوکہ سے اس پر مطلع ہو گے ہاں کسی کو ضرر پہنچانے کی بات ہو رہی ہو تو اس کو ہر طرح سننا درست ہے تاکہ اس کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔
8.

کسی ایسے شخص سے کوئی ایسی چیز مت مانگو کہ جس کے بارے میں معلوم ہو کہ یہ دے گا نہیں مگر مجھے انکار بھی نہیں کرسکتا اگر چہ یہ مانگنا قرض ہی کیوں نہ ہو ،آپ کے لحاظ میں آکر وہ مجبور ہو گا اسی طرح کسی کی سفارش بھی مت کرو جہان لگتا ہو کہ یہ میرے سامنے شرما حضوری میں یہ کام کرے گا مگر یہ کام کرنا نہیں چاہتا ایسی کاموں میں آج کل بہت بے احتیاطی ہو رہی ہے۔
9.

اگر کسی بزرگ کا یا استاد کایا اپنے باپ کا جوتا اٹھانا ہو تو جب وہ جوتا نکال لے تب اٹھاو اس کی طرف جھپٹو مت کہیں اس کو تم سے تکلیف نہ پہنچے۔
10.

کسی کے پاس بیٹھنا ہو تو نہ اس قدر مل کر بیٹھو کہ اس کا دل گھبرا جائے اور نہ اتنا دور بیٹھو کہ اس کو آپ کی بات سمجھ میں نہ آئے۔