Owais Razvi Qadri Siddiqui
Sufi Singer

سائنس چاند کے بارے میں کیا کہتی ہے

309

ایک دفعہ ایک صاحب ہمارے پاس آ گئے اور کہنے لگے: جی! آپ تو سائنس پڑھے ہوئے ہیں، انجینئر ہیں، آپ بھی ان پڑھ والی باتیں کرتے ہیں، میں نے پوچھا: کیا مطلب؟ کہنے لگے: آپ تو سائنس جانتے ہیں اور آپ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم چاند دیکھ کر روزہ رکھیں گے اور چاند دیکھ کر روزہ کھولیں گے، یعنی عید منائیں گے، کئی دفعہ آسمان پر بادل بھی ہوتے ہیں، کبھی نظر نہیں بھی آتا، اس لیے سائنس سے فائدہ اٹھانا چاہیے. خیر! ہم نے اس بندے کو جو جواب دینا تھا وہ اسے دیا، لیکن پھر ہم نے اس کے بعد اس کی تحقیق شروع کر دی کہ سائنس اس کے بارے میں کیا کہتی ہے۔امریکہ میں سپیس (خلاء) کے بارے میں ایک میوزیم ہے، وہاں پر ہر وقت بتایا جاتا ہے کہ خلاء میں کیا ہو رہا ہے، ایک ریڈیو سٹیشن ہی ایسا ہے کہ آپ وہاں فون کریں تو آپ کو ہر وقت وہاں پر یہ خبریں سنائی دے رہی ہوں گی کہ اب … مشتری میں یہ ہو رہا ہے…. عطارد میں یہ ہو رہا ہے…. سورج میں یہ ہو رہا ہے…. چاند میں یہ ہو رہا ہے.جو کچھ اوپر کی دنیا میں ہو رہا ہوتا ہے اس کے بارے میں معلومات بتائی جاتی ہیں۔

Image result for moon

آج چاند کس کس جگہ پر نظر آئے گا اور کس کس جگہ پر نظر نہیں آئے گا، وہ بتاتے ہیں، ہم نے ان سے پوچھا: آج چاند کہاں کہاں نظر آئے گا؟ انہوں نے کہا: فلاں فلاں جگہ پر نظر آئے گا، ہم نے پوچھا: آپ کی یہ بات پکی ہے یا اندازے پرمبنی ہے؟ جب ہم نے بات کو ذرا کھولنا چاہا تو وہ کہنے لگے کہ ہم سو فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتے، ہم نے پھر پوچھا: جناب! سو فیصد یقین کے ساتھ کون کہہ سکتا ہے، انہوں نے کہا: جی! آپ نیوی والوں سے رابطہ کریں، ان کا مستقل ایک ڈیپارٹمنٹ ہے اور ایک بڑا کمپیوٹر ان کے پاس ہے، وہ چاند کے مدار کے ایک ایک انچ کی پیمائش رکھتے ہیں، ان کو پکا پتہ ہوتا ہے کہ اس وقت چاند کہاں پہ ہے.ان سے نمبر لے کر میں نے خود فون کیا، وہاں اس کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ ایک خاتون تھی، اس سے میری بات ہوئی، میں نے کہا: میں فلاں علاقے میں ہوں اور معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ یہاں چاند نظر آئے گا یا نہیں نظر آئے گا، اس نے کمپیوٹر سے پتہ کرکے بتایا کہ صرف اتنے پرسنٹ چانس ہے، میں نے کہا: واہ! انسان تو چاند پر قدم ٹکا چکا ہے اور سائنس اتنی ترقی کر چکی ہے اور آپ کہہ رہی ہیں کہ صرف اتنے پرسنٹ چانس ہے نظر آنے کو، کوئی پکی بات کرو… جو سوال دوسرے لوگ ہم سے کہتے تھے ہم نے ہوبہو وہی سوال ان سے کر دیا کہ کوئی پکی بات بتاؤ، انسان تو چاند پر پہنچ چکا ہے اور ابھی بھی آپ یہ کہہ رہی ہیں کہ چانسز ہیں، جب اس عاجز نے کہا کہ کوئی پکی بات بتاؤ کہ چاند یقینی طور پر نظر آئے گا یا نہیں آئے گا، تو اس نے کہا کہ ہم یقین سے کبھی بھی نہیں کہہ سکتے، میں نے کہا: چاند پر چڑھ گئے اور یقین سے کہہ نہیں سکتے؟

Related image

کہنے لگیں: دراصل بات یہ ہے کہ اس کے درمیان کچھ مشکلات ہیں وہ مشکلات یہ ہیں کہ ہم جو چاند کی پوزیشن بتاتے ہیں وہ دیکھ کر نہیں بتاتے، حساب کی کچھ Equations مساواتیں ہیں، ہم ان سے جمع تفریق کرکے بتاتے ہیں کہ اب چاند یہاں ہو گا وہ جمع تفریق کا حساب اتنا پکا ہے کہ صحیح پوزیشن کا پتہ چلتاہے، اس کو Methematical simulator کہتے ہیں، میں نے کہا: جب آپ کے پاس ایسی مساواتیں ہیں جو پکا حساب بتا دیتی ہیں تو آپ بھی پکی بات کریں، کہنے لگی جی! بات یہ ہے کہ ان مساواتوں میں چھ ہزار پیرامیٹرز ایسے ہیں جو Variables (متغیرات) ہیں، ان میں سے کسی ایک کے بدلنے سے رزلٹ بدل سکتا ہے.میں نے پوچھا: آپ کا یہ بتانے کا مقصد کیا ہے؟ کہنے لگی: دنیا کا کوئی انسان کبھی بھی گارنٹی کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتا چاہے کتنا بڑا سائنسداں ہو کہ آج چاند کہاں اور کس جگہ پرہو گا، اس میں شبہ کی ہی گنجائش ہو گی، معلوم نہیں کہ ان چھ ہزار میں سے کوئی ایک پیرامیٹر بدل جائے اور چاند کی پوزیشن میں فرق آ جائے.میں نے اس کی بات سن کر کہا: الحمد للہ! صدق رسول اللہؐ اللہ کے محبوبؐ نے سچ فرمایا: ’’چاند دیکھ کر روزہ رکھ لو اور چاند کو دیکھو تو افطار کر لو‘‘.دنیا نے ٹھوکریں کھائیں، ریسرچ کی، سائنس کے پیچھے لگے رہے، بیسیوں سال کی محنت کے بعد بالآخر اس نتیجہ پر پہنچے کہ ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے.بھئی! یہ تو اب یہ بات کر رہے ہیں اور ہمارے محبوبؐ نے تو چودہ سو سال پہلے ہی یہ بتا دیا تھا۔

Comments
Loading...