Owais Razvi Qadri Siddiqui
Sufi Singer

#Islam Me #Parda

102

*اسلام میں پردہ*
*جیسے کہ فرمانے خداوندی ھے*
*اور نکاح کردو اپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہوں اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا اگر وہ فقیر ھوں تو اللہ انہیں غنی کردےگا اپنے فضل کے سبب اور اللہ وسعت والا علم والا ھے* مسلمان بیبیاں شریف اور عزت مآب ھوتی ہیں انکی عزت اور ناموس پاکدامنی شریعت مطہرہ میں بڑی دقیع اور متاع عزیز ھے اس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ھے کہ عورت پر حیاداری اور حفظ ناموس کی تاکید دوسرے بہت سے فرائض کی تکیمل پر مقدم رکھی گئ ھے اور عورت پر بہت سی قیود وحدود عائد کر کے حفاظت ناموس کا بندو بست کیا گیا ھے تاکہ انسان بہتر سے بہتر پاکیزہ سے پاکیزہ تر معاشرہ اور ماحول میں پلے بڑھے اور پروان چڑھے اور جسم وروح اور عقل وفراست ہر اعتبار سے پاک وصاف ھواور اسکا ظاہر وباطن ہر اعتبار سے مجلیٰ ومصفی رھے زندگی کی راہ گزر کو خواہ مخواہ سخت اور تنگ بنادینا نہ شریعت دستور ھے نہ یہ اسے پسند ھے اسلام جو دین فطرت ھے وہ معاشرہ کو پاکیزہ رکھنے اور بے حیائ سے بچانے کے لئے صرف وعظ ہی نہیں دیتا بلکہ وہ عملی تجاویز اور مشکلات کا صحیح حل پیش کرتا ھے آپ ذار غور فرمائیں کہ جس معا شرہ میں بن بیاہی عورتیں خواہ کنوری ہوں یہ مطلقہ یا بیوہ بکثرت موجود ھونگی وہاں جذبات کو کب قابو میں رکھا جا سکتا ھے بڑے تحفظ اور احتیاط کے باوجود شدت جذبات سے مجبور ومغلوب ھوکر وہ غلط قدم بھی اٹھا سکتی ہیں اور شیطان بڑی آسانی سے انہیں ورغلا کر گمراہ کر سکتا ھے بدکاری کا یہ بھی ایک دروازہ تھا جس کی طرف سے اگر اسلام اغماض کرتا تو اسے حقیقت پسندی نہ سمجھا جاتا چنانچہ اس آیت میں یہ حکم دیا جارھا ھے کہ مسلمان ایسے مردوں اور ایسی عورتوں کی طرف سے غفلت اور بے پرواہی نہ برتیں بلکہ انکا نکاح کرکے ان کو گھروں میں بسانا اپنا اخلاقی فرض سمجھیں اس طر ح ان کی حالت زار بد ل جائےگی ان کی حرماں نصیباں ختم ھوجائےگی اور دوسری طرف معاشرہ ان کی لغزش کے نتائج سے محفوظ رھے گا شریعت اسلامیہ میں نکاح بجائے خود ایک فضیلت کی چیز ھے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ھے اے نوجوانو تم میں سے جو کوئ نکاح کی استطاعت رکھتا وہ نکاح کرے کہ یہ اجنبی عورت کی طرف نظر کرنے سے روکنے والا شرم گاہ کی حفاظت کرنے والا ھے اور جس میں استطاعت نہیں وہ روزہ رکھے کہ روزہ شہوت کا قلع قمع کرتا ھے
*بخاری ومسلم* اور ایک حدیث میں آیا ھے جس نے نکاح کیا اس نے اپنا آدھا دین پورا کر لیا باقی آدھے میں اللہ سے ڈرے *طبرانی بہیقی*


اور ابو یعلٰی جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روای ھے کہ فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئ نکاح کرتا ھے کہ شیطان کہتا ھے ھائے افسوس ابن آدم نے اپنا دو تہائ دین بچالیا اور ایک روایت میں ھے کہ فرماتے ہیں جو مال اتنا مال رکھتا ھے کہ نکاح کرے اور پھر نکاح نہ کرے تو وہ ھم میں سے نہیں ھے ان احادیث کریمہ کا جملہ جملہ بتا رھا ھے کہ نکاح دین وایمان اخلاق و عادات کی حفاظت کا ایک مضبوط قلعہ ھے اور الفاظ کے عموم میں ہر وہ مردوعورت داخل ھے جو سر دست بے نکاح اور بے تجرد کی زندگی گزاررھا ھے جس کے اطلا ق میں کنواری مطلقہ اور بیوہ عورتیں بھی داخل ہیں اور سب کے لئے حکم ھے کہ وہ حقوق نکاح ادا کرنے پر قدرت رکھتے ہیں تو نکاح کو اپنا اخلاقی فرض تصور کریں بعض گھرانوِں میں نکاح بیوہ کو سخت ننگ وعار جانتے ہیں اور معاذاللہ حرام سے بھی بڑھکر اس سے پرہیز کرتے ہیں نوجوان لڑکی بیوہ ھوگئ اگرچہ شوہر کا اس نے منہ بھی نہ دیکھا ھو اب عمر بھر یونہی ذبح ھوتی رھے لیکن ممکن ھے کہ نکاح کا حرف بھی زبان پر لاسکے اور اگر ہزار میں ایک آدھ نے خوف خدا تر س روز جرا کرکے اپنا دین سنبھالنے کو نکاح کر بھی لیا تو اس پر چاروں طرف سے طعن وتشنیع کی بوچھار ھے بیچاری کو کسی مجلس میں جانا بلکہ اپنے کنبہ میں منہ دکھا نا دشوار ھے جو ایسا کرتے ہیں برا کرتے ہیں اور بیشک بہت برا کرتے ہیں کفار کے اتبا ع میں ایک بیہودہ رسم ٹھرا یعنی پھر اسکی بناء پر مباح شرعی پر اعتراض بلکہ بعض صورتوں میں واجب کی ادائگی سے اعراض کیسی جہالت اور نہایت خوفناک حالت ھے پھر حاجت والی عورتیں اگر روکی گئ اور معاذاللہ بشامت نفس کسی گناہ میں مبتلا ہوئیں اسکا وبال ان روکنے والوں پر پڑےگا کہ یہ اس گناہ کے باعث ھوئے رسول اللہ صل اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل توارتہ شریف میں فرماتا ھے جس کی بیٹی بارہ برس کی عمر کو پہنچے اور وہ اسکا نکاح نہ کرے اور یہ دختر گناہ میں مبتلا ھو تو اس کا گناہ اس شخص پر ھے *بہیقی*
*فی شعب الیمان* جب کنواری لڑکیوں کے بارے میں یہ حکم تو بیاہوں کا معاملہ تو اور بھی سخت ھے کہ دختران دوشیزہ کو حیا بھی زیادہ ھوتی ھے اور گناہ میں رسوائ و فضیحت اور بدنامی کا خوف بھی زائد اور ابھی اس لزت سے آگاہ بھی نہیں صرف ایک طبعی طور پر نا واقفانہ خطرات دل میں گزرتے ہیں اورجب آدمی کسی خواہش کا لطف ایک بار پاچکا تو اب اس کا تقاضا برنگ دگر ھوتا ھے اور ادھر نہ ایسی حیا نہ وہ خوف واندیشہ اللہ عزوجل مسلمانوں کو ہدایت بخشے آمین بجاہ النبی الامین صل اللہ علیہ وسلم
*العارض ابوالحسن محمد ریحان رضا صدیقی رضوی القادری*

Comments
Loading...