بدعت کیا ہے اور بدعت کی شرعی حیثیت


’’بدعت‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جو ’’بَدَعَ‘‘ سے مشتق ہے۔ اس کا معنی ہے : کسی سابقہ مادہ، اَصل، مثال، نمونہ یا وجود کے بغیر کوئی نئی چیز ایجاد کرنا؛ یعنی کسی شے کو عدمِ محض سے وجود میں لانے کو عربی زبان میں ’’اِبداع‘‘ کہتے ہیں۔
ابنِ حجر عسقلانی، بدعت کی لُغوی تعریف یوں کرتے ہیں :
البدعة أصلها : ما أحدث علی غير مثال سابق.
’’بدعت کی اصل یہ ہے کہ اسے بغیر کسی سابقہ نمونہ کے ایجاد کیا گیا ہو۔‘‘
ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، 4 : 253
قرآن مجید میں آنے والے بدعت کے مختلف مشتقات سے ان معانی کی توثیق ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب اس کائنات کو کسی مثال کے بغیر وجود عطا کیا تو لُغوی اعتبار سے یہ بھی ’’بدعت‘‘ کہلائی اور اس بدعت کا خالق خود اللہ تعالی ہے جو اپنی شانِ تخلیق بیان کرتے ہوئے اِرشاد فرماتا ہے :
بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَإِذَا قَضَى أَمْراً فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُO
’’وہی آسمانوں اور زمین کو (عدم سے) وجود میں لانے والا ہے اور جب وہ کسی چیز (کی اِیجاد) کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو پھر اس کو صرف یہی فرماتا ہے : تو ہو جا، پس وہ ہوجاتی ہےo‘‘
البقره، 2 : 117
اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہو گیا کہ ہر وہ نئی چیز بدعت کہلاتی ہے جس کی مثل اور نظیر پہلے سے موجود نہ ہو۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کوئی بھی کام (خواہ وہ نیک اور احسن ہی کیوں نہ ہو ) مثلاً اِیصال ثواب، میلاد اور دیگر سماجی، روحانی اور اخلاقی اُمور، اگر اُن پر قرآن و حدیث سے کوئی نص موجود نہ ہو تو بدعت اور مردود ہیں۔ یہ مفہوم سراسر غلط اور مبنی بر جہالت ہے کیونکہ اگر یہ معنی لیا جائے کہ جس کام کے کرنے کا حکم قرآن و سنت میں نہ ہو وہ حرام ہے تو پھر شریعت کے جملہ جائز امور کا حکم کیا ہوگا کیونکہ مباح تو کہتے ہی اسے ہیں جس کے کرنے کا شریعت میں حکم نہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ مردود فقط وہی عمل ہوگا جو نیا بھی ہو اور جس کی کوئی اصل، مثال یا دلیل بھی دین میں نہ ہو اور کسی جہت سے بھی تعلیماتِ دین سے ثابت نہ ہو۔ پس اس وضاحت کی روشنی میں کسی بھی بدعت کے گمراہی قرار پانے کے لئے دو شرائط کا ہونا لازمی ہے :
1۔ دین میں اس کی سرے سے کوئی اصل، مثال یا دلیل موجود نہ ہو۔
2۔ نہ صرف دین کے مخالف اور متضاد ہو بلکہ دین کی نفی کرے اور احکام سنت کو توڑے۔
ابنِ حجر عسقلانی رحمہ اﷲ علیہ بدعت کا اِصطلاحی مفہوم ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں 
’’محدثہ امور سے مراد ایسے نئے کام کا ایجاد کرنا ہے جس کی شریعت میں کوئی اصل موجود نہ ہو۔ اسی محدثہ کو اِصطلاحِ شرع میں ’’بدعت‘‘ کہتے ہیں۔ لہٰذا ایسے کسی کام کو بدعت نہیں کہا جائے گا جس کی اصل شریعت میں موجود ہو یا وہ اس پر دلالت کرے۔ شرعی اعتبار سے بدعت فقط بدعتِ مذمومہ کو کہتے ہیں لغوی بدعت کو نہیں۔ پس ہر وہ کام جو مثالِ سابق کے بغیر ایجاد کیا جائے اسے بدعت کہتے ہیں چاہے وہ بدعتِ حسنہ ہو یا بدعتِ سیئہ۔‘‘
ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، 13 : 253

مذکورہ بالا تعریفات سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ ہر وہ نیا کام جس کی کوئی شرعی دلیل، شرعی اصل، مثال یا نظیر پہلے سے کتاب و سنت اور آثارِ صحابہ میں موجود نہ ہو وہ ’’بدعت‘‘ ہے، لیکن ہر بدعت غیر پسندیدہ یا ناجائز و حرام نہیں ہوتی بلکہ صرف وہی بدعت ناجائز ہوگی جو کتاب و سنت کے واضح احکامات سے متصادم ہو۔
اِسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے، معروف غیر ُمقلد عالم دین نواب صدیق حسن خان بھوپالی لکھتے ہیں :
البدعة الضلالة المحرمة هی التی ترفع السنة مثلها، والتی لا ترفع شيئا منها فليست هی من البدعة، بل هی مباح الأصل.
’’بدعت ضلالہ جو کہ حرام ہے وہ ہے جس سے کوئی سنت چھوٹ جائے اور جس بدعت سے کوئی سنت نہ چھوٹے وہ بدعت نہیں ہے بلکہ اپنی اصل میں مباح ہے۔‘‘
وحيد الزمان، هدية المهدی : 117

بدعت کی دو قسمیں ہیں

(1) بدعت حسنہ (2) بدعت سیہ
اب ان دو اقسام پر روشنی ڈالتے ہیں
(1) بدعت حسنہ کی تعریف
ہر وہ طریقہ جو سرکار اعظمﷺ کے زمانہ میں نہ ہو ، بعد میں ایجاد ہوا ہو اور وہ کام شریعت کے خلاف نہ ہو جیسے نماز تراویح، جماعت کے ساتھ ادا کرنا، قرآن وحدیث کو سمجھنے کے لئے بہت سے دوسرے علوم و فنون پڑھنا اور سیکھنا، دینی مدارس قائم کرنا، قرآن مجید کے اعراب کا لگایا جانا، قرآن مجید پر غلاف چڑھانا، قرآن مجید کی اعلیٰ طباعت کے ساتھ شائع کرنا، مساجد میں محرابیں بنانا، مساجد کے بلند مینار تعمیر کروانا، جمعہ کے دن دو اذانیں دینا، دانے والی تسبیح پڑھنا وغیرہ وغیرہ

کتاب کشاف اصطلاحات الفنون جلد اول صفحہ 122 میں حضرت امام شافعی علیہ الرحمہ کے حوالے سے ہے کہ وہ بدعت جو کتاب اﷲ، سنت، اجماع یا اثر صحابہ کے خلاف نہ ہو تو یہ بدعت حسنہ ہے۔
بدعت حسنہ پر عمل کرنا باعث اجروثواب ہے
الحدیث۔۔۔ من سنن فی الاسلام سنۃ حسنۃ فلہ اجرہا واجرمن عمل بہا من غیر ان ینقص من اجورہم شئ
ترجمہ: جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کو اس کا ثواب ملے گا اور اس کا بھی جو اس پر عمل کریں گے اور ان کے ثواب میں کچھ کمی نہیں ہوگی (ابو داؤد شریف)
فائدہ: یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ہر وہ اچھا کام جو سرکار اعظمﷺ کے زمانہ اقدس میں نہ ہو، بعد میں ایجاد ہوا ہو اور شریعت کے مخالف نہ ہو تو ایسے کام کو اپنانا اور ایجاد کرنا دونوں باعث اجر ہیں۔
———————————————————————————–
الحدیث: ماراہ المسلمون حسنا فہو عنداﷲ حسن
ترجمہ: جس کام کو مسلمان اچھا جانیں وہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک اچھا ہے (موطا امام محمد باب قیام شہر رمضان ص 144)
———————————————————————————
علامہ بدرالدین عینی (عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری) علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ جو کام شریعت کے مخالف نہ ہو تو وہ ’’بدعت حسنہ‘‘ یعنی اچھی بدعت ہے-
————————————————————————————
شیخ وحید الزماں جوغیر مقلدین اہلحدیث کے امام ہیں، حضرت شاہ ولی اﷲ علیہ الرحمہ کے حوالے سے اپنی کتاب ہدیۃ المہدی ص 117 میں لکھتے ہیں کہ بدعت حسنہ (اچھی بدعت) کو دانتوں سے (مضبوطی سے) پکڑ لینا چاہئے کیونکہ سرکار اعظمﷺ نے اس کو واجب کئے بغیر اس پر برانگیختہ کیا ہے جیسے نماز تراویح-
———————————————————————————-
سرکار اعظمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اسلام میں اچھا طریقہ نکالا اس کے لئے اس کا ثواب ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کا ثواب بھی (بحوالہ مسلم شریف، جلد تیسری، ص 718
————————————————————————————-
حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے کاتب وحی حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کو قرآن مجید جمع کرنے کا حکم دیا تو حضرت زید رضی اﷲ عنہ نے عرض کیاکہ آپ رضی اﷲ عنہ وہ کام کیوں کرتے ہیں جو سرکار اعظمﷺ نے نہیں کیا؟ تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ یہ کام اچھا ہے (بخاری شریف)
———————————————————————————–
حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے جمعہ میں دو اذانوں کا طریقہ شروع کیا-
————————————————————————————
حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے ایک ہی شہر میں نماز عید کے دو اجتماعات شروع کئے-
———————————————————————————–
حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے علم نحو ایجاد کیا-
———————————————————————————
حضرت حباب رضی اﷲ عنہ نے پہلی مرتبہ شہید کئے جانے سے پہلے دو رکعت نفل ادا کئے-
————————————————————————————
حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ نے وعظ کے لئے جمعرات کا دن متعین کیا (بخاری شریف)
————————————————————————————-
حضرت بلال رضی اﷲ عنہ وضو کے بعد دو رکعت نماز ادا فرماتے تھے حالانکہ سرکار اعظمﷺ نے انہیں اس کا حکم نہیں دیا تھا-