Owais Razvi Qadri Siddiqui
Sufi Singer

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ

2,855

علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی ایم اے سجادہ نشین مرکز اویسیاں نارووال

دنیا میں بے شمار انسان پیدا ہوئے جن میں سے اکثر ایسے ہوئے کہ ان میں کوئی کمال وخوبی نہیں اور بعض لوگ ایسے ہوئے جو صرف چند خوبیاں رکھتے تھے مگر حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی وہ ذات گرامی ہے جو بہت سے کمال و خوبیوںکی جامع ہے کہ آپ شیر خدا بھی ہیں اور داماد مصطفیٰ بھی ،حیدر کرار بھی ہیں اور صاحب ذوالفقار بھی ،حضرت فاطمہ زاہرہ کے شوہر نامدار بھی اور حسنین کریمین کے والد بزرگو ار بھی ،صاحب سخاوت بھی اور صاحب شجاعت بھی ،عبادت و ریاضت والے بھی اور فصاحت و بلاغت والے بھی ،علم والے بھی اور حلم والے بھی ،فاتح خیبر بھی اور میدان خطابت کے شہسوار بھی ،غرضیکہ آپ بہت سے کمال و خوبیوں کے جامع ہیں اور ہر ایک میں ممتاز ویگانۂ روزگار ہیں اسی لئے دنیا آپ کو مظہر العجائب والغرائب سے یاد کرتی ہے اور قیامت تک اسطرح یاد کرتی رہے گی۔

مرتضیٰ شیر حق اشجع الاشجعین
باب فضل ولایت پہ لاکھوں سلام

شیر شمشیر زن شاہِ خیبر شکن
پر تو دستِ قدرت پہ لاکھوں سلام

نام و نسب:

نام و نسب:آپ کا نام نامی ’’علی بن ابی طالب‘‘ اور کنیت ’’ابوالحسنین و ابو تراب ہے :طالب کے صاحبزادے ہیں یعنی حضورﷺ کے چچازاد بھائی ہیں ۔ آپ کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی فاطمہ بنت اسد ہاشمی ہے اور یہ پہلی ہاشمی خاتون ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور ہجرت فرمائی۔(تاریخ الخلفاء ص113)
آپ کا سلسلۂ نسب اس طرح ہے ۔علی بن ابو طالب، بن عبد المطلب، بن ہاشم بن عبد مناف۔ آپ 30 ؁ عام الفیل میں پیدا ہوئے اور اعلان نبوت سے پہلے ہی مولائے کل سید الرسل جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفی ﷺ کی پرورش میں آئے کہ جب قریش قحط میں مبتلا ہوئے تھے تو حضورﷺ نے ابو طالب پر عیال کا بوجھ ہلکا کرنے کیلئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو لے لیا تھا ۔اس طرح حضور ﷺ کے سائے میں آپ نے پرورش پائی اور انہی کی گود میں ہوش سنبھالا،آنکھ کھو لتے ہی حضورﷺ کا جمال جہاں آرا دیکھا ،انہی کی باتیں سنیں اور انہی کی عادتیں سیکھیں ۔اس لئے بتوں کی نجاست سے آپکا دامن کبھی آلو دہ نہ ہوا ۔یعنی آپ نے کبھی بت پرستی نہ کی اور اسی لئے کرم اللہ وجہہ الکریم آپ کا لقب ہوا۔(تنزیہ المکانۃ الحیدریہ وغیرہ)

آپ کا حلیہ:

حضرت علی رضی اللہ عنہ جسم کے فربہ تھے ۔اکثر خود استعمال کرنے کی وجہ سے سر کے بال اڑے ہوئے تھے ۔آپ نہایت قوی اور میانہ قد مائل بہ پستی تھے ۔آپ کا پیٹ دیگر اعضا کے اعتبار سے کسی قدر بھاری تھا ۔مونڈھوں کے درمیان کا گوشت بھرا ہوا تھا۔پیٹ سے نیچے کا جسم بھاری تھا ۔رنگ گندمی تھا۔ تمام جسم پر لمبے لمبے بال، آپ کی ریش مبارک گھنی اور دراز تھی۔
مشہور ہے کہ ایک یہودی کی داڑھی بہت مختصر تھی ٹھوڑی پر صرف چند گنتی کے بال تھے اور وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہنے لگا اے علی! تمہارا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن میں سارے علوم ہیں اور تم باب مدینۃ العلم ہو تو بتائو قرآن میں تمہاری گھنی داڑھی اور میری مختصر داڑھی کا بھی ذکر ہے ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا سورۂ اعراف میں ہے۔وَالْبَلَدُ الْطَّیِّبْ یَخْرُجُ نَبِاتُہٗ بِاِذْنِ رَبَّہٖ وَالَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَکِدًا۔یعنی جو اچھی زمین ہے اس کی ہر یالی اللہ کے حکم سے خوب نکلتی ہے اور جو خراب ہے اس میں سے نہیں نکلتی مگر تھوڑی بمشکل۔(پارہ 8ع14)تو اے یہودی وہ اچھی زمین ہماری ٹھوڑی ہے اور خراب زمین تیری ٹھوڑی ۔
معلوم ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا علم بہت وسیع تھا کہ اپنی گھنی داڑھی اور یہودی کی مختصر داڑھی کا ذکر آپ نے قرآن مجید میںسے ثابت کر دکھایا اور یہ بھی ثابت ہوا کہ قرآن سارے علوم کا خزانہ ہے مگر لوگوں کی عقلیں اس کے سمجھنے سے قاصر ہیں ۔

ابو تراب:

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ایک کنیت ابو تراب بھی ہے جب کوئی شخص آپ کو ابو تراب کہہ کر پکارتاتھا تو آپ بہت خوش ہوتے تھے اور رحمت عالم ﷺ کے لطف و کرم کے مزے لیتے تھے اس لئے کہ یہ کنیت آپ کو حضور ہی سے عنایت ہوئی تھی ۔اس کا واقعہ یہ ہے کہ ایک روز آپ مسجد میں آکر لیٹے ہوئے تھے اور آپ کے جسم پر کچھ مٹی لگ گئی تھی کہ اتنے میں رسول اکرم ﷺ مسجد میں تشریف لائے اور اپنے مبارک ہاتھوں سے آپ کے بدن کی مٹی جھاڑتے ہوئے فرمایا قم یا ابا تراب ۔یعنی اے مٹی والے ! اٹھو اس روزسے آپ کی کنیت ابو تراب ہو گئی ۔(رضی اللہ عنہ )

آپ کا قبول اسلام:

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نو عمر لوگوں میں سب سے پہلے اسلام سے مشرف ہوئے ۔تاریخ الخلفاء میں ہے کہ جب آپ ایمان لائے اس وقت آپ کی عمر مبارک دس سال تھی بلکہ بعض لوگوں کے قول کے مطابق نو سال اور بعض کہتے ہیں کہ آٹھ سال اور کچھ لوگ اس سے بھی کم بتاتے ہیں اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ تنزیہ المکانتہ الحیدریہ میں تحریرفرماتے ہیں کہ بوقت اسلام آپ کی عمر آٹھ دس سال تھی۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ اگر چہ اس وقت رات میں ایمان نہیں لائے مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں ایمان کو راسخ کر دیا تھا دوسرے روز صبح ہوتے ہی۔ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کی پیش کی ہوئی ساری باتوں کو قبول کر لیا اسلام لے آئے۔

آپ کی ہجرت:

سرکار مدینہ ﷺ نے جب اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق مکہ معظمہ سے ہجرت کا ارادہ فرمایا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو بلا کر فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کا حکم ہو چکا ہے لہٰذا میں آج مدینہ روانہ ہو جائوں گا تم میرے بستر پر میری سبز رنگ کی چادر اوڑھ کر سو رہو تمہیں کوئی تکلیف نہ ہوگی قریش کی ساری امانتیں جو میرے پاس رکھی ہوئی ہیں انکے مالکوں کو دے کر تم بھی مدینہ چلے آنا۔
یہ موقع بڑا ہی خوفناک اور نہایت خطرہ کا تھا ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کو معلوم تھا کہ کفار قریش سونے کی حالت میں حضور ﷺ کے قتل کا ارادہ کر چکے ہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کو اپنے بستر پر سونے سے منع فرمادیا ہے ۔آج حضور ﷺ کا بستر قتل گاہ ہے ۔لیکن اللہ کے محبوب دانائے خفایا وغیوب جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کے اس فرمان سے کہ ’’تمہیں کوئی تکلیف نہ ہوگی قریش کی امانتیں دے کر تم بھی مدینہ چلے آنا۔‘‘ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو پورا یقین تھا کہ دشمن مجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچاسکیں گے میں زندہ رہوں گا اور مدینہ ضرور پہنچوں گا۔لہٰذا سرکار مدینہ ﷺ کا بستر جو آج بظاہر کانٹوں کا بچھونا تھا وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لئے پھولوں کی سیج بن گیا ۔ اس لئے کہ ان کا عقیدہ تھا کہ سورج مشرق کی بجائے مغرب سے نکل سکتا ہے مگر حضور ﷺ کے فرمان کے خلاف نہیں ہو سکتا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رات بھر آرام سے سویا صبح اٹھکر لوگوں کی امانتیں ان کے مالکوں کو سونپنا شروع کیں اور کسی سے نہیں چھپا اسی طرح مکہ میں تین دن رہا پھر امانتوں کے ادا کرنے کے بعد میں بھی مدینہ کی طرف چل پڑا ۔راستہ میں بھی کسی نے مجھ سے کوئی تعارض نہ کیا یہانتک کہ میں قبا میں پہنچا ۔

علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی ایم اے سجادہ نشین مرکز اویسیاں نارووال

اُخوت رَسُول:

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی بہت سی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ آپ سرکار مدینہ ﷺ کے داماد اور چچا زاد بھائی ہونے کے ساتھ’’عقد مواخاۃ ‘‘ میں بھی آپ کے بھائی ہیں جیسا کہ ترمذی شریف میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب مدینہ طیبہ میں اُخوت یعنی بھائی چارہ قائم کیا دو دو صحابہ کو بھا ئی بھائی بنایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ روتے ہوئے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ نے سارے صحابہ کے درمیان اخوت قائم کی ۔ایک صحابی کو دوسرے صحابی کا بھائی بنایا مگر مجھ کو کسی کا بھائی نہ بنایا میں یوں ہی رہ گیا ۔ تو سرکار مدینہ ﷺ نے فرمایا :انت اخی فی الدنیا والاٰخرۃ۔یعنی تم دنیا اور آخرت دونوں میں میرے بھائی ہو۔(مشکوٰۃ شریف564)

آپ کی شجاعت:

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت اور بہادری شہرۂ آفاق ہے ،عرب و عجم میں آپ کی قوت بازو کے سکے بیٹھے ہوئے ہیں آپ کے رعب و دبدبہ سے آج بھی بڑے بڑے پہلوانوں کے دل کانپ جاتے ہیں ۔جنگ تبوک کے موقع پر سرکار مدینہ ﷺ نے آپ کو مدینہ طیبہ پر اپنا نائب مقرر فرمادیا تھا اس لئے اس میں حاضر نہ ہو سکے باقی تمام غزوات و جہاد میں شریک ہوکر بڑی جانبازی کے ساتھ کفار کا مقابلہ کیا اور بڑے بڑے بہادروں کو اپنی تلوار سے موت کے گھاٹ اتاردیا۔
اسی طرح جنگ خیبر کے موقع پر بھی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شجاعت اور بہادری کے وہ جو ہر دکھائے ہیں جس کاذکر ہمیشہ باقی رہے گا اور لوگوں کے دلوں میں جوش وولولہ پیدا کرتارہے گا۔ خیبرکاوہ قلعہ جو ’مرَحَّب کاپایہ تخت تھااس کافتح کرناآسان نہ تھا۔ اس قلعہ کو سر کرنے کے لیے سرکارمدینہﷺنے ایک دن حضرت ابو بکر صدیق ر ضی اللہ تعالی عنہ کو جھنڈا عنایت فرمایا اوردوسرے دن حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو عطا فرمایا لیکن فاتح خیبر ہو نا تو کسی اور کے لیے مقدر ہو چکا تھا اس لیے ان حضرات سے وہ فتح نہ ہوا جب اس مہم میںبہت زیادہ دیر ہوئی تو ایک دن سرکار مدنیہ ﷺ نے فرمایا کہ میں یہ جھنڈا کل ایک ایسے شخص کو دوں گا کہ جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائیگا وہ شخص اللہ و رسول کو دوست رکھتا ہے اور اللہ و رسول اس کو دوست رکھتے ہیں ۔ (جل جلالہ ، صلی اللہ علیہ واٰلہٖ واصحابہٖ وسلم)
حضورﷺ کی اس خوشخبری کو سن کر صحابۂ کرام نے وہ رات بڑی بیقراری میں کاٹی اس لئے کہ ہر صحابی کی یہ تمنا تھی کہ اے کاش!رسول اللہ ﷺ کل صبح ہمیں جھنڈا عنایت فرمائیں تو اس بات کی سند ہو جائے کہ ہم اللہ و رسول کو محبوب رکھتے ہیں اور اللہ و رسول ہمیں چاہتے ہیں اور اس نعمت عظمیٰ و سعادت کبریٰ سے بھی سرفراز ہو جاتے کہ فاتح خیبر جاتے ۔اس لئے کہ وہ صحابی تھے ان کا یہ عقیدہ ہر گز نہیں تھا کہ کل کیا ہوے والا ہے حضور ﷺ کو اس کی کیا خبر؟ بلکہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اللہ کے محبوب دانائے خفایا وغیوب جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ نے جو کچھ فرمایا ہے وہ کل ہو کر رہے گا۔ اس میں ذرہ برابر فرق نہیں ہو سکتا۔
جب صبح ہوئی تو تمام صحابۂ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین امید یں لئے ہوئے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور ادب کے ساتھ دیکھنے لگے کہ نبی کریمﷺ آج کس کو سرفراز فرماتے ہیں ۔ سب کی ارمان بھری نگاہیں حضورﷺ کے لب مبارک کی جنبش پر قربان ہو رہی تھیں کہ سرکارمدینہﷺ نے فرمایا:این علی بن ابی طالب۔یعنی علی بن ابی طالب کہاں ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! وہ آشوب چشم میں مبتلا ہیں ان کی آنکھیں دکھتی ہیں آپ نے فرمایا کوئی جاکر ان کو بلالائے ۔جب حضرت علی رضی اللہ عنہ لائے گئے تو رحمت عالم ﷺ نے ان کی آنکھوں پر لعاب دہن لگایا تو وہ بالکل ٹھیک ہو گئیں ۔حدیث شریف کے اصل الفاظ یہ ہیں ۔فبصق رسول اللّٰہ ﷺ فی عینیہ فبرأ۔اور ان کی آنکھیں اس طرح اچھی ہو گئیں گویا دکھتی ہی نہ تھیں۔ پھر حضورﷺ نے ان کو جھنڈا عنایت فرمایا ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! کیا میں ان لوگوں سے اس وقت تک لڑوں جب تک کہ وہ ہماری طرح مسلمان نہ ہو جائیں ،حضور ﷺ نے فرمایا تم اُن کو اسلام کی طرف بلائو اور پھر بتلائو کہ اسلام قبول کرنے کے بعد ان پر کیا حقوق ہیں ۔خدا قسم اگر تمہاری کوشش سے ایک شخص کو بھی ہدایت مل گئی تو وہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہوگا۔(بخاری ،مسلم)
اسلام قبول کرنے یا صلح کرنے کی بجائے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مقابلہ کرنے کیلئے مُرَحُّبْ یہ رجز پڑھتا ہوا قلعہ سے باہر کلا۔
مُرَحُّبْ بڑے گھمنڈ سے آیا تھا لیکن شیر خدا علی المرتضیٰ رضی اللہ عہ نے اس زور سے تلوار ماری کہ اس کے سر کو کاٹتی ہوئی دانتوں تک پہنچ گئی اور وہ زمین پر ڈھیر ہو گیا۔ اس کے بعد آپ نے فتح کا اعلان فرما دیا۔
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس روز آپ نے خیبر کا دروازہ اپنی پیٹھ پر اُٹھالیا تھا اور اس پر مسلمانوں نے چڑھ کر قلعہ کو فتح کر لیا ۔اس کے بعد آپ نے وہ دروزہ پھینک دیا ۔جب لوگوں نے اسے گھسیٹ کر دوسری جگہ ڈالنا چاہا تو چالیس آدمیوں سے کم اسے اُٹھا نہ سکے۔(تاریخ الخلفاء صفحہ 114)
ابن عساکر نے ابو رافع سے روایت کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگ خیبر میں قلعہ کا پھاٹک ہاتھ میں لے کر اس کو ڈھال بنالیا وہ پھاٹک ان کے ہاتھ میں برابر رہا اور وہ لڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں خیبر کو فتح فرمایا۔اسکے بعد پھاٹک کو آپ نے پھینک دیا۔لڑائی سے فارغ ہونے کے بعد ہمارے ساتھ کئی آدمیوں نے مل کر اسے پلٹنا چاہا مگر وہ نہیں پلٹا۔(تاریخ الخلفاء صفحہ 114)

علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی ایم اے سجادہ نشین مرکز اویسیاں نارووال

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور احادیث کریمہ:

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی فضیلت میں اتنی حدیثیں وارد ہیں بلکہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جتنی حدیثیں آپ کی فضیلت میں ہیں کسی اور صحابی کی فضیلت میں اتنی حدیثیں نہیں ہیں ۔ بخاری اور مسلم میں حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوۂ تبوک کے موقع پر جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ طیبہ میں رہنے کا حکم فرمایا اور اپنے ساتھ نہ لیا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! آپ مجھے یہاں عورتو اور بچوں پر اپنا خلیفہ بنا کر چھوڑے جاتے ہیں ۔تو سرکار مدینہ ﷺ نے فرمایا :کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ میں تمہیں اس طرح چھوڑے جاتا ہوں کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کو چھوڑ گئے ۔البتہ فرق صرف اتنا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔مطلب یہ ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کوہ طور پر جانے کے وقت چالیس د ن کے لئے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو بنی اسرائیل پر اپنا خلیفہ بنایا تھا اسی طرح جنگ تبوک کی روانگی کے وقت میں تم کو اپنا خلیفہ اور نائب بنا کر جا رہا ہوں۔ لہٰذا جو مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک حضرت ہارون علیہ السلام کا تھا وہی مرتبہ ہماری بارگاہ میں تمہارا ہے ۔اس لئے اے علی !تمہیں خوش ہونا چاہیے ۔تو ایسا ہی ہوا کہ اس خوشخبری سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تسلی ہو گئی ۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سرکار مدینہﷺ نے فرمایا علی سے منافق محبت نہیں کرتا اور مومن علی سے بغض و عداوت نہیں رکھتا۔(ترمذی)
سبحا ن اللہ ! حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کیا ہی بلند و بالا شان ہے کہ سرکار مدینہ ﷺ نے آپ سے محبت نہ کرنے کو منافق ہونے کی علامت ٹھہرایا اور آپ سے بعض و عداوت رکھنے کو مومن نہ ہونے کا معیار قرار دیا ۔یعنی جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت نہ کرے وہ منافق ہے اور جو ان سے بغض و عداوت رکھے وہ مومن نہیں۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :من سب علیا فقد سبنی ۔یعنی جس نے علی کو برا بھلا کہا تو تحقیق اس نے مجھ کو برا بھلا کہا۔(مشکوٰۃ)
یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضور ﷺ سے اتنا قرب اور نزدیکی حاصل ہے کہ جس نے ان کی شان میں گستاخی و بے ادبی کی تو گویا کہ اس نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی و بے ادبی کی خلاصہ یہ ہے کہ ان کی توہین کرنا حضور ﷺ کی توہین کرنا ہے ۔العیاذ باللّٰہ تعالیٰ۔
حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک د ن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک کھلے ہوئے میدا ن میں بہت سے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا کہ میں اللہ کی قسم دے کر تم لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے یوم غدیر خُم میں میرے متعلق کیا ارشاد فرمایا تھا؟ تو اس مجمع سے تیس (30)آدمی کھڑے ہوئے اور ان لوگوں نے گواہی دی کہ حضور ﷺ نے اس روز فرمایا تھا:من کنت مولا فعلی مولاہ اللھم وال من والا ہ وعاد من عاداہ۔ یعنی میں جس کا مولیٰ ہوں علی بھی اسکے مولیٰ ہیں۔ یا الٰہ َ العالمین !جو شخص علی سے محبت رکھے تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو شخص علی سے عداوت رکھے تو بھی اس سے عداوت رکھ۔(تاریخ الخلفاء )
طبرانی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور ترمذی و حاکم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: انا مدینۃ العلم و علی بابھا۔یعنی میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں ۔
علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے اور جنہو ںنے اس کو موضوع کہا ہے انہو ںنے غلطی کی ہے ۔(تاریخ الخلفاء صفحہ116)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم ﷺ نے فرمایا من احب علیافقداحبنی ۔ یعنی جس نے علی سے محبت کی تو اس نے مجھ سے محبت کی ۔ومن ابغض علیا فقد ابغضنی ومن ابغضنی فقد ابغض اللّٰہ۔یعنی جس نے علی سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی ۔اور جس نے مجھ سے دشمنی کی اس نے اللہ سے دشمنی کی ۔(تاریخ الخلفاء بحوالہ طبرانی)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے۔انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ تمہاری حالت حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسی ہے کہ یہودیوں نے ان سے یہاں تک دشمنی کی کہ ان کی والدہ حضرت مریم (رضی اللہ عنہا) پر تہمت لگائی اور نصاریٰ نے ان سے محبت کی تو اس قدر حد سے بڑھ گئے کہ ان کو اللہ یا اللہ کا بیٹا کہہ دیا ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو کان کھول کر سن لو۔میرے بارے میں بھی دو گروہ ہلاک ہوں گے ۔ایک میری محبت میں حد سے تجاوز کرے گا اور میری ذات سے ایسی باتوںکو مسوب کرے گا جو مجھ میں نہیں ہیں اور دوسرا اگر وہ اس قدر بغض و عداوت رکھے گا کہ مجھ پر بہتان لگائے گا۔(تاریخ الخلفاء)

علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی ایم اے سجادہ نشین مرکز اویسیاں نارووال

آپ کا علم:

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم علم کے اعتبار سے بھی علمائے صحابہ میں بہت اونچا مقام رکھتے ہیں ۔سرکار مدینہ ﷺ کی بہت سے حدیث آپ سے مروی ہیں ۔آپ کے فتوے اور فیصلے اسلامی علوم کے انمول جواہر پارے ہیں ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نے جب بھی آپ سے کسی مسئلہ کو دریافت کیا تو ہمیشہ درست ہی جواب پایا۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سامنے جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ علی سے زیادہ مسائل شرعیہ کا جاننے والا کوئی نہیں ہے ۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مدینہ طیبہ میں علم فرائض اور مقدمات کے فیصلہ کرنے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ علم رکھنے والا کوئی دوسرا نہیں تھا اور حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے صحابہ میں سوائے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کوئی یہ کہنے والا نہیں تھا کہ جو کچھ پوچھنا ہو مجھ سے پوچھ لو۔(تاریخ الخلفاء)
مشہور ہے کہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک ایسی عورت پیش کی گئی جسے زنا کا حمل تھا۔ ثبوت شرعی کے بعد آپ نے اس کے سنگسار کا حکم فرمایا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یاد دلایا کہ حضور سید عالم ﷺ کا فرمان ہے کہ حاملہ عورت کو بچہ پیدا ہونے کے بعد سنگسار کیا جائے ۔اس لئے کہ زنا کرنے والی عورت اگر چہ گنہگار ہوتی ہے مگر اس کے پیٹ کا بچہ بے قصور ہوتا ہے ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یاددہانی کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے فیصلہ سے رجوع کرلیا اور فرمایا: لولا علی لھلک عمر۔یعنی علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا۔ علی کی موجودگی نے عمر کو ہلاکت سے بچا لیا۔(رضی اللہ عنہما)

آپ کی شہادت:

حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے 17رمضان المبارک 40 ؁ ھ کو علی الصبح بیدار ہو کر اپنے بڑے صاحبزادے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا آج رات خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت ہوئی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کی امت نے میرے ساتھ کجروی اختیار کی ہے اور سخت نزاع برپا کر دیا ہے ۔حضور ﷺ نے فرمایا تم ظالموں کے لئے دعا کرو۔تو میں نے اس طرح دعا کی کہ یا الٰہ العالمین ! تو مجھے ان لوگوں سے بہتر لوگوں میں پہنچا دے اور میری جگہ ان لوگو پر ایسا شخص مسلط کر دے جو برا ہو۔ابھی آپ یہ بیان ہی فرمارہے تھے کہ مؤذ ن نے آوازدی الصلاۃ الصلاۃ ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے کے لئے گھر سے چلے ۔راستے میں لوگوں کو نماز کے لئے آواز دے دے کر آپ جگاتے جاتے تھے کہ اتنے میں ابن ملجم آپ کے سامنے آگیا اور اس نے اچانک آپ پر تلوار کا بھرپوروار کیا وار اتنا سخت تھا کہ آپ کی پیشانی کنپٹی تک کٹ گئی اور تلوار دماغ پر جا کر ٹھہری ۔ شمشیر لگتے ہی آپ نے فرمایا :فزت برب الکعبۃ۔یعنی رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا ۔آپ کے زخمی ہوتے ہی چاروں طرف سے لوگ دوڑ پڑے اور قاتل کو پکڑ لیا۔(تاریخ الخلفاء)

آپ کی وصیت:

حضرت عقبہ بن ابی صہبا کہتے ہیں کہ جب بد بخت ابن ملجم نے آپ پر تلوار کا وار کیا یعنی آپ زخمی ہو گئے تو امام حسن رضی اللہ عنہ روتے ہوئے آپ کی خدمت میں آئے ۔آپ نے ان کو تسلی دی اور فرمایا بیٹے!میری چار باتوں کے ساتھ چار باتیں یاد رکھنا۔حضرت امام حسن نے عرض کیا وہ کیا ہیں فرمائیے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا:اول سب سے بڑی تو نگری عقل کی توانائی ہے ۔دوسرے بیوقوفی سے زیادہ کوئی مفلسی اور تنگدستی نہیں۔ تیسرے غرور و گھمنڈ سب سے سخت و حشت ہے ۔چوتھے سب سے عظیم خُلق کرم ہے۔
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ دوسری چار باتیںبھی بیان فرمائیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ( اول) احمق کی محبت سے بچو۔اس لئے کہ نفع پہچانے کا ارادہ کرتا ہے لیکن نقصان پہنچ جاتا ہے ۔ (دوسرے) جھوٹے سے پرہیز کرو۔اس لئے کہ وہ دور کو نزدیک اور نزدیک کو دور کر دیتا ہے ۔ (تیسرے) بخیل سے دور رہو۔اس لئے کہ وہ تم سے ان چیزوں کو پھرادے گا جنکی تم کو حاجت ہے ۔(چوتھے) فاجر سے کنارہ کش رہو ۔اس لئے کہ وہ تمہیں تھوڑی سی چیز کے بدلے میں فروخت کر ڈالے گا۔(تاریخ الخلفاء)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سخت زخمی ہونے کے باوجود جمعہ و ہفتہ تک بقید حیات رہے لیکن اتوار کی رات میں آپ کی روح بارگاہ قدس میں پرواز کر گئی اور یہ بھی روایت ہے کہ 19رمضان المبارک جمعہ کی شب میں آپ زخمی ہوئے اور 21رمضان المبارک شب اتوار 40 ؁ ھ میں آپ کی وفات ہوئی ۔انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔
چار برس آٹھ ماہ نو دن آپ نے امور خلافت کو انجام دیا اور ترسٹھ سال کی عمر میں آپ کا وصال ہوا۔حضرت امام حسن ،حضرت امام حسین اور حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم نے آپ کو غسل دیا اور آپ کی نماز جنازہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے پڑھائی ۔آپ کے دفن سے فارغ ہونے کے بعد امیر المؤمنین کے قاتل عبد الرحمن بن ملجم کو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے قتل کر دیا ۔

علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی ایم اے سجادہ نشین مرکز اویسیاں نارووال

اقوال ذریں حضرت علی رضی اللہ عنہ :

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بہت سے اقوال ہیں جو آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں ان میں سے چندنظرقارئین ۔

(1)علم مال سے بہتر ہے،علم تیری حفاظت کرتا ہے اور تو مال کی،علم حاکم ہے اور مال محکوم ،مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے اور علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے ۔

(2)عالم وہی شخص ہے جو علم پر عمل بھی کرے اور اپنے عمل کو علم کے مطابق بنائے۔

(3)حلال کی خواہش اسی شخص میں پیدا ہوتی ہے جو حرام کمائی چھوڑنے کی مکمل کوشش کرتا ہے ۔

(4) تقدیر بہت گہرا سمند ر ہے اس میں غوطہ نہ لگائو۔

(5)خوش اخلاقی بہترین دوست ہے اور ادب بہترین میراث ہے ۔

(6)جاہلوں کی دوستی سے بچو کہ بہت سے عقلمندوں کو انہوں نے تباہ کر دیا ہے ۔

(7)اپنا راز کسی پر ظاہر نہ کرو کہ ہر خیر خواہ کیلئے کوئی خیر خواہ ہوتا ہے ۔

(8)انصاف کرنے والے کو چاہئے کہ جو اپنے لئے پسند کرے وہی دوسروں کے لئے بھی پسند کرے۔

 

علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی ایم اے سجادہ نشین مرکز اویسیاں نارووال

 

 

 

 

Comments
Loading...