(ڈاکٹر اظہر وحید)
کوئی شئے فی نفسہٖ اچھی ہے ‘ نہ بْری۔ ہرشئے کے معیار کا تعین کسی شئے کے تقابل میں کیا جاتا ہے۔ ہر شئے کی قدرو قیمت اور فضیلت دوسری اشیا سے موازنے میں طے ہوتی ہے۔ یہی حال جذبوں کا ہے۔ جوانی کے جذبات جواں سالی میں ہی اچھے لگتے ہیں ‘ اور بڑھاپے میں ناقابلِ ذکر ہو جاتے ہیں۔ بچوں کو زیادہ سے زیادہ مرغن کھلایا جاتا ہے ، بڑے بوڑھوں کومرغن و مرغوب غذاوں سے پرہیز کا حکم دیا جاتا ہے۔ وہی توتلی زبان جو ناسمجھ بچوں میں قابلِ قدر سمجھی جاتی ہے ، سمجھدار بچوں میں قابلِ حذر سمجھی جائے گی۔ طلبا کو تقریر کا فن سکھایا جاتا ہے ، بڑوں کو خاموشی کی فضیلت کا درس دیا جاتا ہے۔ غرض یہ کہ ہر حکم اور جذبہ فضیلت کے اعتبار سے مخاطب کے مقام و مرتبے کے مطابق ہی ترتیب دیا جاتا ہے۔ مقیم کی نماز اور مسافر کی نماز یکساں نہیں ہوتی۔ نماز کی قصر اور روزے کی رخصت بیمار اور مسافر کیلئے لیے ہے ‘ صحت مند اور مقیم کیلئے ہرگز نہیں۔ بے محل حکم ٗ لامحالہ ناقابلِ عمل ہوگا۔ بے محل جذبہ ‘ جذباتیت ہی کہلائے گا۔ ہر شعور کا ایک دائرہ ہے، ہر دائرے کا ایک مرکز ہے، اور ہر مرکز کا ایک مطاف اور طواف ہے۔ اپنے محل، دائرے ، مرکز اور مدار کو پہچانے بغیر کوئی عمل اور جذبہ نتیجہ نہیں دے سکتا۔ 
جنوں کے حق میں خلاف ِ عقل نہیں بولا جاسکتا۔ عقل کا مقام و مرتبہ انسانی وجود میں ہمیشہ خواہش کے مقابلے میں بیان ہوگا۔ خواہشِ نفس میں مبتلا وجود کو دعوتِ عقل دی جائے گی… کہا جائے گا ‘ میاں عقل سے کام لو… ہوش کے ناخن لو ، اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، خواہش کی پیروی میں شرف ِ انسانی سے خود کو دُور نہ کرو، ۔ الغرض‘ غیر ضروری اغراض سے اعراض کیلئے نفس کو عقل کی پیروی کا حکم دیا جاتا ہے۔ آسان لفظوں میں سمجھنے کیلئے کہا جاسکتا ہے کہ نفس ِ اَمّارہ کو نفس ِ لوّامہ کی سطح پر لے جانے کیلئے عقل کی تدبیر سوچی جاتی ہے۔ ایک شخص جو کسی سفر کا قائل نہ ہو ‘ اُسے آمادہ سفر کرنے کیلئے عقل کی سواری تجویز کی جاتی ہے، تاآنکہ اس کی سمت کا تعین ہو جائے اور وہ فکر و فہم کی کسی منزل کیلئے عازمِ سفر ہوسکے۔ جس طرح جمہوریت اپنی تمام تر خرابیوں کے باوجود ملوکیت سے بہرطور بہتر تصور ہوتی ہے ‘ اس طرح عقل اپنے تمام تر تضادات کے باوجود خواہشات ِ نفس کی اندھی پیروی کے مقابلے میں بہت محترم سمجھی جاتی ہے۔ جس طرح خواہش کے بھنور سے نکلنے کیلئے عقل کی ضرورت ہوتی ہے ‘ اس طرح عقل کے گھن چکر سے نجات پانے کیلئے جنوں کی کمند چاہیے ہوتی ہے۔ 
جنوں… عقل سے وَرا اور بلند تر دائرۂ شعور ہے۔ عشق کی اپنی عقل اور اصل ہوتی ہے، عشق کے فیصلے جس عقل کی بنیاد پر طے پاتے ہیں ‘ اس کے اپنے اصول ،قاعدے اور ضابطے ہیں۔ مشربِ عقل میں جو چیز رَوا ہے ‘ مشربِ عشق میں اسے ناروا سمجھا جاتا ہے۔ عین ممکن ہے قانون اور شریعت کسی بچت کا جائز راستہ بھی بتا دے ٗ لیکن عشق کے مسافر کیلئے کسی بچت کی پناہ گاہ میں قیام حرام ہے۔ 
عقل دائرۂ صفات میں راہبر ہوتی ہے‘ دائرہ ذات میں جْل دے جاتی ہے۔ ذات کے دائرے میں عقل کو داخلے اور مداخلت کی اجازت نہیں… عقل اور افکارکی بلند پروازی بجا ، لیکن اس کی منتہا ‘ ذات کے دائرے کے سدرۃ سے باہر تک ہے۔ عقل وہ فیصلہ نہیں کر سکتی جس میں اس کی شناخت ختم ہو جائے۔ عقل اپنی نفی کرنے پر قادر نہیں ‘ اس لیے حق الیقین کے مقام پر تصدیق نہیں کر سکتی۔ 
عقل زمینی سواری ہے… اور زمینی سواری صرف جسم کا سفر آسان کرسکتی ہے… روح کے سفر میں عقل کی سواری پر تکیہ کرنا ایسے ہی ہے جیسے آسٹریلیا جانے کیلئے گاڑی یا ریل گاڑی کو کافی سمجھ لیا جائے۔ زمینی جغرافیہ جاننے والے آسمانی کلیہ جان چکے ہیں۔ ہر سفر کی مخصوص سواری ہوتی ہے۔ ہر سفر کا ایک مدعائے سفر ہوتا ہے۔ مدعائے سفر اور منتہائے سفر تک رسائی کیلئے مسافر کے پاس زادِ سفر کا ہونا لازم ہے ۔ زادِ راہ کے بغیر سفر ادھورا رہ جاتا ہے ٗاور سواری کے بغیر سفر ممکن نہیں ہوتا۔ عقل کا کل سرمایہ ٗحواس کی دنیا ہے‘ یا پھر پہلے سے معلوم شدہ حقائق کی دنیا… نئے جہانوں کی تلاش اس کی جستجو تو ہے‘ بساط نہیں! عقل عالمِ اشیا کی سیر کرتی ہے ، اور اپنے سوار کو یہ سیر کروا سکتی ہے۔ عقل ایک شے اور نظریے کے اختلاط سے دوسری شئے اور نظریہ تراش سکتی ہے، اور اسے اپنی ایجاد اور تصرف منوا سکتی ہے… اس میں جنوں اور صاحب ِ جنوں کوکوئی تعرض نہیں۔ معارضہ تب پیدا ہوتا ہے‘ جب عقل ہمہ دانی کا دعویٰ کرتی ہے… جب عقل الہام کی دنیا میں تصرف کرتی ہے تو ابہام پیدا کرتی ہے۔ کوئی جوہر و جذبہ کتنا ہی انمول کیوں نہ ہو‘ جب اپنی حدود اور دائرۂ کار سے تجاوز کرے گا ‘ بے مول اور بے مصرف ہو کر رہ جائے گا۔ الہام کا دائرہ یقین ہے‘ عقل کا تشکیک! تصدیق کے مقام پر تردید واقع ہوجائے تو مقبول کے مردود ہونے کا واقعہ رونما ہوجاتا ہے۔
عقل کی جولان گاہ ٗجائے صفات ہے… اور جائے صفات کثرت کا عالم ہے… یہ کثرت میں بکثرت خوش وخرم اور شاد باد رہتی ہے۔ دائرہ ذات ٗوحدت کا حرم ہے… لیکن وحدت کے دائرے میں اِس کا دم پھولنے لگتا ہے… اِس کا سانس اْکھڑنے لگتا ہے۔ قصہ مختصر ٗ بجز جنوں ذات کی خوشبو ملتی ہے ٗنہ خبر۔ 
جنوں ‘ روح کی سواری ہے۔ روح کی زقند بہت طویل ہوتی ہے، جسم پیچھے رہ جاتا ہے، جسمانی حواس بد حواس ہو جاتے ہیں۔ جنوں کا زاد ِ راہ اِخلاص ہے۔ جنوں کی فضیلت ان شاہسواروں پر کھلتی ہے ‘ جنہیں زمان و مکاں کی سرحدعبور کرنا ہوتی ہے۔ اشہب ِ جنوں پر زین وہ کستے ہیں ‘ جنہیں روح کا سفر درپیش ہوتا ہے۔ عقل کی پس و پیش اُن کے سفر میں سدِ راہ نہیں ہوتی۔ اس راستے میں ہر صاحب ِ عقل نے عقل سے نجات کی مناجات کی ہے۔ رومیؒ و اقبالؒ سے لے کر واصف علی واصفؒ تک ‘ ہر موذنِ روح نے یہی دعوتِ فوز و فلاح دی ہے…

اقبالؒ یوں گویا ہیں… 

گذر جا عقل سے آگے کہ یہ نور 
چراغِ راہ ہے منزل نہیں ہے
اور یہ کہ
خرد کی گتھیاں سلجھا چکا ہوں میں 
مرے مولا مجھے صاحب جنوں کر
واصف علی واصفؒ اس مقام کی خبر دے رہے ہیں:
واصفؔ یہ کس مقام پر لایا مجھے جنوں
اب اْن کی جستجو ہے ‘ نہ اپنی تلاش ہے

اقبالؒ