Owais Razvi Qadri Siddiqui
Sufi Singer

Roza Kab Farz Huwa – روزہ کب فرض ہوا

1,634

ماہ رمضان المبارک کے روزے ہجرت کے اٹھارہ ماہ بعد شعبان کے مہینہ میں قبلہ کی تبدیلی کے دس روز بعد فرض کیے گئے۔رمضان کے روزے کی فرضیت کے ابتدائی دنوں میں بعض احکام بہت سخت تھے،جیسے غروب آفتاب کے بعد سونے سے پہلے کھانے پینے اور بیوی سے تعلق قائم کرنے کی اجازت تھی،مگر سونے کے بعد کچھ بھی کھانے پینے اور بیوی سے تعلق کی اجازت نہیں تھی،چاہے کوئی شخص بغیر کھائے پئے ہی کیوں نہ سوگیا ہو۔مگر بعد میں یہ احکام منسوخ کر دئیے گئے اور کوئی سختی نہ رکھی گئی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلیٰ نِسَائِکُمْ ط ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَھُنَّ ط عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَ عَفَا عَنْکُمْ ج فَالْئٰنَ بَاشِرُوْھُنَّ وَ ابُتَغُوْا مَا کَتَبَ اللّٰہ لَکُمْ ص وَ کُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّیٰ یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطَ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ص ثُمَّ اَتِمُّوْا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْل}          (البقرہ:۱۸۷)

((روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیا گیا، وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو،تمہاری پوشیدہ خیانتوں کا اللہ تعالیٰ کو علم ہے،اس نے تمہاری توبہ قبول فرما کر تم سے درگزر فرما لیا،اب تمہیں ان سے مباشرت کی اور اللہ تعالیٰ کی لکھی ہوئی چیز کو تلاش کرنے کی اجازت ہے تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے، پھر رات تک روزے کو پورا کرو۔))

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ابتدائے اسلام کی سخت پابندیاں اٹھا لیں اور اس طرح افطار سے لے کر صبح صادق (یعنی سحری)تک کھانے پینے اور بیوی سے مباشرت کرنے کی اجازت عطا فرما دی۔

اس طرح روزہ بظاہر اس چیز کا نام ہے کہ آدمی سحر کے وقت سے لے کر سورج غروب ہونے تک کھانے پینے اور جنسی خواہش کے پورا کرنے سے رکا رہے۔ لیکن اپنی روح کے لحاظ سے روزہ جس چیز کا نام ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کو اپنی خواہشات پر قابو ہو اور اسے تقویٰ کی زندگی حاصل ہو۔بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آدمی بظاہر تو روزے سے ہوتا ہے لیکن حقیقت میں اس کا روزہ نہیں ہوتا نہ اس کی نگاہیں پاک ہوتی ہیں اور نہ اس کی زندگی پاکیزگی اور خداترسی کی آئینہ دار ہوتی ہیں۔ ایک حدیث پاک میں اس طرح آتا ہے کہ جس شخص نے (روزہ کی حالت میں) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس کی کچھ ضرورت نہیں کہ وہ (روزہ رکھ کر) اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔(بحوالہ بخاری)

Comments
Loading...