نیکیوں کا موسم بہار ماہ صیام ایک بار پھر ہم گناہ گار اور خطاکار بندوں کے لیے رحمت و مغفرت اور دوزخ کی آگ سے نجات کا سامان لیے جلوہ گر ہے۔ اس ماہ مبارک میں جس کسی کو نیکی و عبادت کی توفیق حاصل ہو گئی وہ سال بھر اس توفیق سے بہرہ مند ہوتا رہتا ہے اور اگر خدانخواستہ کوئی مسلمان اس ماہ میں نیکی و عبادت کی توفیق سے محروم رہ گیا تو پھر سال بھر اس کے حصے میں محرومی ہی آتی ہے اور عبادتوں و نیکیوں سے اس کا دامن خالی رہتا ہے اس لیے خوش قسمت ہیں وہ مسلمان جنہیں یہ مہینہ میسر آئے اور اس مہینے کی سعادتیں و برکتیں اس کے حصے میں آئیں،جن کو نمازوں کی ادائیگی کے ساتھ روزہ رکھنے، تراویح و نوافل پڑھنے، صاحب نصاب ہونے پر زکوٰۃ ادا کرنے، صدقہ فطر دینے اور اس کے ساتھ اس ماہ میں نازل ہونے والی کتاب ہدایت قرآن کریم پڑھنے کی توفیق ہو۔

رمضان المبارک کا شایان شان استقبال کرنے کے لیے شعبان ہی سے ذہن تیار کر لیجیے، اور رمضان المبارک کے لیے اپنے اوقات کار کو پہلے سے مرتب کر لیجیے جہاں تک ہوسکے اس ماہ میں ہر اس جائز کام سے بھی پرہیز کیجیے جس کو آپ چھوڑ سکتے ہیں۔پورے اہتمام اور شوق کے ساتھ رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کی کوشش کیجیے اور چاند دیکھ کر یہ مسنون دعا پڑھیے۔

اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰھُمَّ اَھِلَّہٗ عَلَیْنَا بِالْاِمْنِِ وَ الْاِیْمَانِ وَ السَّلَامَۃِ وَ الْاِسْلَامِ وَ التَّوْفِیْقِ لِمَا تُحِبُّ وَ تَرْضیٰ۔ رَبُّنَا وَ رَبُّکَ اللّٰہَُ۔            (بحوالہ ترمذی)

(( اللہ سب سے بڑا ہے،یا اللہ! اس چاند کو ہمارے لیے امن و ایمان، سلامتی اور اسلام کا چاند بنا کر طلوع فرما،اور ان کاموں کی توفیق کے ساتھ جو تجھے محبوب اور پسند ہیں،اے چاند! ہمارا رب اور تیرا رب اللہ ہے۔))

            حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:(۱) گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں،(۲)نماز قائم کرنا، (۳)زکوٰۃ ادا کرنا، (۴)حج ادا کرنا اور(۵) رمضان کے روزے رکھنا۔‘‘(بخاری ومسلم)

 

جس طرح دوسرے ارکان اسلام اور دین کی عمارت کے قیام کا باعث ہیں اسی طرح روزہ بھی دین کی عمارت کا ایک عظیم الشان ستون ہے۔روزہ مسلمانوں میں صبر،ضبط،ایثار،بردباری،تحمل،مروت،سلوک،غم خواری،حوصلہ، ثابت قدمی اور احساس غربت جیسے فضائل پیدا کرتا ہے۔ آدمی کو مشکلات اور مصیبتوں پر قابو پانے کا عادی بناتا ہے،بھوک پیاس پر قابو پانے سے اس کو جفا کشی اور جہاد کی مشقت برداشت کرنے کا سبق سکھاتا ہے،شہوت کو دبا کر روحانیت کو ابھارتا اور انسان کے اخلاق و کردار کو سنوارتا ہے۔

ایک موقعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اسلام کی بنیادیں تین ہیں جن پر اسلام کی عمارت تعمیر کی گئی ہے جو کسی ایک کو چھوڑ دیتا ہے وہ کافر ہے اور اس کا خون حلال ہے،اس بات کی شہادت کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں،فرض نماز اور رمضان کے روزے۔(رواہ ابویعلی)

رمضان المبارک میں عبادات سے خصوصی شغف پیدا کیجیے فرض نمازوں کے علاوہ نوافل کا بھی خصوصی اہتمام کیجیے اور زیادہ سے زیادہ نیکی کمانے کے لیے کمر بستہ ہو جائیے یہ عظمت و برکت والا مہینہ ہے اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت اور رحمت کا مہینہ ہے۔ شعبان کی آخری تاریخ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کی برکتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اے لوگو ! تم پر ایک عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ فگن ہو  رہا ہے،اس مبارک مہینہ کی ایک رات (شب قدر) ہزار مہینوں سے بہتر ہے،اس مہینے کے روزے اللہ تعالیٰ نے فرض کیے ہیں اور اس کی راتوں میں بارگاہ خداوندی میں کھڑا ہونے(یعنی نماز تراویح پڑھنے) کو نفل عبادت مقرر کیا ہے (جس کا بہت بڑا ثواب رکھا ہے) جو شخص اس مہینے میں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے کوئی غیر فرض عبادت (یعنی سنت یا نفل) ادا کرے گا تو اس کو دوسرے زمانے کے فرضوں کے برابر اس کا ثواب ملے گا،اور اس مہینے میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانے کے ستر (70)فرضوں کے برابر ملے گا۔(بحوالہ بیہقی)

ایک اور موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رمضان المبارک میں چار چیزوں کی کثرت کیا کرو، دو باتیں ایسی ہیں کہ تم ان کے ذریعہ اپنے رب کو راضی کرو گے اور دو چیزیں ایسی ہیں کہ تم ان سے بے نیاز نہیں ہوسکتے پہلی دو باتیں جن کے ذریعہ تم اللہ تعالیٰ کو راضی کرو گے یہ ہیں لا الہ الا اللہ کی گواہی دینا اور استغفار کرنا اور وہ دو چیزیں جن سے تم بے نیاز نہیں وہ یہ ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو اور جہنم سے پناہ مانگو۔(بحوالہ ابن خزیمہ)