Owais Razvi Qadri Siddiqui
Sufi Singer

ہم رمضان کی تیاری کیسے کریں؟

1,109

ہم رمضان کی تیاری کیسے کریں؟
ڈاکٹر مشاہد حسین رضوی

ہمارے لئے ضروری ہیکہ اس ماہ مبارک کی عظمت کے پیش نظر بارگاہ الہی میں توبہ و استغفار کرتے ہوئے اس کا استقبال کریں،ان عظمت و سعادت والے لمحات کو غنیمت سمجھتے ہوئے اس کے فیوض وبرکات حاصل کریں اور اپنے اوقات کو عبادت وریاضت اورنیک کام کرنے میں صرف کریں، تلاوت کلام مجیدکا خوب اہتمام کریں،متعلقہ افرادکے حقوق اداکردیں،معاملات کوصاف ستھرابنالیں، زکوٰۃ اداکرکے غریبوں کورمضان کی عبادت کے لئے فارغ ہوجانے کا موقع فراہم کریں۔ماہ رمضان کی آمد سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ طویل خطبہ’ استقبال رمضان کی اہمیت کو اُجاگر کرتاہے ، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد فرمایاہوا اک اک کلمہ اپنے اندر بڑی معنویت کو سمویا ہواہے ، حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خطبہ کے آغاز میں ساری انسانیت سے خطاب فرمایا،آپ نے عالم انسانیت کو دعوت دی۔ماہ رمضان کے بارے میں فرمایا:’’تم پر ایک عظمت والا مہینہ سایہ فگن ہوچکا ہے ،، آمد کو بتلانے کے عربی زبان میں بہت سے الفاظ موجود ہیں ، لیکن حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم� نے “أَظَلَّ”(سایہ فگن ہونے )کا لفظ استعمال فرمایا، اس لئے کہ سایہ کے لفظ سے رحمت وشفقت ،لطف ومہربانی ذہن میں آتی ہے ،جس طرح گھنادرخت اپنے سایہ میں رہنے والوں کو دھوپ کی سختی اور بارش سے بچاتاہے اسی طرح جو شخص ماہ رمضان کے سایہ میں آتاہے، اس کے معمولات میں مصروف رہتاہے، ماہ رمضان اُسے قبر کی تنگی، حشر کی سختی اور دوزخ کی گرمی سے بچالیتاہے ۔ یہ لفظ بتلارہاہے کہ ماہ رمضان کا لمحہ لمحہ بندے، اللہ تعالی کی خصوصی رحمت وشفقت اور لطف ومہربانی سےمالامال ہوتے ہیں ۔جہاں شفقت ومہربانی زیادہ ہوتی ہے وہاں بسا اوقات غفلت وتساہل ہوجاتاہے؛ جیسے والدین میں باپ کی بہ نسبت ماں اولاد پر زیادہ مہربان ہوتی ہے، اسی وجہ سے اولاد ماں کی اطاعت میں نسبۃً زیادہ سست دکھائی دیتی ہے ، اسی وجہ سے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رحمت کے ساتھ عظمت کو آشکار فرمایاکہ جو مہینہ تم پر سایہ فگن ہورہاہے وہ رحمتوں والا مہینہ ہے ، جو مہینہ تمہارے پاس آیا ہے وہ لطف ومہربانی والا مہینہ ہے اور یہ مہینہ عظمت والابھی ہے ، اس کے تقدس کو پامال نہ کیا جائے ، یہ بڑی شان والامہینہ ہے، اس کی قدردانی کی جائے ، جو اس کی عظمت وتقدس کو ملحوظ رکھتاہے ، اُس پر کرم دوبالاہوجاتاہے اور جو اس کی قدردانی نہیں کرتاوہ رحمت سے دور ہوجاتاہے ۔
ماہ رمضان کا احترام نجات کاذریعہ:
حضرت ابوالحسنات سید عبداللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب” فضائل رمضان” میں ماہ رمضان کی عظمت بجالانے سے متعلق ایک حکایت ذکرفرمائی ہے :ایک پارسی تھے ، اپنے بیٹے کو دیکھے کہ رمضان کے مہینہ میں بازار میں کھاتاجارہاہے ، جیسے پان وغیرہ تو اپنے بیٹے کو مارے اور کہے کہ نالائق !مسلمانوں کے رمضان کی عزت نہیں کرتا! کسی نے پارسی کو اس کے مرنے کے بعد دیکھا کہ جنت میں تخت پر بیٹھا ہے ، پوچھا کہ جنت میں کیسے پہنچ گئے ؟ وہ کہے کہ جب میرا وقت قریب آیا، حکم ہوا کہ فرشتو!اس کو کفرپر مت رہنے دو ، اس سے کہو کہ تونے رمضان کی عزت کی ہے اس لئے ہم کہتے ہیں کہ تو ہماری خاطر مسلمان ہوجا ! میں مسلمان ہونے کے بعد سکرات شروع ہوئی ۔(فضائل رمضان ، ص:25)
ماہ رمضان کی ناقدری ‘مغفرت سے محرومی:
جو شخص ماہ رمضان کی قدر نہیں کرتا اور اس مہینہ میں اپنے لئے سامان مغفرت حاصل نہیں کرتا ،اُس کے لئے ہلاکت بتلائی گئی ہے ، جیساکہ مستدرک علی الصحیحین میں حدیث پاک ہے :ترجمہ:حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے کہا ، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:منبر کے پاس جمع ہوجاؤ، تو ہم منبر شریف کے پاس حاضر ہوگئے ، جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر کی ایک سیڑھی پر قدم مبارک رکھے تو آمین فرمایا، جب دوسری سیڑھی پر قدم مبارک رکھے تو آمین فرمایا اور جب تیسری سیڑھی پر قدم مبارک رکھے تو آمین فرمایا۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر شریف سے نیچے تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!ہم نے آج منبر پر آپ کو تشریف لے جاتے وقت ایسے کلمات سنے کہ اس سے پہلے اس طرح نہ سنے تھے ؟ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکہ جبریل امین میرے پاس حاضر ہوئے اور کہا :جو شخص رمضان کو پائے اور اس کی مغفرت نہ ہو وہ رحمت الہی سے دور ہو ، میں نے کہا :آمین ۔ جب میں دوسری سیڑھی پر قدم رکھا تو جبریل نے کہا:جس شخص کے سامنے آپ کا نام مبارک ذکر کیا جائے اور وہ آپ پر درود نہ پڑھے وہ رحمت الہی سے دور ہو، میں نے کہا :آمین۔ جب میں تیسری سیڑھی پر قدم رکھا تو جبریل نے کہا :جس شخص کے والدین یا ان میں سے ایک بڑھاپے کو پہنچ جائے اور وہ ان کی خدمت کر کے جنت کا حقدارنہ بن سکے� وہ رحمت الہی سے دور ہو، میں نے کہا :آمین۔(مستدرک علی الصحیحین ، کتاب البروالصلۃ،حدیث نمبر:7365)
ماہ رمضان میں ثواب کی شرح میں اضافہ:یہ مہینہ برکتوں کا سرچشمہ ہے ، اس ماہ مبارک میں کرم دوبالاہوتاہے ، دیگر گیارہ مہینوں میں نفل کا ثواب نفل کے برابراور فرض کا ثواب فرض کے برابر ہوتاہے لیکن اس مہینہ میں ثواب کی شرح بڑھادی جاتی ہے ، عمل وہی ہوتاہے ،ثواب بڑھادیا جاتاہے، جوشخص نفل ادا کرتاہے اُسے فرض کے برابر ثواب دیا جاتاہے ، جو شخص فرض ادا کرتاہے اُسے ستّر (70)فرائض کے برابر ثواب دیا جاتاہے ۔نماز کی ادائیگی کی بات ہوتو نماز کے ارکان وہی ہیں ، مال خرچ کرنے کا معاملہ ہویاکوئی عمل ہو،مشقت اسی قدر ہے، وہی ہے جو دوسرے مہینوں میں ہوتی ہے ، لیکن ماہ رمضان کی یہ خصوصی برکت ہے کہ اجروثواب بڑھادیاجاتاہے ۔
اہل ایمان کے رزق میں اضافہ:اس مبارک مہینہ میں ایمان والوں کا رزق بڑھادیاجاتاہے ، ظاہری رزق بھی بڑھایاجاتاہے اور باطنی رزق بھی ، جسمانی غذامیں بھی اضافہ ہوتاہے اور روحانی غذا میں بھی ، ظاہری رزق اضافہ ہوتوہمارا مشاہدہ ہے ، کسی شخص کے لئے سال بھر جو غذائیں ، میوہ جات وغیرہ میسر نہیں آتیں ،تنگدست سے تنگدست مسلمان کے لئے اس مبارک مہینہ میں بہ آسانی میسرآجاتی ہیں ، جگہ جگہ افطاری تقسیم کی جاتی ہے ، سحروافطار کے لئے مدعوکیاجاتاہے ، رزق کا بڑھنا رزق کے وسائل واسباب پر موقوف ہوتاہے ، اس ماہ میں کسب کے وسائل بڑھ جاتے ہیں ، معاشی اسباب میں غیرمعمولی اضافہ ہوتاہے ، بے روزگار افراد بھی کسب معاش کرکے بہت کچھ حاصل کرلیتے ہیں اور حدیث پاک کی برکت ہی ہے کہ رمضان کے مہینہ میں عام طورپر ملازمین کو بونس دیاجاتاہے ۔باطنی رزق کے کیا کہنے !ہرمسلمان پر اللہ تعالی کی خصوصی عنایتیں ہوتی ہیں ، ماہ رمضان کے صبح وشام رحمتیں نازل ہوتی ہیں ، شب وروز رحمت الہی میں ڈوبے ہوئے رہتے ہیں لیکن اُسے اہل دل حضرات ہی جانتے ہیں ، اس سے اہل نظر واقفیت رکھتے ہیں، مشاہدہ کرتے ہیں ، خصوصی تجلیات الہی سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔
ماتحتوں کا بوجھ کم کرنے کی ہدایت:حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس ماہ مبارک میں غلاموں کے بوجھ کم کرنے کی تاکید فرمائی ، ارشاد فرمایا:جوشخص اس مہینہ میں اپنے غلام سے بوجھ کوکم کرے اللہ تعالی اس کی مغفرت فرمائے گا اور اس کو دوزخ سے آزادفرمائے گا ۔اس حدیث پاک کے ضمن میں ہروہ فرد آتاہے جس کے تحت کوئی کام کرتاہے ، جس کی نگرانی میں کوئی ذمہ داری پوری کرتاہے ، جو اپنے ماتحت افراد کی ذمہ داریوں کو کم کرتاہے ؛ اللہ تعالی سے امید ہے کہ اللہ تعالی اُسے بھی اجروثواب سے نوازدے۔عہدہ دار اپنے ملازمین کی ذمہ داریوں کو کم کرے ، مینیجر اپنے ورکرس کا بوجھ ہلکا کرے ، ہروہ شخص جودوسروں پرانتظامی طورپر بالادستی رکھتاہے ، اُن کے لئے سہولت فراہم کرے ، آسانی کی راہ نکالے ۔آخرمیں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں ماہ رمضان کا بہتر طورپر استقبال کرنے کی توفیق بخشے ، اس کے لئے کامل طورپر تیاری کرنے کی ہدایت عطا کرے ،اس مبارک مہینہ کے ہرلحظہ کی قدردانی کرنے والا بنائے ، اس کی خصوصی برکتوں سے ہمارے ظاہروباطن کو معمور کردے۔

Comments
Loading...