Owais Razvi Qadri Siddiqui
Sufi Singer

Husain ka buland Farsh o Arsh Par Maqam Hai

88

حُسین کا بلند فرش و عرش پر مقام ہے
عقیدتوں کی بزم کا وہ بالیقیں امام ہے
حُسین عظمتوں کا رفعتوں کا ایک نام ہے
حُسین ذی وقار ہے، حُسین ذوالکرام ہے
حُسین میری زندگی ، حُسین میری آبرو
حُسین کا ہر اہلِ دل کے دل میں احترام ہے
وہ ایک لفظ صبر ہے عقیدہ جس کو کردیا
حُسین صبر و ضبط کا حَسین ایک نام ہے
حسین گلشنِ محمدی کا ایک پھول ہے
وہ خلد کے ہر اک جواں کا سید و امام ہے
ہر ایک حق پرست کی ہے قبلہ گاہ کربلا
ہر ایک حق پسند کا حُسین ہی امام ہے
یزید اور یزیدیت کے ہم نواؤ جان لو
تمھارے واسطے بہشت بالیقیں حرام ہے
رسولِ پاک سے نجات کی سند وہ پائے گا
حسینیت کا جس کسی کے دل میں احترام ہے
ہر ایک ذرہ ریگ زارِ کربلا کا ہے گواہ
یزیدیت فنا ہوئی حسینیت مدام ہے
ہے کربلا کے جاں نثاروں کے لہو کی سرخیاں
یہ دیں جو سرخ رو ہوا ، شفق جو لالہ فام ہے
نہ ظالموں کا خوف ہے نہ جبر سے مجھے حذر
مرا وظیفہ ہر گھڑی حسین ہی کا نام ہے
حسین لا زوال ہے حسین زندہ جاوداں
ولا تقولوا حق تعالیٰ کا سنو کلام ہے
ادا ہوئی نماز جو بہ زیرِ تیغِ آب دار
کوئی نہ ویسا سجدہ ہے، نہ ویسا اب قیام ہے
یہ خستہ جاں مُشاہدؔ آپ کی ثنا کرے سدا
مرے لبوں پہ یاحُسین عرض یہ مدام ہے

Comments
Loading...