Owais Razvi Qadri Siddiqui
Sufi Singer

میں نے پختہ ارادہ کیا کہ آئندہ نماز میں کبھی سستی نہیں کروں گا

451

میں جلدی جلدی آفس سے گھر آیا۔۔ اور اماں کو کھانے کا کہہ کر وضو کرنے چلا گیا۔۔۔ مغرب کا وقت ختم ہونے والا تھا۔۔

جیسے تیسے وضو کیا اور نیت باندھ لی۔۔۔ دوران نماز بار بار اپنے گیلے چہرے کو اپنی کھلی آستینوں سے صاف کرتا رہتا۔۔۔

رکوع میں جاتے خیال آیا:
” اماں کی دوائی تو لانا بھول ہی گیا۔۔۔ اوہ واپسی پر بچوں کی فیس کیلئے پیسے بھی اے ٹی ایم سے نکالنے تھے.۔۔

پھر سجدہ کیا تو وہاں بھی گھریلو ذمہ داریاں ایک ایک کر کے یاد آنے لگیں۔۔۔۔ تھکاوٹ کی وجہ سے نماز میں نیند کی جھٹکے آنے لگے.۔۔ بس پھر کیا تھا سجدے میں جاتے ہی نیند (غنودگی) کا جھونکا آ گیا۔۔۔۔

نیند میں عجیب منظر دیکھا۔۔۔
لوگوں کا ہجوم۔۔۔ ہر کوئی یہاں وہاں بھاگ رہا تھا۔۔۔ کچھ لوگ کاغذ تقسیم کر رہے تھے۔۔ میرے پاس آکر بھی کاغذ تھما دیا۔۔ جس پر میرا نام لکھا تھا۔۔

پوچھنے پر بتایا گیا یہ تمہارا اعمال نامہ ہے۔۔ اب جا کر وہاں سامنے جمع کروا دو جہاں باقی سب جمع کروا رہے ہیں۔۔
پھر نام پکارا جائیگا فیصلے کیلئے…
میں نے بھی جا کر کاغذ جمع کروا دئیے اور لائن میں واپس آگیا اور اپنے نام پکارے جانے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔
نام پکارا جانے لگا.۔۔
” فلاں بن فلاں : جنت ”
” فلاں بن فلاں : جنت ”
اب تیسرے نمبر پر میرا نام پکارا گیا۔۔ میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔۔ یا اللہ اب کیا بنے گا۔۔۔
ساتھ ہی فیصلہ بھی سنا دیا گیا ” جہنم ”

مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔۔ دو قد آور لوگ آئے اور مجھے گھسیٹنے لگے۔۔ میں پکارنے لگا رکو رکو…..
۔۔۔ شاید یہ کسی اور کا نام ہوگا۔۔ میرا تو ” جنت ” والوں میں آنا تھا۔۔۔
مگر مجھے غصے سے خاموش کروا دیا گیا.
” ہمارے ہاں فیصلے میں غلطی کا امکان ہی نہیں ”

مجھے جہنم کیطرف گھسیٹا جا رہا تھا اور میں مدد کی بھیک مانگتا جاتا۔۔۔
نہ میں جھوٹ بولتا تھا۔۔۔ نہ دھوکہ فریب دیتا۔۔۔ نہ شراب اور زنا جیسے کام میں ملوث تھا۔۔ پھر جہنم کیوں.!!! مگر کوئی سننے کو تیار نہیں تھا۔۔۔

جہنم کی گرمی مجھے محسوس ہونے لگی۔۔ اندھیرے گڑھے میں مجھے پھینکنے کو تیار کھڑے تھے۔۔۔ مجھے اچانک اپنی نماز کا خیال آیا۔۔۔ نماز ۔۔۔۔ نماز ۔۔۔۔ کہاں ہو تم….؟؟؟
نماز بھی خاموش۔۔۔

جہنم کی آگ کے شعلے مجھ سے لپٹنے کو بے چین ہو رہے تھے۔۔۔ اور مجھے جہنم میں دھکّا دے دیا گیا. مجھے جیسے ہی دھکا دیا ایک سفید بزرگ نے فورا میرا ہاتھ تھام لیا اور مجھے جہنم سے باہر کھینچتے ہوئے باہر نکالا۔۔۔
میں ڈر سے کانپ رہا تھا۔۔۔ پوچھنے لگا۔۔ آپ کون ہیں اور مجھے کیوں بچایا.!!!
کہنے لگے میں تمہاری نماز ہوں۔۔ میں غصے سے چلایا ۔۔ اب آرہے ہو جب میں جہنم میں ڈالنے جا رہا تھا؟؟؟ اگر عین وقت پر تم نہ آتے تو میں تو چلا گیا تھا جہنم میں۔۔۔۔ پہلے نہیں آسکتے تھے تم؟؟؟
بزرگ کہنے لگے۔۔۔ جیسے تم مجھے تاخیر سے پڑھتے تھے کبھی وقت پر نہیں پڑھا ویسے ہی میں بھی تاخیر سے آیا ہوں۔۔۔۔ کبھی تم نے مجھے وقت پر پڑھا ہی نہیں تو میں وقت پر کیسے آتا۔۔۔۔
میری اکھڑی اکھڑی سانس اب قدرے بحال ہونے لگی۔۔۔

میری ماں نے آکر مجھے سجدے میں ہلایا تو میری آنکھ کھلی۔۔۔
بیٹا خیر ہے؟؟ تم ” نماز، نماز پکار رہے تھے سجدے میں۔۔۔ میں حیرت سے خود کو ٹٹولنے لگا کہ میں زندہ ہوں۔۔!!
پسینے سے شرابور۔۔
ماں کے ہاتھوں کو چومنے لگا۔۔۔۔۔ اللہ کا شکر ادا کرنے لگا جیسے دوبارہ نئی زندگی ملی ہو مجھے۔۔.
اور
میں نے پختہ ارادہ کیا کہ آئندہ نماز میں کبھی سستی نہیں کروں گا.

اب میں جہاں کہیں بهی جاتا ہوں تو وہاں بھی نماز کی فکر رہتی ہے۔۔۔ کان ہر وقت آذان سننے کو تیار رہتے ہیں ۔۔ اب میں لیٹ نہیں ہونا چاہتا نماز میں۔۔

دوستو ! چاہے دنیا کے کسی کونے میں کیوں نہ ہوں۔۔۔ کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں۔۔۔۔۔ زمین یہاں سے وہاں ہی کیوں نہ کر دی جائے۔۔۔ بس یہ یاد رکھنا۔
“نماز اپنے وقت پر ادا کرنا نہ بھولنا”

Comments
Loading...