Owais Razvi Qadri Siddiqui
Sufi Singer

‏انسان الله تعالٰی کی بنائی ہوئی مشین ہے۔ اس میں کس قدر باریکیاں ہیں

305

موجودہ حالات میں امراض کی کثرت ہے، کیا امیر، کیا غریب، کیا شہری، کیا دیہاتی؛ جس کو دیکھو بیماریوں کا رونا رو رہا ہے۔ اگر حقیقت کی طرف دیکھا جائے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب بیماریاں ہم نے خود خریدی ہیں۔

دُنیا کا نظام ہے کہ جب بھی کوئی نئی چیز ایجاد ہوتی ہے، چھوٹی یا بڑی، اس کی پیکنگ میں ہدایت پر مشتمل لٹریچر ہوتا ہے، جس میں اس چیز کے استعمال کے متعلق ہدایات اور احتیاطی تدابیر کا اندراج ہوتا ہے۔

انسان الله تعالٰی کی بنائی ہوئی مشین ہے۔ اس میں کس قدر باریکیاں ہیں کہ سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخن تک ایک مکمل نظام ہے۔

انسانی جسم میں ایک پوری کائنات ہے تو سوچئے کیا الله تعالٰی نے اتنی بڑی مشینری بنائی لیکن اس کے ساتھ کوئی ہدایات اور احتیاطی تدابیر نہیں بتلائیں؟

یقیناً الله تعالٰی نے اپنی قدرت کا نمونہ انسان کو بنایا اور ہدایات پر مشتمل کتاب سے بھی نوازا جو ہر جگہ موجود ہے اور کمسن حافظ بچے کے سینے میں بھی محفوظ ہے۔ بس ذرا سی توجہ کرکے اس سے معلومات لی جاسکتی ہیں اور وہ کتاب کوئی اور نہیں “قرآن مجید” ہے۔

قرآنی ہدایات کو سنتِ نبوی صلی الله علیہ وسلم کی روشنی میں عمل میں لا کر اپنی روحانی و جسمانی صحت کا سامان کیا جا سکتا ہے۔

اب آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ ہم قرآنی ہدایات پر کتنا عمل کر رہے ہیں۔ اپنی جسمانی صحت کو بنا رہے ہیں یا خراب کر رہے ہیں۔

صرف ایک چیز دماغ کو لےلیجئے، یہ الله تعالٰی نے کتنی عظیم نعمت بنائی ہے۔ جس میں کیا کچھ رکھا گیا ہے۔ قرآن و سنت کی ہدایات کے مُطابق ہم نے اپنے دماغ کی حفاظت کا کیا خیال رکھا؟ جس کو دیکھئے شکایت کرتا نظر آتاہے کہ دماغ خالی ہے، نیند نہیں آتی، بُرے وساوس آتے ہیں، دماغ کام نہیں کررہا۔

قرآنِ کریم کی ہدایت سنئے…:
وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ لِبَاسًا ﴿78:10﴾ وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا ﴿78:11﴾
کہ ہم نے رات کو آرام، اور دن کو معاش کیلئے بنایا ہے۔

آج کل دن کا آغاز گیارہ بجے ہوتا ہے، اور رات کا آغاز رات کے گیارہ بجے ہوتا ہے۔ جبکہ اسلامی لحاظ سے سورج کے طلوع سے دن کا آغاز، اور غروب سے رات کا آغاز ہو جاتا ہے، گویا مغرب کی اذان سے ہی رات شروع ہو جاتی ہے۔

عموماً رات کے بارہ ایک بجے سونے کی عادت بنالی جاتی ہے، حالانکہ الله کے برگزیدہ بندے اس وقت نیند سے جاگ کر الله تعالٰی سے مناجات میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ گویا ہمارا نظام الله کی ہدایات کے بالکل اُلٹ چل رہا ہے اور جب ایسا ہوگا تو یقیناً دماغ متاثر ہوگا۔

پھر کیا ہوگا… دماغ کے اسپیشلسٹ معالج کے پاس جارہے ہیں کہ نیند نہیں آتی۔ وہ ہزاروں روپے کے مہنگے ٹیسٹ لکھ دے گا، پھر انہیں سرسری انداز میں دیکھ کر مہنگی دوائیں لکھ دے گا۔

مہنگے ٹیسٹ الله کی طرف سے سزا ہے، پھر مہنگی دوائیں بھی ایک عذاب ہے جو قرآن کی ہدایات کو فراموش کرنے پر بھگتنا پڑتا ہے۔

پھر ان دواؤں کے مضر اثرات بھی اپنا رنگ دکھاتے ہیں اور بعض اوقات ایسی دوائیں مستقل کھانا پڑ جاتی ہیں۔ بعض دواؤں سے دماغ میں مزید خشکی پیدا ہو جاتی ہے، اور رہی سہی نیند بھی جاتی رہتی ہے۔

ہم اپنی جسمانی صحت کو بچانے کے لیے ہر تدبیر کر لیتے ہیں، لیکن جو اصل قرآنی ہدایت ہے اس کی طرف توجہ نہیں کرتے کہ ہم اپنی زندگی کو فطری قوانین کے مطابق کرلیں۔ رات کو نماز عشاء کے بعد جلد سوئیں، اور بآسانی تہجد کے لیے اُٹھ جائیں، ورنہ کم از کم نماز فجر باجماعت ادا کرلیں۔

قرآنی ہدایت ہے کہ ہم وقت پر سوئیں اور صبح برقوت بیدار ہوں۔ اس ہدایت کو چھوڑ کر ہم اپنی جسمانی صحت کو ہی نہیں، بلکہ دماغ جیسے قیمتی اور حساس عضو کو بھی بیمار کر لیتے ہیں۔

آپ نے دیکھا کہ قرآنی ہدایات میں سے ایک ہدایت کی خلاف ورزی کس طرح ہمارے جسم کو بیماریوں کا مجموعہ بنا دیتی ہے۔

اگر ہم قدم قدم پر قرآنی ہدایات کو چھوڑ کر غیراسلامی طرزِ حیات اور خوردونوش، لباس و معمولات میں من مانی کریں گے تو الله تعالٰی کی ناراضگی کے ساتھ ساتھ ہم اپنی دُنیاوی زندگی بھی بے مزہ کر بیٹھیں گے کہ جان ہے تو جہان ہے۔

الله تعالٰی ہماری آخرت بھی اچھی دیکھنا چاہتے ہیں اور ہمیں دُنیاوی اعتبار سے بھی صحت مند اور پُرسکون زندگی دینا چاہتے ہیں؛ لیکن ہم قرآنی ہدایات کو فراموش کرکے اپنے جسم اور روح دونوں کو بیمار کرلیتے ہیں اور یوں اپنے ہاتھوں بیماریاں خریدتے ہیں۔

دُعا ہے کہ الله تعالٰی ہمیں قرآنی ہدایات پر عمل کی توفیق سے نوازیں… آمین

Comments
Loading...