Owais Razvi Qadri Siddiqui
Sufi Singer

وقت کی قدروقیمت کو پہچانیں – وقت کا بہتر استعمال کریں

403

روایت ہے کہ ایک رات سلطان محمود غزنوی رات کے وقت معمول کے مطابق گشت پر تھے اور ایک تندور کے پاس کسی شخص کو سویا ہوا دیکھا تو اس کو اٹھا کر پوچھا کہ وہ کون ہے جواب میں اس شخص نے بتایا کہ وہ غریب مزدور ھے دن بھر مزدوری کرتا ہے اور رات کو اس تندور کے پاس ھی سو جاتا ہے۔

سلطان نے پوچھا کہ اس سردی میں اس کی رات کیسے گزرتی ہے تو اس مزدور نے جواب میں جو کہا اس نے سلطان کو ھلا کے رکھ دیا۔

مزدور نے کہا جناب نصف رات آپ کے انداز میں گزرتی ہے اور بقیہ نصف آپ سے زیادہ اچھے انداز میں گزارتا ہوں سلطان نے بڑی حیرت سے پوچھا کہ وہ کیسے؟

مزدور نے جواب دیا کہ جب تک تندور گرم رہتا ہے تو میں آپ کے جیسی نیند سے لطف اندوز ہوتا ھوں اور جب تندور ٹھنڈا ہو جاتا ہے تو اٹھ کے اللہ کی عبادت شروع کر دیتا ہوں جو آپ کے مقابلے میں وقت کا بہتر استعمال ھے ۔

وقت کی قدروقیمت کو پہچانیں

کچھ خریدنے سے پہلے یہ دیکھیں کہ جتنا پیسہ آپ اِس چیز پر خرچ کریں گے،‏ اُتنا پیسہ کمانے میں آپ کو کتنا وقت صرف کرنا پڑے گا۔‏ ”‏اِس کے بعد فیصلہ کریں کہ آیا آپ اِس چیز کو خریدیں گے یا نہیں۔‏“‏—‏مصنف اور ماہرِنفسیات چارلس سپاتسانو۔‏
”‏کاش میرے پاس اِتنا وقت ہوتا!‏“‏ آپ نے زندگی میں یہ بات کتنی بار کہی ہے؟‏ دیکھا جائے تو وقت ایک ایسی چیز ہے جو ہر شخص کے پاس ایک جتنی ہے،‏ چاہے یہ شخص امیر ہو یا پھر غریب۔‏ نہ تو کوئی امیر اور نہ ہی کوئی غریب وقت کو اپنی مٹھی میں قید کر سکتا ہے۔‏ اگر یہ ایک دفعہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو پھر واپس نہیں آتا۔‏ لہٰذا سمجھ‌داری کی بات یہ ہے کہ ہم اپنے وقت کا اچھا اِستعمال کریں۔‏ لیکن ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟‏ آئیں،‏ چار ایسے طریقوں پر غور کرتے ہیں جن کی مدد سے بہت سے لوگوں نے وقت کا بھرپور اِستعمال کرنا سیکھا ہے۔‏

پہلا طریقہ:‏ منظم ہوں

دیکھیں کہ کون‌سے کام زیادہ اہم ہیں۔‏ پاک کلام میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ”‏آپ وہ باتیں قبول کریں جو بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔‏“‏ (‏فلپیوں 1:‏10‏،‏ اُردو جیو ورشن‏)‏ اُن کاموں کی فہرست بنا لیں جو آپ کے خیال میں اہم ہیں یا جنہیں فوراً کِیا جانا چاہیے۔‏ لیکن ایسا کرتے وقت اِس بات کو ذہن میں رکھیں کہ کچھ کام اہم تو ہوتے ہیں لیکن اُنہیں فوری طور پر کرنا ضروری نہیں ہوتا۔‏ مثال کے طور پر رات کے کھانے کے لیے اشیا خریدنا ایک اہم کام ہے لیکن شاید ضروری نہیں کہ اِسے فوری طور پر کِیا جائے۔‏ اِس کے علاوہ کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جن کے بارے میں ہمیں لگتا ہے کہ اُنہیں فوراً کِیا جانا چاہیے لیکن شاید ایسے کام اہم نہیں ہوتے جیسے کہ کوئی پسندیدہ ٹی‌وی پروگرام دیکھنا۔‏

دُور کی سوچیں۔‏ ‏”‏اگر کلہاڑا کُند ہے اور آدمی دھار تیز نہ کرے تو بہت زور لگانا پڑتا ہے پر حکمت ہدایت کے لئے مفید ہے۔‏“‏ (‏واعظ 10:‏10‏)‏ اِس سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟‏ اگر ایک شخص پہلے سے اپنے کلہاڑے کو تیز کر لیتا ہے تو وہ زیادہ مؤثر طریقے سے لکڑیاں کاٹ سکتا ہے۔‏ اِسی طرح اگر ہم پہلے سے منصوبہ بناتے ہیں کہ ہم کس وقت کیا کام کریں گے تو ہم اپنے وقت کو زیادہ مؤثر طریقے سے اِستعمال کر سکتے ہیں۔‏ ایسے کاموں کو بعد میں کریں یا بہتر ہے کہ نہ ہی کریں جو شاید اِتنے اہم تو نہیں ہیں لیکن آپ کا بہت سا وقت اور توانائی لے لیتے ہیں۔‏ اگر آپ وقت سے پہلے اپنا کام ختم کر لیتے ہیں تو کیوں نہ وہ کام شروع کریں جسے آپ بعد میں کرنا چاہتے تھے؟‏ جب آپ پہلے سے سوچ لیتے ہیں کہ آپ کون‌سا کام کب کریں گے تو آپ کم وقت میں زیادہ کام نپٹا سکیں گے۔‏ یوں آپ اُس سمجھ‌دار آدمی کی طرح ہوں گے جو لکڑیاں کاٹنے سے پہلے اپنے کلہاڑے کو تیز کرتا ہے۔‏

اپنی زندگی کو سادہ رکھیں۔‏ کوشش کریں کہ آپ ایسے کاموں کو نہ کریں جو زیادہ اہم نہیں ہیں یا جن کی وجہ سے صرف آپ کا وقت خرچ ہوتا ہے۔‏ اگر آپ خود کو بہت زیادہ کاموں میں اُلجھائیں گے تو یہ بِلاوجہ کی پریشانی کا باعث بن سکتا ہے اور آپ کی خوشی کو ختم کر سکتا ہے۔‏

دوسرا طریقہ:‏ اپنا وقت ضائع نہ ہونے دیں

کاموں کو نہ ٹالیں اور فیصلے کرنے سے نہ گھبرائیں۔‏ ‏”‏جو ہوا کا رُخ دیکھتا رہتا ہے وہ بوتا نہیں اور جو بادلوں کو دیکھتا ہے وہ کاٹتا نہیں۔‏“‏ (‏واعظ 11:‏4‏)‏ اِس سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟‏ اگر ہم ایک کام کو ٹالتے رہیں گے تو اِس سے نہ صرف ہمارا وقت ضائع ہوگا بلکہ وہ کام بھی اپنے انجام کو نہیں پہنچے گا۔‏ غور کریں کہ اگر ایک کسان موسم کے اچھا ہونے کا اِنتظار کرتا رہے گا تو وہ نہ تو بیج بو سکے گا اور نہ ہی فصل کاٹ سکے گا۔‏ اِسی طرح اگر ہم یہ سوچتے رہیں گے کہ ناجانے کل کیا ہوگا تو ہمارے لیے فیصلے کرنا مشکل ہو جائے گا۔‏ شاید ہم سوچیں کہ ہمیں اُس وقت تک ایک معاملے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے جب تک ہمارے پاس ہر چھوٹی سے چھوٹی معلومات نہ ہو۔‏ بِلاشُبہ اہم فیصلے کرنے سے پہلے ہمیں تحقیق کرنی چاہیے اور معاملے پر غوروخوض کرنا چاہیے۔‏ اِسی لیے پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏ہوشیار آدمی سوچ‌سمجھ کر قدم اُٹھاتا ہے۔‏“‏ (‏امثال 14:‏15‏،‏ نیو اُردو بائبل ورشن‏)‏ لیکن ہمیں اِس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ ہمیں زندگی میں بہت سے ایسے فیصلے کرنے پڑتے ہیں جن کے بارے میں ہم نہیں جانتے کہ اِن سے کیا نتیجہ نکلے گا۔‏—‏واعظ 11:‏6‏۔‏

خود سے حد سے زیادہ توقعات نہ کریں۔‏ ‏”‏خاکساروں کے ساتھ حکمت ہے۔‏“‏ (‏امثال 11:‏2‏)‏ بِلاشُبہ ہم چاہتے ہیں کہ ہم ایک کام کو اچھی طرح سے کریں اور یہ بہت اچھی عادت ہے۔‏ لیکن کبھی‌کبھار شاید ہم خود سے حد سے زیادہ توقعات وابستہ کر لیتے ہیں اور اِس وجہ سے ہمیں مایوسی یہاں تک کہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‏ اِس سلسلے میں ایک مثال پر غور کریں۔‏ جب ایک شخص کوئی دوسری زبان سیکھتا ہے تو اُسے اِس بات کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ وہ کچھ غلطیاں کرے گا۔‏ اُسے یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ اِنہی غلطیوں سے سیکھے گا۔‏ لیکن جو شخص خود سے یہ توقع کرتا ہے کہ وہ ہر کام بغیر نقص کے کرے،‏ وہ اِس ڈر سے کوئی جملہ نہیں کہے گا کہ کہیں وہ غلطی نہ کر دے۔‏ ایسی سوچ کی وجہ سے وہ کبھی آگے نہیں بڑھ سکے گا۔‏ لہٰذا یہ بہت ضروری ہے کہ ایک شخص خاکسار ہو اور خود سے حد سے زیادہ توقع نہ کرے۔‏ ایک خاکسار شخص خود کو بہت اہم نہیں سمجھتا بلکہ وہ عموماً اپنی غلطیوں پر ہنس پڑتا ہے۔‏

‏”‏کسی چیز کو خریدنے کے لیے آپ دراصل اپنا پیسہ نہیں بلکہ وقت خرچ کرتے ہیں۔‏“‏—‏مصنف اور ماہرِنفسیات چارلس سپاتسانو۔‏

 تیسرا طریقہ:‏ توازن رکھیں اور حقیقت‌پسند ہوں

کام اور تفریح میں توازن رکھیں۔‏ ‏”‏اگر کوئی مٹھی‌بھر روزی کما کر سکون کے ساتھ زندگی گزار سکے تو یہ اِس سے بہتر ہے کہ دونوں مٹھیاں سر توڑ محنت اور ہوا کو پکڑنے کی کوششوں کے بعد ہی بھریں۔‏“‏ (‏واعظ 4:‏6‏،‏ اُردو جیو ورشن‏)‏ جو لوگ کام کو سر پر سوار رکھتے ہیں،‏ وہ اپنی دونوں مٹھیوں کو بھرنے کے لیے ”‏سرتوڑ محنت“‏ کرتے ہیں لیکن وہ اکثر اپنے کام سے حاصل ہونے والی خوشی سے پوری طرح لطف نہیں اُٹھا پاتے۔‏ سخت محنت کرنے کے بعد نہ تو اُن کے پاس وقت بچتا ہے اور نہ ہی طاقت۔‏ اِس کے برعکس ایک سُست شخص محنت کی بجائے آرام کو ترجیح دیتا ہے اور یوں قیمتی وقت ضائع کر دیتا ہے۔‏ پاک کلام سے ہم سیکھتے ہیں کہ ہمیں کام اور تفریح میں توازن رکھنا چاہیے۔‏ ہمیں محنت کرنی چاہیے اور اِس کے نتائج سے خوش بھی ہونا چاہیے۔‏ ایسی خوشی ”‏خدا کی بخشش“‏ ہے۔‏—‏واعظ 5:‏19‏۔‏

اچھی نیند سوئیں۔‏ پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏مَیں سلامتی سے لیٹ جاؤں گا اور سو رہوں گا۔‏“‏ (‏زبور 4:‏8‏)‏ بڑوں کو عموماً آٹھ گھنٹے کی نیند لینی چاہیے تاکہ وہ جسمانی اور جذباتی طور پر صحت‌مند رہیں اور باتوں کو اچھی طرح سے سیکھنے،‏ سمجھنے اور یاد رکھنے کے قابل ہوں۔‏ اگر ہم اپنا وقت اچھی نیند سونے کے لیے اِستعمال کرتے ہیں تو اِس سے ہماری یادداشت پر اچھا اثر پڑتا ہے۔‏ اِس کے علاوہ ہم کسی کام پر پوری توجہ دینے اور نئی باتیں سیکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔‏ لیکن نیند کی کمی کی وجہ سے ایک شخص نئی باتوں کو اچھی طرح سے نہیں سیکھ پاتا۔‏ نیند کی کمی اکثر حادثات،‏ غلطیوں اور چڑچڑےپن کا باعث بھی بنتی ہے۔‏

ایسی خواہشیں کریں جنہیں پورا کرنا ممکن ہے۔‏ ‏”‏دُوردراز چیزوں کے آرزومند رہنے کی نسبت بہتر یہ ہے کہ اِنسان اُن چیزوں سے لطف اُٹھائے جو آنکھوں کے سامنے ہی ہیں۔‏“‏ (‏واعظ 6:‏9‏،‏اُردو جیو ورشن‏)‏ اِس سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟‏ ایک سمجھ‌دار شخص اپنی خواہشوں کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیتا،‏ خاص طور پر ایسی خواہشوں کو جن کا پورا ہونا مشکل یا ناممکن ہے۔‏ وہ اِشتہار بازوں اور آسانی سے قرضہ دینے والوں کے جال میں نہیں پھنستا۔‏ اِس کی بجائے وہ اُنہی چیزوں پر مطمئن رہتا ہے ”‏جو [‏اُس کی]‏ آنکھوں کے سامنے“‏ ہیں یعنی جنہیں حاصل کرنا اُس کے بس میں ہے۔‏

چوتھا طریقہ:‏ اچھی قدروں کے مطابق زندگی گزاریں

اپنی قدروں پر غور کریں۔‏ اپنی قدروں کی بِنا پر ہم صحیح اور اہم چیزوں کو پہچان پاتے ہیں۔‏ اگر ہم زندگی کو ایک تیر سے تشبیہ دیں تو اِس تیر کی سمت کا اِنحصار ہماری قدروں پر ہے۔‏ اچھی قدروں کی بِنا پر ہی ہم فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کون‌سی چیزیں ہماری زندگی میں اہم ہونی چاہئیں۔‏ اِنہی کی بِنا پر ہم اپنے ہر گھنٹے اور ہر دن کا صحیح اِستعمال کر سکتے ہیں۔‏ ہم اچھی قدریں اپنانے کے لیے کہاں سے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں؟‏ بہت سے لوگ اِس کے لیے پاک کلام کا مطالعہ کرتے ہیں کیونکہ اُنہوں نے دیکھا ہے کہ اِس میں پائی جانے والی حکمت بہترین ہے۔‏—‏امثال 2:‏6،‏ 7‏۔‏

محبت کو باقی قدروں سے زیادہ اہمیت دیں۔‏ پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏محبت کو پٹکے کی طرح باندھ لو کیونکہ محبت ساری خوبیوں کا کمال ہے۔‏“‏ (‏کلسیوں 3:‏14‏،‏ نیو اُردو بائبل ورشن‏)‏ محبت کے بغیر ہم نہ تو سچی خوشی حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی خود کو جذباتی طور پر محفوظ محسوس کر سکتے ہیں۔‏ خاص طور پر گھر کے افراد کو ایک دوسرے کی محبت کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔‏ مگر بعض لوگ اِس بات کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔‏ وہ شاید پیسے کے پیچھے بھاگنے یا کامیابی حاصل کرنے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔‏ لیکن ایسا کرنے سے اُن کو سچی خوشی حاصل نہیں ہوتی۔‏ اِسی لیے پاک کلام میں محبت کی خوبی کی اہمیت پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے اور کئی بار اِس کا ذکر کِیا گیا ہے۔‏—‏1-‏کرنتھیوں 13:‏1-‏3؛‏ 1-‏یوحنا 4:‏8‏۔‏

پاک کلام کے بارے میں سیکھنے کے لیے وقت نکالیں۔‏ جیف نامی آدمی کے پاس سب کچھ تھا:‏ ایک اچھی بیوی،‏ دو پیارے بچے،‏ اچھے دوست اور ایک اچھی ملازمت۔‏ وہ ہنگامی صورتحال میں طبی مدد فراہم کرنے والے شعبے میں کام کرتے تھے۔‏ اِس وجہ سے وہ اکثر لوگوں کو تکلیف میں اور مرتا ہوا دیکھتے تھے۔‏ جیف اکثر سوچتے تھے کہ ”‏کیا اِنسان کی زندگی کا انجام بس یہی ہے؟‏“‏ پھر ایک دن اُنہیں پاک کلام پر مبنی کچھ کتابیں اور رسالے ملے جو یہوواہ کے گواہوں نے شائع کیے تھے۔‏ اِنہیں پڑھ کر جیف کو اپنے سوالوں کے تسلی‌بخش جواب مل گئے۔‏

جیف نے جو کچھ سیکھا،‏ اُس کے بارے میں اُنہوں نے اپنے بیوی‌بچوں کو بھی بتایا۔‏ اِس طرح اُن کے بیوی‌بچوں کی بھی اِس معلومات میں دلچسپی بڑھی۔‏ جیف اور اُن کے گھر والوں نے پاک کلام کا مطالعہ کرنا شروع کِیا اور اِس وجہ سے اُن کی زندگی میں اَور بھی خوشیاں آ گئیں اور وہ اپنے وقت کو اَور اچھی طرح سے اِستعمال کرنا سیکھ گئے۔‏ پاک کلام کا مطالعہ کرنے سے اُنہیں ایک ایسی دُنیا میں رہنے کی اُمید بھی ملی جہاں زندگی بامقصد ہوگی اور کسی بھی طرح کا دُکھ‌تکلیف نہیں ہوگا۔‏—‏مکاشفہ 21:‏3،‏ 4‏۔‏

جیف کے تجربے کو پڑھ کر یسوع مسیح کے یہ الفاظ ذہن میں آتے ہیں:‏ ”‏وہ لوگ خوش رہتے ہیں جن کو احساس ہے کہ اُنہیں خدا کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔‏“‏ (‏متی 5:‏3‏،‏ نیو ورلڈ ٹرانسلیشن‏)‏ کیا آپ بھی خدا کے بارے میں سیکھنے کے لیے کچھ وقت نکالنے کو تیار ہیں؟‏ یقین مانیں،‏ کسی اَور چیز پر اپنا وقت لگا کر آپ کو اِتنا فائدہ نہیں ہوگا جتنا فائدہ آپ کو اُس وقت ہوگا جب آپ خدا کے بارے میں سیکھنے کے لیے وقت نکالیں گے۔‏

Comments
Loading...