صوف بھیڑوں سے حاصل کردہ اُون سے بنے ہوئے لباس کو کہتے ہیں ۔

فقراء نفس کو عذاب دینے کے لئے گھردرا صوف کا لباس استعمال کرتے تھے ۔بعد میں اسے ترک کر دیا گیا۔

درحقیقت تصوف اولیاء اللہ کے دل کا دستر خوان ہے اللہ والوں کی سنگت اختیار کرنا ۔دوستی کرنا۔انکے کردار کو اپنا لینا ہے ۔
اللہ تعالٰی کو حاصل کرنے کا صحیح طریقہ رہنما کی اقتدا اور محبت میں چلتے ہوئے رسول ﷺ تک پہنچنا ۔

صحیح رہنما کی سنگت اور صحبت انسان کو بدل دیتی ہے۔انسان کے ماحول کو۔اسکے نفس کو ۔دلوں کو بدل ڈالتی ہے ۔نفس ۔نفسِ امارہ سے مطمنٔہ کی طرف آتا ہے ۔یوں وہ بندہ بچ گیا۔جسکو محفل اچھی مل گئی ۔اور فقط پیار والا ہی کوشش کرتا اور پا لیتا ہے ۔

دست بہ کار ۔ دل بہ یار

یہ بھی تصوف ہے ۔چونکہ تصوف اللہ کی محبت اور قرب کی باتیں ہیں جو اہلِِ محبت فقراء سے ملتی ہے تو اولیاء کے باطنی دستر خوان پر کھانے کا نام تصوف ہے ۔اس خوراک کا بھوکا تلاش میں رہتا ہے اور خوراک تک جا کر ہی دم لیتا ہے ۔اسکی طلب اللہ ہی سے ہے جبکہ توفیق بھی اللہ پاک ہی دیتا ہے ۔جب طلب بھی سچی ہو کوشش بھی ہو تو اللہ اسکو اٹھا کر اپنے بندے کے پاس بھیج دیتا ہے ۔اب بتاتا رہنما ہے ۔زبان رہنما کی ہے اللہ تعالٰی بندے کی زبان سے ہی تعلیم فرماتا ہے۔

رہنما سے محبت میں جب وہ وارفتہ ہو جاتا ہے تو خود اسکا وجود مفقود ہوجاتا ہے اور شیخ واردالوجود ہوجاتا ہے پھر رحمتہ اللعالمین ﷺ ۔محسنِ کائنات ﷺ کے ہاں حضوری والا بن جاتا ہے فنا فی الرسول ایسا مقام ہے کہ بندہ بالمشافہ سرکار ﷺ سے گفتگو کرتا ہے اور اس سے بھی اعلٰی مقام صاحبِ حضور کا ہے کہ جسکے سینے میں آ کر خود آقا ﷺ مقیم ہو جاتے ہیں۔درحقیقت حضوری والے بھی کم ہیں اور صاحبِ حضور تو بہت ہی کم ہیں ۔

ولیوں سے کرامت کا صادر ہونا نبی پاک ﷺ کی حیات پر دلالت کرتا ہے ۔کرامت کا ظہور ولیوں کے ذریعے ہوتا آیا ہے اور ہوتا رہے گا۔روحانیت میں زبان ۔بھوک اور نیند پر کام کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ یہ نفس کےلئے موت ہے اور اولیائے کرام شیطان کے گھر نفس کو پہلے تباہ کرتے ہیں۔
المختصر تصوف کا مقصود اللہ کو حاصل کرنا ۔اللہ کی طلب ۔جستجو اور پہچان ہے ۔جس کے لئے اولیائے کرام کی سنگت صحبت کو اختیار کیا جاتا ہے۔ضبطِ نفس ۔عبادات ۔تقویٰ و طہارت کے ذریعے نفس کا تز کیہ کیا جاتا ہے ۔

“پیر مستوار قلندر”

کتاب سلسلۂ دلبر ۔

صفحہ نمبر 40 تا 41