اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ

یعنی اے بندو ! تم لوگ مجھ سے دعائیں مانگو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔

اور حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بھی دعاؤں کی اہمیت اور ان کے فوائد کا ذکر فرماتے ہوئے اپنی امت کو دعائیں مانگنے کی ترغیب دلائی اور فرمایا کہ

لَيْسَ شَيْيٌ اَکْرَمَ عَلَي اللّٰهِ مِنَ الدُّعَآءِ

یعنی اﷲ تعالیٰ کے دربار میں دعا سے بڑھ کر عزت والی کوئی چیز نہیں ہے۔

(ترمذی باب فضل الدعاء ص۱۷۳ جلد۲)

اور دعاؤں کی فضیلت و اہمیت کا اظہار فرماتے ہوئے یہاں تک ارشاد فرمایا کہ

اَلدُّعَآءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ

یعنی دعا عبادت کا مغز ہے

(ترمذی جلد۲ ص۱۷۲)

اور یہ بھی فرمایا :

مَنْ لَّمْ يَسْئَلِ اللّٰهَ يَغْضَبْ عَلَيْهِ

اجو خدا سے دعا نہیں مانگتا خدا عزوجل اس سے ناراض ہو جاتا ہے۔

(ترمذی جلد۲ ص۱۷۲ ابواب الدعوات)

وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادۡعُوۡنِی اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ

اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا
( ف۱۲۷ )

 

اس لئے طب نبوی کی طرح حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ان چند دعاؤں کا تذکرہ بھی ہم اس کتاب میں تحریر کرتے ہیں جو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے معمولات میں رہی ہیں اور جن کے فضائل و فوائد سے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی امت کو آگاہ فرما کر ان کے ورد کا حکم فرمایا ہے تا کہ سیرت نبویہ کے اس مقدس باب سے بھی یہ کتاب مشرف ہو جائے اور مسلمان ان دعاؤں کا ورد کر کے دنیا و آخرت کے بے شمار منافع و فوائد سے مالا مال ہوتے رہیں۔

-: ہر بلا سے نجات

حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص صبح و شام کو تین مرتبہ یہ دعا پڑھے تو اس کو دنیا کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی۔

(ترمذی جلد۲ ص۱۷۳ باب ما جاء في الدعاء اذا صبح و اذا مسي)

بِسْمِ اللّٰهِ الَّذِيْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِهٖ شَيْئٌ فِي الْاَرْضِ وَ لَا فِي السَّمَآءِ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ

 

تفسیر ابن کسیر

دعا کی ہدایت اور قبولیت کا وعدہ ۔ اللہ تعالیٰ تبارک و تعالیٰ کے اس احسان پر قربان جائیں کہ وہ ہمیں دعا کی ہدایت کرتا ہے اور قبولیت کا وعدہ فرماتا ہے ۔ امام سفیان ثوری اپنی دعاؤں میں فرمایا کرتے تھے اے وہ اللہ جسے وہ بندہ بہت ہی پیارا لگتا ہے جو بکثرت اس سے دعائیں کیا کرے ۔ اور وہ بندہ اسے سخت برا معلوم ہوتا ہے جو اس سے دعا نہ کرے ۔

اے میرے رب یہ صفت تو صرف تیری ہی ہے ۔ شاعر کہتا ہے اللہ یغضب ان ترکت سوالہ وبنی ادم حین یسال یغضب یعنی اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ جب تو اس سے نہ مانگے تو وہ ناخوش ہوتا ہے اور انسان کی یہ حالت ہے کہ اس سے مانگو تو وہ روٹھ جاتا ہے ۔ حضرت کعب احبار فرماتے ہیں اس امت کو تین چیزیں ایسی دی گئی ہیں کہ ان سے پہلے کی کسی امت کو نہیں دی گئیں بجز نبی کے ۔ دیکھو ہر نبی کو اللہ کا فرمان یہ ہوا ہے کہ تو اپنی امت پر گواہ ہے ۔ لیکن تمام لوگوں پر گواہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کیا ہے ۔ اگلے نبیوں سے کہا جاتا تھا کہ تجھ پر دین میں حرج نہیں ۔ لیکن اس امت سے فرمایا گیا کہ تمہارے دین میں تم پر کوئی حرج نہیں ہر نبی سے کہا جاتا تھا کہ مجھے پکار میں تیری پکار قبول کروں گا لیکن اس امت کو فرمایا گیا کہ تم مجھے پکارو میں تمہاری پکار قبول فرماؤں گا ۔

( ابن ابی حاتم ) ابو یعلی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا چار خصلتیں ہیں جن میں سے ایک میرے لئے ہے ایک تیرے لئے ایک تیرے اور میرے درمیان اور ایک تیرے درمیان اور میرے دوسرے بندوں کے درمیان ۔ جو خاص میرے لئے ہے وہ تو یہ کہ صرف میری ہی عبادت کر اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر ۔ اور جو تیرا حق مجھ پر ہے وہ یہ کہ تیرے ہر عمل خیر کا بھرپور بدلہ میں تجھے دوں گا ۔ اور جو تیرے میرے درمیان ہے وہ یہ کہ تو دعا کر اور میں قبول کیا کروں ۔ اور چوتھی خصلت جو تیرے اور میرے اور دوسرے بندوں کے درمیان ہے وہ یہ کہ تو ان کیلئے وہ چاہ جو اپنے لئے پسند رکھتا ہے ۔

مسند احمد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ دعا عین عبادت ہے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی یہ حدیث سنن میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں ۔ ابن حبان اور حاکم بھی اسے اپنی صحیح میں لائے ہیں ۔ مسند میں ہے جو شخص اللہ سے دعا نہیں کرتا اللہ اس پر غضب ناک ہوتا ہے ۔ حضرت محمد بن مسلمہ انصاری کی موت کے بعد ان کی تلوار کے درمیان میں سے ایک پرچہ نکلا جس میں تحریر تھا کہ تم اپنے رب کی رحمتوں کے مواقع کو تلاش کرتے رہو بہت ممکن ہے کہ کسی ایسے وقت تم دعائے خیر کرو کہ اس وقت رب کی رحمت جوش میں ہو اور تمہیں وہ سعادت مل جائے جس کے بعد کبھی بھی حسرت و افسوس نہ کرنا پڑے ۔ آیت میں عبادت سے مراد دعا اور توحید ہے ۔ مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن متکبر لوگ چونٹیوں کی شکل میں جمع

کئے جائیں گے ۔ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی ان کی اوپر ہوگی انہیں بولس نامی جہنم کے جیل خانے میں ڈالا جائے گا اور بھڑکتی ہوئی سخت آگ ان کے سروں پر شعلے مارے گی ۔ انہیں جہنمیوں کا لہو پیپ اور پاخانہ پیشاب پلایا جائے گا ۔ ابن ابی حاتم میں ایک بزرگ فرماتے ہیں میں ملک روم میں کافروں کے ہاتھوں میں گرفتار ہو گیا تھا ایک دن میں نے سنا کہ ہاتف غیب ایک پہاڑ کی چوٹی سے بہ آواز بلند کہہ رہا ہے ۔ اے اللہ! اس پر تعجب ہے جو تجھے پہچانتے ہوئے تیرے سوا دوسرے کی ذات سے امیدیں وابستہ رکھتا ہے ۔ اے اللہ! اس پر بھی تعجب ہے جو تجھے پہچانتے ہوئے اپنی حاجتیں دوسروں کے پاس لے جاتا ہے ۔ پھر ذرا ٹھہر کر ایک پر زور آواز اور لگائی اور کہا پورا تعجب اس شخص پر ہے جو تجھے پہچانتے ہوئے دوسرے کی رضامندی حاصل کرنے کیلئے وہ کام کرتا ہے جن سے تو ناراض ہو جائے ۔ یہ سن کر میں نے بلند آواز سے پوچھا کہ تو کوئی جن ہے یا انسان؟ جواب آیا کہ انسان ہوں ۔ تو ان کاموں سے اپنا دھیان ہٹا لے جو تجھے فائدہ نہ دیں ۔ اور ان کاموں میں مشغول ہو جاؤ جو تیرے فائدے کے ہیں ۔