Owais Razvi Qadri Siddiqui
Sufi Singer

زوجۂ رسول ﷺام المومنین حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے حالاتِ زندگی

425

زوجۂ رسول ﷺ ام المومنین حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے حالاتِ زندگی

حضرت ماریہ قبطیہ بنت شمعون رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریک حیات تھیں۔ ان کی والدہ رومی تھیں۔ وہ مصر کے خفن نامی ایک گاؤں میں پیدا ہوئیں۔

حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک مقام ملا تھا، اس لئے وہ کافی مسرت و شادمانی محسوس کر رہی تھیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس خاتون سے کافی راضی تھے، کیونکہ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے تمام کوششیں بروئے کار لاتی تھیں اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ایک مخلص، جاں نثار اور پرہیزگار خاتون تھیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستورات کی مکمل طور پر اطاعت اور فرمانبرداری کرتی تھیں، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے شوہر بھی تھے اور مالک و مولا بھی۔

حضرت ماریہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا:

حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کو حضرت ہاجرہ، حضرت ابراھیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی داستان سے کافی دلچسپی تھی اور اس داستان کو کئی بار سن چکی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیسے حضرت ہاجرہ کی مدد فرمائی، جب وہ حجاز میں تن تنہا اور بے یار و مدد گار تھیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں چاہ زمزم عطا کرکے، سر زمین حجاز کو ایک نئی زندگی بخشی تھی، وہ جانتی تھیں کہ حضرت ہاجرہ کی زندگی تاریخ میں لافانی بنی ہے اور ان کا صفا و مروہ کے درمیان دوڑنا مناسک حج کے ایک حصہ میں تبدیل ھوا ہے۔

حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا اپنے اور حضرت ہاجرہ کے درمیان پائی جانی والی شباہتوں پر غور و فکر کرتی تھیں، کیونکہ دونوں کنیز تھیں، حضرت ہاجرہ کو حضرت سارہ نے حضرت ابراھیم علیہ السلام کی خدمت میں تحفہ کے طور پر پیش کیا تھا اور حضرت ماریہ قبطیہ کو مقوقس نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تحفہ کے طور پر بھیجا تھ۔ لیکن حضرت ماریہ قبطیہ اور حضرت ہاجرہ کے درمیان صرف یہ فرق تھا کہ حضرت ہاجرہ، حضرت اسماعیل کی ماں تھیں اور حضرت ماریہ قبطیہ، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ابھی صاحب اولاد نہیں ھوئی تھیں۔

حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا سے اہل بیت اطہار اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت:

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کا خاص خیال رکھتے تھے۔ چنانچہ کہا گیا ہے کہ حضرت ابراھیم کی ولادت کے بعد حضراتِ اہل بیت اور جید صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہمیشہ حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کی حمایت کرتے تھے اور ذاتی طور پر ان کے مسائل کو حل کرنے میں اقدام کرتے تھے اور وہ ام المومنین حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کا خاص ادب و احترام کرتے تھے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد خلیفہ اول حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے لئے ایک وظیفہ مقرر کیا تھا جسے خلیفہ دوم حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بھی جاری رکھ۔

اخلاقی اوصاف:

حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا ایک پاک باز، دیندار، صالح، نیک اور شائستہ خاتون تھیں۔ اس کے علاوہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی منظور نظر بیوی تھیں۔ مورخین و سیرت نگاروں نے ان کی دینداری کی ستائش کی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک بیان میں اس خاتون کے ساتھ اپنے لگاؤ کا یوں اظہار فرمایا ہے: ’’جب مصر کو فتح کروگے، وہاں کے لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا کیونکہ میں ان کا داماد ھوں‘‘۔

حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کی وفات:

ام المومنین حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا ، خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں
محرم الحرام 16ھ/ فروری 637ء
میں وفات پاگئیں۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ان کے جنازہ میں شرکت کرنے کی خبر دی، اور خود ان کی نماز جنازہ پڑھائی اورانھیں قبرستان بقیع میں سپرد خاک کیا گی۔

Comments
Loading...