Owais Razvi Qadri Siddiqui
Sufi Singer

شعبان المعظم کی فضیلت و اہمیت

1,359

اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ شعبان ہے ۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ شعبان تشعب سے ماخوذ ہے اور تشعب کے معنیٰ تفرق کے ہیں۔ چونکہ اس ماہ میں بھی خیر کثیر متفرق ہوتی ہے۔ نیز بندوں کو رزق اس مہینہ میں متفرق اور تقسیم ہوتے ہیں۔
حدیث شریف میں ہے کہ شعبان کو اس لئے شعبان کہا جاتا ہے کہ اس میں روزہ دار کے لئے خیر کثیر تقسیم ہوتی ہے، یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوتا ہے (بحوالہ : ماثبت من السنۃ، ص 141، فضائل الایام والشہور، ص 404، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد پنجاب)
شعبان المعظّم میں مندرجہ ذیل مشہور واقعات ہوئے
1… اس مہینہ کی پانچ تاریخ کو سیدنا حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کی ولادت مبارک ہوئی۔
2… اسی مہینہ کی پندرہویں تاریخ کو شب برأت یعنی لیلۂ مبارک ہے جس میں اُمّت مسلمہ کے بہت افراد کی مغفرت ہوتی ہے۔
3… اسی ماہ کی سولہویں تاریخ کو تحویل قبلہ کا حکم ہوا۔ ابتداء اسلام میں کچھ عرصہ بیت المقدس قبلہ رہا اور پھر اﷲ تعالیٰ نے سید عالمﷺ کی مرضی کے مطابق کعبۂ معظمہ کو مسلمانوں کا قبلہ بنادیا۔ اس وقت سے ہمیشہ تک مسلمان کعبۃ اﷲ کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے تھے (بحوالہ: عجائب المخلوقات ص 47، فضائل الایام والشہور ، ص405، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد، پنجاب)
حدیث= نبی پاکﷺ نے فرمایا شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان المبارک اﷲ تعالیٰ کا مہینہ ہے
(بحوالہ: الجامع الصغیر حدیث 4889، ص 301)
شب برأت کی فضیلت و اہمیت
ماہ شعبان کی پندرہویں رات کو شب برأت کہا جاتا ہے۔ شب کے معنی ’’رات‘‘ اور برأت کے معنی نجات کے ہیں۔ یعنی اس رات کو ’’نجات کی رات‘‘ کہا جاتا ہے چونکہ اس رات کو مسلمان عبادت و ریاضت میں گزار کر جہنم سے نجات حاصل کرتے ہیں۔ اس لئے اس رات کو شب برأت کہا جاتا ہے۔
القرآن: ترجمہ … قسم ہے اس روشن کتاب کی بے شک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا ہے، بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں، اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام (سورۃ الدخان 2/4)
حدیث شریف= حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ سید عالم نور مجسمﷺ نے فرمایا کیا تم جانتی ہو کہ شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے؟ میں نے عرض کی یارسول اﷲﷺ! آپ فرمایئے۔ ارشاد ہوا آئندہ سال میں جتنے بھی پیدا ہونے والے ہوتے ہیں۔ وہ سب اس شب میں لکھ دیئے جاتے ہیں اور جتنے لوگ آئندہ سال مرنے والے ہوتے ہیں، وہ بھی اس رات میں لکھ دیئے جاتے ہیں اور رات میں لوگوں کے (سال بھر کے) اعمال اٹھا لئے جاتے ہیں اور اس میں لوگوں کا مقررہ رزق اتارا جاتا ہے (بحوالہ: مشکوٰۃ شریف، جلد اول، ص 277)
مغرب کے بعد چھ نوافل
مغرب کے فرض و سنت وغیرہ کے بعد چھ رکعت خصوصی نوافل ادا کرنا معمولاتِ اولیائے کرام رحمہم اﷲ تعالیٰ سے ہے۔ مغرب کے فرض و سُنّت وغیرہ ادا کرکے چھ رکعت نفل دو دو رکعت کرکے ادا کیجئے۔ پہلی دو رکعتیں شروع کرنے سے قبل یہ عرض کیجئے: اﷲ عزوجل ان دو رکعتوں کی برکت سے مجھے درازیٔ عمر بالخیر عطا فرما۔ دوسری دو رکعتیں شروع کرنے سے قبل عرض کیجئے۔ اﷲ عزوجل ان دو رکعتوں کی برکت سے بلائوں سے میری حفاظت فرما۔ تیسری دو رکعتیں شروع کرنے سے قبل اس طرح عرض کیجئے۔ اﷲ عزوجل ان دو رکعتوں کی برکت سے مجھے صرف اپنا محتاج رکھ اور غیروں کی محتاجی سے بچا۔ ہر دو رکعت کے بعد اکیس بار قل ہوا اﷲ یا ایک بار سوۂ یاسین پڑھئے بلکہ ہوسکے تو دونوں ہی پڑھ لیجئے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک اسلامی بھائی یاسین شریف بلند آواز سے پڑھے اور دوسرے خاموشی سے سنیں، اس میں یہ خیال رکھئے کہ دوسر ااس دوران زبان سے یاسین شریف نہ پڑھے۔ ان شاء اﷲ عزوجل رات شروع ہوتے ہی ثواب کا انبار لگ جائے گا۔ ہر بار یاسین شریف کے بعد دعائے نصف شعبان بھی پڑھئے۔
ترجمہ: اﷲ عزوجل کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحمت والا۔ اے اﷲ عزوجل اے احسان کرنے والے کہ جس پر احسان نہیں کیا جاتا۔ اے بڑی شان و شوکت والے! اے فضل و انعام والے! تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو پریشان حالوں کا مددگار، پناہ مانگنے والوں کو پناہ اور خوفزدوں کو امان دینے والا ہے۔ اے اﷲ عزوجل! اگر تو اپنے یہاں ام الکتاب (لوح محفوظ) میں مجھے شقی (بدبخت)، محروم، دھتکارا ہوا اور رزق میں تنگی دیا ہوا لکھ چکا ہو تو اے اﷲ عزوجل! اپنے فضل سے میری بدبختی، محرومی، ذلت اور رزق کی تنگی کو مٹادے اور اپنے پاس ام الکتاب میں مجھے خوش بخت، رزق دیا ہوا اور بھلائیوںکی توثیق دیا ہوا ثبت (تحریر) فرمادے۔ کہ تونے ہی فرمایا اور تیرا (یہ) فرمانا حق ہے کہ ’’اﷲ عزوجل جو چاہے مٹاتا ہے اور ثابت کرتا (لکھتا) ہے اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس ہے‘‘ (کنزالایمان پ ۱۳، الرعد ۳۹)
خدایا اﷲ عزوجل! تجلی اعظم کے وسیلے سے جو نصف شعبان المکرم کی رات میں ہے کہ جس میں بانٹ دیا جاتا ہے جو حکمت والا کام اور اٹل کردیا جاتا ہے (یااﷲ!) مصیبتوں اور رنجشوں کو ہم سے دور رفرما کہ جنہیں ہم جانتے اور نہیں بھی جانتے جبکہ تو انہیں سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔ بے شک تو سب سے بڑھ کر عزیز اور عزت والا ہے۔ اﷲ تعالیٰ ہمارے سردار محمدﷺ پر اور آپ ﷺ کے آل و اصحاب رضی اﷲ تعالیٰ عنہم پر درود و سلام بھیجے۔ سب خوبیاں سب جہانوں کے پالنے والے اﷲ عزوجل کے لئے ہے۔
قبرستان جانا سنت ہے
حدیث شریف= حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے حضور اکرمﷺ کو اپنے پاس نہ پایا تو میں آپ کی تلاش میں نکلی۔ میں نے دیکھا کہ آپﷺ جنت البقیع میں تشریف فرما ہیں۔ آپ نے فرمایا کیا تمہیں یہ خوف ہے کہ اﷲ تعالیٰ اور اس کا رسولﷺ تمہارے ساتھ زیادتی کریں گے۔ میں نے عرض کی یارسول اﷲﷺ مجھے یہ خیال ہوا کہ شاید آپ کسی دوسری اہلیہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں۔ آقائے دوجہاںﷺ نے فرمایا۔ بے شک اﷲ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب آسمان دنیا پر (اپنی شان کے مطابق) جلوہ گر ہوتا ہے اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے (ابن ماجہ، جلد اول، حدیث 1447، ص 398، مطبوعہ فرید بک لاہور)
فائدہ: اس حدیث پاک سے شعبان کی پندرہویں شب کی فضیلت بھی ثابت ہوئی اور اس شب میں قبرستان جانا سُنّت ثابت ہوا۔ اسی لئے اہل اسلام اور خوش عقیدہ مسلمان اس رات کو عبادت اور دن کو روزوں میں گزارتے ہیں اور خاص طور پر قبرستان میں اپنے عزیزو رشتہ دار کی قبروں پر جاتے ہیں اور ایصالِ ثواب کا اہتمام کرتے ہیں۔
قبرستان کے آداب
قبر پر بیٹھنا، سونا، چلنا، پاخانہ اور پیشاب کرنا حرام ہے۔ قبرستان میں جو نیا راستہ نکالا گیا، اس سے گزرنا ناجائز ہے۔ خواہ نیا ہونا اسے معلوم ہو یا اس کا گمان ہو (عالمگیری در مختار)
اپنے کسی رشتہ دار کی قبر تک جانا چاہتا ہے مگر قبروں پر گزرنا پڑے تو وہاں تک جانا منع ہے۔ دور ہی سے فاتحہ پڑھ لے۔ قبرستان میں جوتیاں پہن کر نہ جائے (اگر راستے میں کنکر وغیرہ ہوں تو جوتیاں پہن سکتا ہے) کسی قبر پر پائوں نہ رکھے اور نہ ہی قبر پر بیٹھ کر تلاوت کرے۔
زیارت قبور کا طریقہ
1… زیارت قبور کا طریقہ یہ ہے کہ پائینتی کی جانب سے جاکر میت کے منہ کے سامنے کھڑا ہو۔ سرہانے سے نہ آئے کہ میت کے لئے باعث تکلیف ہے اور کہے اَلْسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَااَہْلَ اْلقُبُوْرِ یَغْفِرُ اﷲُ لَنَا وَلَکُمْ اَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِاْلاََثر
2… قبرستان میں جائے تو الحمد شریف اور الم سے مفلحون تک اور آیۃ الکرسی اور آمن الرسول آخر تک اور سورۂ یسٰین، سورۂ ملک اور سورۂ تکاثر ایک مرتبہ اور سورۂ اخلاص بارہ مرتبہ، گیارہ سات یا تین مرتبہ پڑھے۔ ان سب کا ثواب مرحومین کو ایصال کرے۔ حدیث پاک میں ہے جو گیارہ مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھ کر اس کا ثواب مرنے والوں کو پہنچائے تو مرنے والوں کی گنتی کے برابر ثواب ملے گا (در مختار، ردالمحتار)
3… نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور ہر قسم کی عبادت اور عمل نیک فرض و نفل کا ثواب مرحومین کو پہنچا سکتا ہے۔ ان سب کو پہنچے گا اور پڑھنے والے کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوگی (ردالمحتار)
آتش بازی سے بچیں
کچھ لوگ ہمارے معاشرے میں ایسے بھی ہیں جو شعبان کے مہینے میں خصوصا شب برأت میں خوب آتش بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ شعبان کا بابرکت مہینہ شروع ہوتے ہی گلی کوچوں میں پٹاخوں کی آوازیں گونجنا شروع ہوجاتی ہیں۔ لوگوں کی جہالت و نادانی کا یہ عالم ہے کہ وہ آتش بازی کو شب برأت کا حصہ تصور کرتے ہیں۔ یاد رکھئے! آتش بازی حرام ہے اور ان مبارک ایام میں تو بہت سخت گناہ ہے۔
آتش بازی کرنے والے ذرا سوچیں کہ ہمارے اس کام سے مال کا ضیاع، وقت کا ضیاع اور ضعیف اور مریضوں کو سخت تکلیف کا سامنا ہوتا ہے، شب بیداری کرنے والے مسلمانوں کی عبادت میں خلل واقع ہوتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ ایسے لوگوں کو نیک توفیق عطاء فرمائے۔ آمین
شب بیداری کا اہتمام
شب برأت میں سرکار اعظمﷺ نے خود بھی شب بیداری کی اور دوسروں کو بھی شب بیداری کی تلقین فرمائی۔ آپﷺ کا فرمان عالی شان اوپر مذکور ہوا کہ ’’جب شعبان کی پندرہویں رات ہو تو شب بیداری کرو اور دن کو روزہ رکھو‘‘ اس فرمان جلیل کی تعمیل میں اکابر علماء اور مسلمانوں کا ہمیشہ سے یہ معمول رہا ہے کہ اس رات میں شب بیداری کا اہتمام کرتے چلے آئے ہیں۔
گیارہویں صدی کے مجدد شیخ محقق حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ تابعین میں سے جلیل القدر حضرات مثلا حضرت خالد بن معدان، حضرت مکحول، حضرت لقمان بن عامر اور حضرت اسحق بن راہویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم مسجد میں جمع ہوکر شعبان کی پندرہویں شب میں شب بیداری کرتے تھے اور رات بھر مسجد میں عبادات میں مصروف رہتے تھے (ماثبت من السنۃ، ص 202، لطائف المعارف)
شب برأت کے نوافل
اس رات کو سو رکعت نفل پڑھے۔ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد دس مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھے۔ اس نماز کو صلوٰۃ الخیر کہتے ہیں۔ جو شخص یہ نماز پڑھے گا تو اﷲ تعالیٰ اس کی طرف ستر مرتبہ نگاہ رحمت فرمائے گا اور ہر نگاہ میں اس کی ستر حاجتیں پوری فرمائے گا۔ ادنیٰ حاجت اس کی بخشش ہے (بحوالہ: غنیۃ الطالبین، جلد اول، ص 192، فضائل الایام، والشہور ص 413، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد، پنجاب)
نبی پاکﷺ نے فرمایا کہ جو میرا نیاز مند اُمّتی شب برأت میں دس رکعت نفل اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ اخلاص گیارہ مرتبہ پڑھے تو اس کے گناہ معاف ہوں گے اور اس کی عمر میں برکت ہوگی (نزہۃ المجالس، جلد اول، ص 192)
شعبان المعظم میں بزرگانِ دین کے اعراس
1 شعبان المعظم
محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ سردار احمد قادری علیہ الرحمہ
پیر سائیں راشد روزہ دھنی علیہ الرحمہ
2 شعبان المعظم
سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ
حضرت سری مہدی طبر مدینہ علیہ الرحمہ
3 شعبان المعظم
حضرت سفیان ثوری علیہ الرحمہ
حضرت پیر سید اکبر علی شاہ علیہ الرحمہ
حضرت حافظ محمد عبدالرحمن ثانی علیہ الرحمہ
4 شعبان المعظم
ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا
مولانا سید امیر اجمیری خوشاب علیہ الرحمہ
شیخ نصیر الدین شاہ علیہ الرحمہ
مفتی شجاعت علی قادری علیہ الرحمہ
5 شعبان المعظم
حضرت خواجہ فخر الدین چشتی علیہ الرحمہ
حضرت پیر سید غائب شاہ غازی علیہ الرحمہ
حضرت غلام محی الدین مارہروی علیہ الرحمہ
حضرت پیر سید مزمل شاہ جیلانی علیہ الرحمہ
حضرت ڈاکٹر قمر رضا خان بریلی علیہ الرحمہ
6 شعبان المعظم
خواجہ بابا معین الدین نعیمی علیہ الرحمہ
حضرت سید نعیم اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ
حضرت شیخ سید محمد کالپوری علیہ الرحمہ (کالپی شریف)
7 شعبان المعظم
حضرت شاہ عقیق علیہ الرحمہ
حضرت امام ابو سعید مخزومی علیہ الرحمہ
حضرت مخدوم ابوالقاسم نورالحق ٹھٹھوی علیہ الرحمہ
8 شعبان المعظم
خواجہ شمس الدین محمد حافظ شیرازی علیہ الرحمہ
حضرت قاضی فتح اﷲ علیہ الرحمہ(کوٹلی آزاد کشمیر)
حضرت مولاناحکیم محمد موسیٰ امرتسری علیہ الرحمہ
9 شعبان المعظم
حضرت سیدہ ام کلثوم بنت رسول اﷲﷺ
حضرت شیخ ابو علی ترکمانی علیہ الرحمہ
حضرت پیر محی الدین لعل بادشاہ (مکھڈ شریف اٹک) علیہ الرحمہ
10 شعبان المعظم
حضرت شیخ محمد معصوم سرہندی دہلوی علیہ الرحمہ
حضرت سیدنا ابراہیم شاہ بخاری علیہ الرحمہ
11 شعبان المعظم
حضرت ابو سعید اعرابی علیہ الرحمہ
حضرت خواجہ ابراہیم بلخی علیہ الرحمہ
12 شعبان المعظم
مجاہد اسلام حضرت محمد بن قاسم علیہ الرحمہ
حضرت پیر خواجہ نور محمد علیہ الرحمہ
حضرت علامہ مولانا مفتی محمد محمود الوری علیہ الرحمہ (حیدرآباد)
حضرت شاہ فیض الدین سرمست علیہ الرحمہ
13 شعبان المعظم
حضرت علامہ مولانا محدث عبدالاحد علیہ الرحمہ (پیلی بھیت شریف)
حضرت سید افضل حسین جماعتی علیہ الرحمہ
14 شعبان المعظم
ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اﷲ عنہا
حضرت دمڑی والی سرکار علیہ الرحمہ (میرپور خاص سندھ)
حضرت علامہ محمد شمس الدین گیلانی علیہ الرحمہ
15 شعبان المعظم
جن بزرگوں کی تاریخ وصال نہیں ملتی، ان سب کا عرس پاکستان میں شعبان المعظم کی پندرہویں شب یعنی (شب برأت) میں منایا جاتا ہے
16 شعبان المعظم
حضرت شرف الدین قتال بغدادی علیہ الرحمہ
17 شعبان المعظم
حضرت اسماعیل نیشاپوری علیہ الرحمہ
حضرت شیخ اسحق مغربی علیہ الرحمہ
18 شعبان المعظم
حضرت سیدنا عثمان مروندی (المعروف لعل شہباز قلندر) علیہ الرحمہ
حضرت سید یحییٰ حسن نوری علیہ الرحمہ
حضرت علامہ مولانا عبدالحکیم شرف قادری علیہ الرحمہ
19 شعبان المعظم
حضرت شیخ ابوبکر شبلی علیہ الرحمہ
حضرت مولانا فتح الدین چشتی علیہ الرحمہ (ملتان)
حضرت مولانا عبدالکریم درس علیہ الرحمہ
20 شعبان المعظم
حضرت سلطان شمس الدین التمش علیہ الرحمہ
21 شعبان المعظم
حضرت علامہ عبدالحکیم فرنگی محلی علیہ الرحمہ
حضرت مفتی علی محمد معیری علیہ الرحمہ
22 شعبان المعظم
حضرت عبدالقادر مکی علیہ الرحمہ
حضرت شیخ ابوالفرح بغدادی علیہ الرحمہ
23 شعبان المعظم
حضرت شیخ رضا رفیقی علیہ الرحمہ
حضرت شیخ محمد بن ہاشم فاضل سورتی علیہ الرحمہ
24 شعبان المعظم
حضرت شیخ نذیر الدین علیہ الرحمہ
حضرت سید عتیق اﷲ چشتی علیہ الرحمہ
حضرت پیر محمد شاہ بھیرہ شریف علیہ الرحمہ
25 شعبان المعظم
حضرت خواجہ غلام علی جا ن مجددی علیہ الرحمہ
26 شعبان المعظم
حضرت شیخ ذوالنون مصری علیہ الرحمہ
حضرت خواجہ علامہ علی مجددی علیہ الرحمہ
27 شعبان المعظم
حضرت امام ابو سعید مخزومی علیہ الرحمہ
حضرت شیخ ابو سلیمان دارانی علیہ الرحمہ
حضرت شیخ ابو حفص سہروردی علیہ الرحمہ
28 شعبان المعظم
حضرت شاہ کبیر جونپوری علیہ الرحمہ
حضرت محمد یوسف المعروف پشاوری بابا علیہ الرحمہ
حضرت حاجی محمد مشتاق قادری عطاری علیہ الرحمہ
29 شعبان المعظم
حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام
حضرت شاہ نعمت اﷲ قادری پھلواری علیہ الرحمہ
30 شعبان المعظم
حضرت شیخ فضل نیاز علیہ الرحمہ
حضرت شیخ عبدالحکیم سیالکوٹی علیہ الرحمہ

Comments
Loading...