Owais Razvi Qadri Siddiqui
Sufi Singer

صوفیاء کے رُوحانی مراحل – تصوف مرحلہ در مرحلہ سفر کرنے کا نام ہے

859

تصوف مرحلہ در مرحلہ سفر کرنے کا نام ہے۔

اس سفر کو سلوک اور مسافر کو سالک کہتے ہیں۔

گویا صوفی سفر کرتا رہتا ہے، جامد نہیں رہتا۔

ایک سالک/ صوفی درج ذیل روحانی مراحل سے گزرتا ہے:

تَزْکِيَة:

پہلا مرحلہ تزکیہ ہے۔ یہ نفس کا سفر ہے۔ اس میں حیوانی خصلتیں، روحانی خصلتوں میں بدل جاتی ہیں۔ حیوانی خصلتوں کے نتیجہ میں قتل و غارت گری اور دہشت گردی جنم لیتی ہے لیکن جب تزکیہ نفس سے روحانی خصلت آجاتی ہے تو پیار، محبت اور برداشت کے رویے جنم لیتے ہیں۔ گویا سلوک و تصوف کے پہلے سفر کا آغاز بھی اَمن ہی سے ہوتا ہے۔

تَصْفِيَة:

دوسرا مرحلہ تصفیہ ہے۔ تصفیہ دل کا سفر ہے۔ اس سفر میں دل صاف ہوجاتا ہے اور دنیا کے تمام اَفکار اور رنج و غم کے زنگار سے آزاد ہو جاتا ہے۔

تَخْلِيَة:

تیسرا مرحلہ باطن کا سفر ہے، اس کو تخلیہ کہتے ہیں۔ تخلیہ میں بندہ اپنے باطن سے نہ صرف ہر غیر کو نکال دیتا ہے بلکہ ماسوی اﷲ کی خواہش سے بھی دل کو پاک کر لیتا ہے۔ یہ خلوت ہے۔ یہ مرحلہ دل کو خلوت کدہ بنا دیتا ہے اور انسان زبانِ حال سے پکار اٹھتاہے:
_
ہر تمنا دل سے رُخصت ہوگئی
اب تو آجا، اب تو خلوت ہوگئی
_
گویا دل کو محبوبِ حقیقی کا خلوت کدہ بنا دینا تخلیہ ہے۔

تَحْلِيَة:

سلوک و تصوف کی راہ میں چوتھا مرحلہ تحلیہ ہے۔ اس مرحلہ میں سالک/ صوفی اپنے اِنسانی اَوصاف سے نکل جاتا ہے اور ربانی اَوصاف میں داخل ہو جاتا ہے۔ سالک جو جو صفات رب کی دیکھتا ہے، اس کی اپنی وہ صفت ہٹتی جاتی ہے اور رب کی صفت کا رنگ اس پر چڑھتا جاتا ہے۔ اس کو تحلیہ کہتے ہیں۔ یہ حِلیہ سے ہے۔ حِلیہ زیور کو بھی کہتے ہیں۔ جب زیور دلہن کو پہناتے ہیں تو اُس کا دلہن ہونا چمک اٹھتا ہے۔ اسی طرح جب رب کے اوصاف کا رنگ صوفی پر چڑھتا ہے تو اس کا باطن چمک اٹھتا ہے اور جس کا قلب صاف ہو جائے، چمک جائے، وہ ولی ہوتا ہے۔
_
رب جس طرح ہر ایک کی پرورش کرتا ہے، اس مرحلہ میں صوفی بھی اسی وصف کا فیض لیتے ہوئے ہر ایک کو پالتا ہے۔ رب جیسے ہر ایک کو دیتا ہے، اُسی طرح صوفی بھی لینے والا نہیں ہوتا بلکہ دینے والا ہوتا ہے۔ صوفی مانگتا نہیں بلکہ بانٹتا ہے۔ صوفی عطا کرنے والا، بے نیاز اور پیار و محبت کو بانٹنے والا ہوتا ہے۔ اس لئے کہ وہ تحلیہ کے ذریعے رب کے اوصاف میں رنگا جاتا ہے۔

تَجْلِيَة:

ربانی اوصاف میں رنگنے کے بعد صوفی/ سالک پانچویں مرحلہ تجلیہ میں داخل ہوجاتا ہے۔ اس مرحلہ میں بندے کے قلب و باطن پر اَنوار و تجلیات کا ورود ہوتا ہے۔ بندہ فرشی ہوتا ہے مگر اَنوار و تجلیات کے ورود سے من اور باطن میں عرشی بن جاتا ہے۔ یعنی فرش پر رہ کر عرش پر رہتا ہے۔

اَلتَّدَلِّی:

صوفی چھٹا مرحلہ اَلتَّدَلِّی میں داخل ہوتا ہے۔ یہ مقام عروج ہے۔ صوفی عروج پر جاتا ہے اور اِس مرحلے میں اسے اللہ کی قربتِ خاصہ نصیب ہو جاتی ہے۔ اس مقام پر صوفی کو دَنٰی فَتَدَلّٰی کا فیض ملتا ہے۔

اَلتَّدَنِّی:

صوفی دَنٰی فَتَدَلّٰیکا فیض سمیٹنے کے بعد ساتویں مرحلہ اَلتَّدَنِّی میں داخل ہوتا ہے۔ بعض تَدَانِی بھی لکھتے ہیں۔ اس مقام پر اُس کی مقربیت کامل ہو جاتی ہے اور بارگاہ الٰہی میں اُس کی قربت کا سفر بھی تکمیل کو جا پہنچتا ہے۔ گویا اس مقام پر اسے قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰی کافیض ملتا ہے۔

اَلتَّرَقِّی:

تدنی کے بعد صوفی الترقی کے مرحلہ میں داخل ہوتا ہے۔ اس مرحلہ میں ہر لمحہ اُس کا حال اور مقام بدلتا رہتا ہے۔ اس مرحلہ میں وہ ایک جگہ پر نہیں رہتا بلکہ قربِ الٰہی، عشقِ الٰہی، محبتِ الٰہی، اطاعتِ الٰہی اور معرفتِ الٰہی میں ہر لمحہ اُس کا مقام اور حال بدلتا ہے اور ترقی پذیر رہتا ہے۔ پھر اُس کو کوئی تھام نہیں سکتا۔ ہر لمحہ اُس کے تنقلِ اَحوال (بدلتے رہنا) کی وجہ سے اس عالم کو ترقی کہتے ہیں یعنی اب وہ ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔

اَلتَّلَقِّی:

اس روحانی سفر میں مراحل طے کرتے کرتے صوفی اپنے نویں مرحلہ اَلتَّلَقِّی میں داخل ہوتا ہے۔ جہاں وہ براہِ راست رب سے سنتا ہے اور اُس کی عطا، کشف اور اِلہامات لیتا ہے۔ نتیجتاً صوفی کی زبان سے حق بولتا ہے، اُس کے دل سے حق نکلتا ہے۔ وہ تلقی یعنی براہِ راست رب سے اخذ کرتا ہے۔

اَلتَّوَلِّی:

اس مرحلہ سفر میں بندہ رب سے سب کچھ وصول کر کے اپنے آپ میں پلٹ آتا ہے۔ اس آخری مرحلہ کو اَلتَّوَلِّی کہتے ہیں۔ اس مرحلہ میں رب اُس کا متولی ہو جاتا ہے۔ رب اُس کے ہاتھ بن جاتا ہے جس سے وہ پکڑتا ہے۔۔۔ رب اُس کی زبان بن جاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے۔۔۔ رب اُس کی آنکھ بن جاتا ہے جس سے وہ دیکھتا ہے۔۔۔ رب اُس کے کان بن جاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے۔۔۔ رب اُس کا دل بن جاتا ہے جس سے وہ چاہتا ہے۔۔۔ الغرض وہ مکمل طور پر رب کی نگرانی میں آجاتا ہے۔
_
ان سارے مقامات میں کہیں ہمیں غیض و غضب نظر نہیں آیا۔ ان سارے دس اسفار میں کہیں غصہ، نفرت، سختی نہیں آئی بلکہ ہر وقت سفر سوئے جمال ہے۔ سفر بسوئے رحمت ہے، سفر بسوئے قربت ہے۔ یاد رکھ لیں جو مولیٰ کے قریب ہو جاتے ہیں اور جو اس کی قربت کا مزہ چکھ لیتے ہیں، قربت کے تالاب سے پی لیتے ہیں وہ اوروں کو بھی قریب کرتے ہیں۔ چونکہ خود قربت کا لطف لیتے ہیں سو ہر ایک کو قریب کرتے ہیں اور دوریاں مٹا دیتے ہیں۔جو لوگ خود جڑ جاتے ہیں وہ اللہ کی ساری مخلوق کو جوڑے رکھتے ہیں۔

Comments
Loading...