Owais Razvi Qadri Siddiqui
Sufi Singer

لیلۃ القدر کی اہمیت و فضیلت

2,191

یہ رات ہزار مہینوں سے افضل ہے جو امت محمد یہ ﷺ کے لیے خاص تحفہ ہے

پیش کش :  مشاہدرضوی ویب ٹیم

https://goo.gl/wcfQRg

رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی سب سے اہم فضیلت وخصوصیت یہ ہے کہ اس میں ایک ایسی رات پائی جاتی ہے جوہزار مہینوں سے بھی زیادہ افضل ہے اور اسی رات کو قرآن مجید جیسا انمول تحفہ دنیائے انسانیت کو ملا۔اللہ سبحانہ وتعالی نے اس رات کی فضیلت میں پوری سورة نازل فرمائی، ارشاد ہوا: ”ہم نے قرآن کریم کو شب قدر میں نازل کیا ہے ۔ آپ کو کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح (جبریل) اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے اترتے ہیں ، یہ رات سراسر سلامتی ہے اورفجر کے طلوع ہونے تک رہتی ہے۔“ (سورة القدر97:1-5 )ایک دوسری آیت میں اس کو مبارک رات کہا گیا ہے، ارشاد ہے: ” قسم ہے اس کتاب کی جو حق کو واضح کرنے والی ہے۔ ہم نے اسے ایک مبارک رات میں نازل کیا ہے “۔ (سورة الدخان 44:2 )چناں چہ شب قدر کی عبادت کا ثواب ایک ہزار مہینوں (یعنی کم و بیش تراسی سال ) کی عبادت سے زیادہ ہے۔ نیز، اسی رات اللہ تعالی نے قرآن مجید کو یکبارگی لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل فرمایا اور پھر اس کے بعد نبوت کی۲۳سالہ مدت میں حسب ضرورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پرنازل ہوتا رہا۔ انھیں آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو ملائکہ نزول کرتے ہیں اور اللہ تعالی سال بھر کے تقدیر کے فیصلے فرشتوں کے حوالے فرمادیتے ہیں تاکہ وہ اپنے اپنے وقت پر ان کی تکمیل کرتے رہیں۔ اس رات میں فرشتوں کا نزول بھی رحمت و برکت کا سبب ہوتا ہے۔لیلة القدر کامطلب ہے قدر اور تعظیم والی رات ہے یعنی ان خصوصیتوں اورفضیلتوں کی بنا پر یہ قدر والی رات ہے۔ یا پھر یہ معنی ہے کہ جوبھی اس رات بیدار ہوکر عبادت کرے گا وہ قدروشان والا ہوگا ۔ تواللہ تعالی نے اس رات کی جلالت ومنزلت اورمقام ومربتہ کی بنا پراس کانام لیلة القدر رکھا کیونکہ اللہ تعالی کے ہاں اس رات کی بہت قدر ومنزلت ہے۔ شب قدر کی فضیلت بے شمارآیات و احادیث سے ثابت ہے۔ صحیحین کی حدیث میں ہے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوشخص شب قدر کو ایمان اوراجروثواب کی نیت سے عبادت کرے ، اس کے سارے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ (صحیح بخاری، حدیث: 1768 )حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مہینہ (رمضان کا) تم کو ملا ہے، اس میں ایک رات ہے جو ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ جو اس سے محروم رہا گویا وہ تمام خیر سے محروم رہا ، اور اس کی خیر و برکت سے کوئی محروم ہی بے بہرہ رہ سکتا ہے۔ “ (سنن ابن ماجہ، حدیث : 1634، معجم الکبیر للطبرانی، حدیث: 1500)مسلمانوں کو عبادت کرنے میں ترغیب و تاکید ہے کہ وہ اس رات کو اللہ تعالی کی عبادت کریں، رات کو دعا و عبادت اور ذکر وتلاوت میں گزاریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی مبارک رات کی تلاش کے لیے اعتکاف فرماتے تھے اور رمضان کے آخری عشرہ میں پوری پوری رات عبادت میں مشغول رہتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ سلم کی ذات گرامی سید الرسل اور محبوب رب العالمین تھی ، وہ اللہ کے نزدیک مقبول اور بخشے بخشائے تھے، لیکن پھر بھی اللہ کی رضا کی تلاش میں آپ اتنی کوشش فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہمارے لیے اسوہ اور نمونہ ہے۔ اللہ تعالی کی رحمت و مغفرت کے ہم بہت زیادہ محتاج ہیں۔ لہٰذا، ہمیں اس رات کی تلاش و جستجو کرنا چاہیے اور آخری عشرہ کی راتوں کو ذکر و عبادت میں گزارنا چاہیے۔اس رات کو رمضان اورخاص کراس کے آخری عشرہ میں تلاش کرنا مستحب ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ شب قدر کو رمضان کے آخری دس دنوں میں تلاش کرو۔ (صحیح بخاری، حدیث: 1880 ) اورابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں تلاش کرو ،باقی نو رہ جائیں تو ان میں، باقی سات رہ جائیں توان میں ، باقی پانچ رہ جائیں تو ان میں۔ ( صحیح بخاری، حدیث : 1881) پھر احادیث کی روشنی میں شب قدر کا آخری عشرہ میں بھی طاق راتوں میں وقوع کا زیادہ امکان معلوم ہوتا ہے۔ حضرت عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ (صحیح بخاری، حدیث: 1878 ) جب کہ بعض احادیث میں ستائیسویں رات کو شب قدر ہونے کی بات بھی وارد ہوئی ہے۔جیسا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ شب قدر ستائیسویں رات ہے۔ ( سنن ابوداود ، حدیث : 1178، مسند احمد وغیرہ)حضرت عائشہ رضي اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر مجھے شب قدر کا علم ہوجائے تو میں کیا دعا کروں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللھم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عني ) اے اللہ تومعاف کرنے والا کرم والا ہے اورمعافی کوپسند کرتا ہے، لہٰذا مجھے معاف کردے ) (سنن ترمذی ، حدیث : 3435، مسند احمد ، سنن ابن ماجہ وغیرہ)حضرات محدثین و علماء فرماتے ہیں کہ شب قدر سے متعلق روایات کثرت سے مروی ہیں اور ان کے مجموعہ سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ شب قدر ہر سال منتقل ہوتی رہتی ہے، اور طاق راتوں میں اس کا امکان زیادہ ہوتا ہے جب کہ ستائیسویں رات میں اور زیادہ۔ اللہ تعالی نے اپنی بے پایاں مصلحت و حکمت سے شب قدر کو مخفی رکھا ہے ۔اس کو مخفی رکھنے میں شاید ہماری طلب اور ذوق جستجو کا امتحان مقصود ہے۔ اگر کوئی شخص خلوص نیت اورصدق دل سے کوشش کرے ، چاہے اسے علم ہو یا نہ ہو ،تو ان شاء اللہ وہ محروم نہیں رہے گا۔ اہل ذوق کے یہاں تو سارا معاملہ ذوق طلب اور شوق جستجو ہی کا ہے۔

Comments
Loading...