Owais Razvi Qadri Siddiqui
Sufi Singer

ملفوظات عالیہ حضرت غوث اعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ

880

آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اکابر صوفیاء و مشائخ اور عرفاء و فقراء حاضر ہوکر اسرار و معارف کی نسبت سوال کرتے تو آپ جواب مرحمت فرماتے تھے:
_
محبت:

محبت ایک نشہ ہے جس کے ساتھ ہوش نہیں، ذکر ہے جس کے ساتھ محو نہیں۔ اضطراب ہے جس کے ساتھ سکون نہیں۔
_
ہمت:

آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنے نفس کو دنیا سے، روح کو تعلقات آخرت سے، اپنے قلب کو ارادوں سے اور اپنے سرکو موجودات سے علیحدہ کرلینا ہمت ہے۔
_
ذکر:

آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا دلوں میں حق کے اشاروں سے ایک ایسا اثر ہو جس کو غفلت مکدر نہ کرے۔ اس وصف کے ساتھ چپ رہنا، سانس لینا، قدم چلنا، پھرنا سب ذکر ہی ہوگا۔
_
شوق:

آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا عمدہ شوق یہ ہے کہ مشاہدہ سے وہ ملاقات سے سست نہ پڑ جائے، دیکھنے سے ساکن ہو، قرب سے ختم نہ ہو اور محبت سے زائل نہ ہو بلکہ جوں جوں ملاقات بڑھتی جائے شوق بھی بڑھتا جائے۔
_
توکل:

حضرت شیخ رضی اللہ عنہ سے توکل کی نسبت پوچھا گیا تو فرمایا کہ دل کا خدا کی طرف مشغول ہونا اور غیر خدا سے الگ ہونا توکل ہے۔ جس پر پہلے بھروسہ کرتا تھا اس کی وجہ سے اب اس کو بھول جائے اور اس کے سبب ہر غیر سے مستغنی ہوجائے۔
_
توبہ:

آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا توبہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندے کی طرف اپنی عنایت سے دیکھے اور اس عنایت سے اپنے بندے کے دل کی طرف اشارہ کرے، اس کو خاص اپنی شفقت سے اپنی طرف قبضہ کرتے ہوئے کھینچ لے۔
_
صبر:

آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا صبر یہ ہے کہ بلا کے ہوتے ہوئے اللہ عزوجل کے ساتھ حسن ادب و ثبات پر قائم رہے اور اس کے کڑوے فیصلوں کو فراخ دلی کے ساتھ احکام کتاب و سنت کے مطابق مانے۔

 

صدق:

آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا صدق کی تین اقسام ہیں:
صدق اقوال میں یہ ہے کہ ان کا قیام دل کی موافقت پر ہو۔
اعمال میں یہ کہ ان کا قیام حق کی رؤیت پر ہو۔
احوال میں یہ ہے کہ ان کا قیام خود حق پر مبنی ہو، انہیں نہ رقیب کا مطالبہ مکدر کرے اور نہ فقیہہ کا جھگڑا۔

 

_
رضا:

حضرت شیخ رضی اللہ عنہ سے رضا کی بابت پوچھا گیا تو فرمایا کہ وہ یہ ہے کہ تردد کو اٹھا دیا جائے اور جو کچھ اللہ کی طرف سے ہو اسی پر کفایت کرے اور جب کوئی قضا نازل ہو تو دل اس کے زوال کی طرف نہ جھانکے۔
_
دعا:

حضرت شیخ سے دعا کی بابت پوچھا گیا تو فرمایا کہ اس کے تین درجے ہیں:
_
تصریح اشارہ تعریض
_
تصریح: یہ ہے کہ اس کا تلفظ ہو تصریح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس قول میں ہے کہ اے میرے رب! مجھے اپنا آپ دکھا دے کہ میں تجھ کو دیکھ لوں۔ یہ رؤیت کی تصریح ہے۔
_
اشارہ: یہ وہ قول ہے جو قول میں چھپا ہوا ہو یعنی اشارہ قول مخفی ہے۔ اشارہ ابراہیم خلیل علیہ السلام کا یہ قول ہے کہ اے میرے رب! مجھے دکھا کہ تو مُردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے؟ یہ رؤیت کی طرف اشارہ ہے۔
_
تعریض:

تعریض وہ التجا ہے جو دعا میں چھپی ہوئی ہو۔ تعریض میں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ قول ہے کہ خداوند ہم کو ایک لحظہ کے لئے بھی ہمارے نفسوں کے سپرد نہ کر۔

Comments
Loading...