حضرت ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :

مومن بندہ اور مومن عورت کی جان میں اس کی اولاد اور مال میں آزمائش آتی رہتی ہے حتیٰ کہ وہ اپنے مولیٰ سے جاملتا ہے اور اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔

حضرت ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔ قریب قریب رہو اور سیدھے سیدھے رہو ۔ ہر ناگوار بات جو مسلمان کو پہنچے وہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہے ۔ حتیٰ کہ کوئی مصیبت جو اس کو پہنچے اور کانٹا جو اس کو چھبے ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بھی مصیبت کسی مسلمان کو پہنچے اللہ اس مصیبت کو مسلمان کے لیے گناہوں کا کفارہ بنا دیتے ہیں ۔ حتیٰ کہ کانٹا بھی چبھ جائے (متفق علیہ )


رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دنیا میں جوبھی آزمائش وابتلاء کسی بندے پرآتی ہے وہ کسی گناہ کی وجہ سے آتی ہے اور اللہ بہت زیادہ کریم ہیں اور معاف فرمانے کے لحاظ سے بہت عظیم ہیں کہ اس گناہ کے بارے میں بندے سے قیامت میں سوال کریں (یعنی یہ مصیبت ان گناہوں کا کفارہ بن گئی جو اس سے سرزد ہوئے) اسی طرح حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پھسل کر گرنا اور رگ کا پھڑکنا کسی لکڑی وغیرہ سے خراش کا لگنا یہ تمہارے اعمال کی بناء پر ہے اور جو اللہ معاف فرما دیتے ہیں وہ بہت زیادہ ہے۔


رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔ کسی بھی مسلمان کو کانٹا چبھ جائے یا اس سے بڑی چیز ، اس کی وجہ سے ایک درجہ اس کا لکھ دیا جاتاہے اور اس کی ایک خطا معاف کردی جاتی ہے ۔


رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مومن مرد اور مومن عورت ، مسلمان مرد اور مسلمان عورت بیمار ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی خطا کو بیماری کی وجہ سے جھاڑ دیتے ہیں اور اور
ایک روایت میں یوں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی خطاؤں کو جھاڑ دیتے ہیں ۔