Owais Razvi Qadri Siddiqui
Sufi Singer

مُرشد اِس لئے ضروری ہے کیونکہ کہ کسی بھی علم کو حاصل کرنے کے لئے۔۔۔

573

کامل مرشد وہ ہے جو مرید کو بےجا ریاضتوں میں الجھانے کی جگہ اُس اپنے اندر کی راہ پر ڈال دے۔

اللّٰہ کی ذات جسے اپنے اندر نہیں ملتی اُسے مندر مسجد کسی جگہ وہ ذات نصیب نہیں ہوتی اور جستجو اپنے اندر ذاتِ خدا مل جائے اُسے مسجد مندر کی حاجت ہی نہیں رہتی۔

حقیقت یہ ہے کہ ضرورت کامل مُرشد کی نہیں بلکہ کامل مرید کی ہوتی ہے۔ جس کی جتنی طلب ہو اُسے اُتنا ہی ملتا ہے۔ اسی لئے رسول اللّٰہ کے صحابہ الگ الگ درجہ رکھتے ہیں۔ اُن سب کے مُرشد ایک ہی تھے لیکن سب کو فیض اپنی اپنی کیفیت کے مطابق ملا۔

ایک شخص رسول اللّٰہ کو ظاہری طور پر دیکھنے کے باوجود ابو الجہل کہلاتا ہے اور کوئی اُن سے ظاہری ملاقات کے بغیر ہی اویس قرنی ہو جاتا ہے۔

اِس کا مطلب یہ ہے کہ مُرشد برستے بادلوں کی طرح سخی ہوتا ہے جو ہر زمین پر یکساں برستا ہے مگر پتھر اُس بارش کو رد کر دیتے اور بنجر رہ جاتے ہیں اور ذرخیز مٹی اُسی پانی سے سیراب ہو کر اپنے اندر چھپا خزانہ ظاہر کر دیتی ہے۔

مُرشد اِس لئے ضروری ہے کیونکہ کہ کسی بھی علم کو حاصل کرنے کے لئے اُس کا سکھانے والا تلاش کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح ذات کا علم حاصل کرنے کے لئے ایسے اُستاد کی ضرورت پڑتی ہے جو ذات تک رسائی رکھتا ہو۔

میرے حساب سے کامل مُرشد تلاش کرنے کی جگہ اپنی طلب کامل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

کیونکہ کہتے ہیں کہ جس کی جہاں تک پہنچ اُس کے لئے وہاں پے “تُو”۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ بندہ خود کسی خاص طلب کا حامل نہیں ہوتا مگر جب بات کرتا ہے تو کہتا ہے کہ بس مُرشد کامل کی تلاش ہے۔ یقیناً اہلِ اللّٰہ بہت سی چیزوں پر دسترس رکھتے ہیں لیکن اُن کی عطا بھی مرید کی طلب کے حساب سے ہوتی ہے۔ جس کے برتن میں جگہ ہی چند قطروں کے برابر ہو وہ سمندر تک پہنچ بھی جائے تو بھی وہ اپنے برتن میں چند قطرے ہی سمو سکتا ہے۔ سو اِس میں سمندر کا تو کوئی قصور نہیں ہے۔ اور یہ کمی تو کوئی جوہڑ بھی پوری کر سکتا تھا۔

اِس لئے “پانی مت تلاش کر۔ پیاس پیدا کر” کے فارمولے پر چلنا چاہیے۔

اور مُرشد صرف وہی نہیں جو کسی خانقاہ میں بیٹھا ہوا لوگوں کو مرید کر رہا ہو۔ بلکہ سیکھنے والے کے لئے ہر شئے ایک اُستاد ہے۔ جیسے سلطان باہو رح فرماتے ہیں کہ “پانی کا تند و تیز ریلا راہنمائی کے بغیر ہی خود کو دریا میں لے جاتا ہے کہ شوق جب راہنما ہو جائے تو کسی اور راہنما کی حاجت نہیں رہتی۔ “

Comments
Loading...