Owais Razvi Qadri Siddiqui
Sufi Singer

ہماری طلب صادق نہیں ورنہ پِیر کے فیضان کا دریا تو جاری ہے،

1,081

” طلبِ صادق ”

قُطُب الواصلین حضرت شاہ آلِ محمد رحمتہ اللّٰه علیہ آپ مارہرہ شریف میں تشریف فرما ہیں۔ایک صاحب سب سجادوں میں گھومے ہوئے مجاہدے ریاضتیں کیے ہوئے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے یہی شِکایت کی کہ اِتنے برسوں سے طلب میں پِھرتا مقصود حاصل نہیں ہوتا۔فرمایا:
” ٹھہرو! ایک حُجرہ میں خانقاہ شریف کے ٹھہرایا،خادم کو حُکم دیا انہیں مچھلی کھانے کو دی جائے اور پانی کا ایک قطرہ نہ دیا جائے اور بعد کھانا کھانے کے فوراً حُجرہ باہر سے بند کر دیا جائے۔ ”
خادم نے مچھلی دی جب وہ کھا چُکے فوراً زنجیر بند کر دی۔اب یہ اندر سے چِلّاتے ہیں کہ مجھے پانی دیا جائے مگر کون سُنتا ہے۔صبح کو حضور نماز کے واسطے تشریف لائے،خادم نے حُجرہ کھولا،کُھلتے ہی پانی پر جا گِرے اور جس قدر پِیا گیا خوب پِیا۔نماز کے بعد حضرت نے فرمایا:
” خیریت ہے؟ ”
عرض کِیا:
” حضور! رات تو خادموں نے مار ہی ڈالا تھا کہ مجھے ایسی گرمی میں اوّل تو مچھلی کھانے کو دی،دوسرا ایک قطرہ پانی کا نہ دیا اور پیاسا ہی حُجرہ میں بند کر دیا۔ ”
فرمایا:
” پِھر رات کیسی گُزری؟ ”
عرض کِیا:
” جب تک جاگتا رہا پانی کا خیال،جب سویا سِوائے پانی کے اور کچھ نہ دیکھا۔ ”
فرمایا:
” طلبِ صادق اس کا نام ہے۔کبھی ایسی طلب بھی کی تھی جس کی شِکایت کرتے ہو؟ ”
وہ مجاہدات کیے ہوئے قلبِ صاف تھا۔نفس کا جو دھوکہ تھا فوراً کھل گیا اور مقصود حاصل ہو گیا۔

( ملفوظاتِ اعلٰی حضرت،صفحہ ٤۷۰ )

معلوم ہُوا:
” ہماری طلب صادق نہیں ورنہ پِیر کے فیضان کا دریا تو جاری ہے،ہم ہی اس دریا میں اُتر کر اس سے سیراب نہیں ہوتے بلکہ چاہتے ہیں کہ کِنارے پر بیٹھے بیٹھے پانی مِل جائے۔ ”

۔

Comments
Loading...