Owais Razvi Qadri Siddiqui
Sufi Singer

۔اللہ کی رحمت ہوئی ان لوگون پر جنھیں اللہ نے اپنے عشق سے سرشار کیا

781

اہل تصوف کے مطابق روحانیت کے چار درجے ہیں۔۔۔

فنا فی الشیخ،

فنا فی الرسول ،

فنا فی اللہ

اور پھر بقا باللہ

ایک سالک کو فنا کے مرحل سے گزرنا ہوتا ہے اور فنا ہی بقا کی منزل تک پہنچاتی ہے۔۔

بقول علامہ محمد اقبال
تو بچا بچا کہ نہ رکھ اسے تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ
جو شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئینہ ساز میں

فنا دو طرح کی ہے۔ فنا کا مطلب لغت کے اعتبار سے خاتمہ ہے۔۔ ایک خاتمہ بغیر کسی حاصل کے ہے۔۔

اور ایک خاتمہ اپنی رضا کو محبوب کی رضا پر قربان کر کے محبوب کے لئے اپنا خاتمہ ہے۔۔ خالق حقیقی کی رضا میں اپنی رضا کی فنا دراصل بقاء کی جانب پہلا قدم ہے۔
فنا جو بقاء کے رستے میں مقام کا نام ہے بغیر عشق کے ممکن نہیں۔۔ فنا کے راز سمجھنے کے لئے عشق کی گھتیان سلجھانا نہایت ضروری ہے۔۔۔ بابا بلھا شاہ عشق کو کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں۔۔۔

رانجھا رانجھا کر دے کردے اپو رانجھا ہوئی
سدو مینون دھیدو رانجھا ہیر نہ اکھے کوئی

یعنی رانجھا رانجھا کا ذکر کرتے کرتے میں اپنی ذات بھلا چکی ہون۔ اب مجھے رانجھا کہو کیونکہ اب میں خود میں ذات رانجھا اس طرح قائیم کر چکی ہون کے میری ذات اب میری ذات نہیں رہی بلکہ رانجھا کی ذات بن چکی ہے۔۔

بزگ کہتے ہیں عشق عین توحید کا نام ہے۔۔ یعنی عشق میں دو نہیں ہوتے۔۔ محبوب ہوتا ہے اور صرف محبوب ہوتا ہے۔۔ اگر اپنی ذات رہے تو یہ عشق نہیں بلکہ حوس ہے۔۔۔ جیسا کہ سلسلہ نقشبندیا کا نعرا ہے
صرف اللہ باقی حوس عشق دراصل اپنی ذات کو محبوب کی ذات ، نوازشات اور انوار میں گم کرنے کا نام ہے۔۔

عشق مردان حر اور صاحبان شرافت کا کام ہے۔۔ یہ صاحبان مروت اور باکردار لوگون کا شیوا ہے۔۔اللہ کی رحمت ہوئی ان لوگون پر جنھیں اللہ نے اپنے عشق سے سرشار کیا۔۔۔اور پھر ان کی فنا کو بقا سے نوازا۔

Comments
Loading...