Owais Razvi Qadri Siddiqui
Sufi Singer

اللہ والوں سے ملے تو محبت و رغبت، ادب و احترام، محبت و چاہت سے ملے

403

امام سلمی روایت کرتے ہیں کہ حضرت ذوالنون مصری نے ایک روز اپنے مریدوں سے خطاب کیا کہ
يَا مَعْشَرَ الْمُرِيْدِيْن مَنْ اَرَادَ مِنْکُمُ الطَّرِيْق.
ترجمہ :
’’اے مریدین! تم میں سے اگر کوئی شخص اللہ کی طرف جانے کا راستہ چاہے (تو کچھ آداب سیکھے)‘‘۔

فَلْيَلْقِلْ عُلَمَآءَ بِالْجَهْل.
ترجمہ :
’’جب علماء سے ملے تو جاہل بن کر ملے‘‘۔

جانتا ہو تب بھی جاہل بن کر ملے تاکہ جتنا علم ان سے مل سکتا ہے لے سکے۔
وَالزُّهَادَ بِالرَّغْبَة.
ترجمہ :
’’اور زاہدوں عبادت گزاروں سے محبت و رغبت سے ملے‘‘۔

اللہ والوں سے ملے تو محبت و رغبت، ادب و احترام، محبت و چاہت سے ملے، ان کو تکنے کی آرزو کرے، ان کے پاس بیٹھنے کی آرزو کرے۔

وَاَهْل الْمَعْرَفَةَ بالصَّمْ.
ترجمہ :
’’اور عارفوں معرفت والوں سے گونگا بن کر ملے‘‘۔

وہ جو کہیں ہمہ تن گوش ہوکر سنتا رہے۔ ۔ ۔ کلام نہ کرے۔ ۔ ۔ کچھ پوچھے نہیں۔ ۔ ۔

اہل معرفت چپ رہیں تو ان کی مرضی۔ ۔ ۔ بولیں تو ان کی مرضی۔ ۔ ۔ کچھ کہہ دیں تو سن لے۔ ۔ ۔ نہ کہیں تو دیکھ لے۔

یہ اقوال حضرت ذوالنون مصری کے تھے جن کا حال یہ تھا کہ لوگ ان کو زندیق/ ملحد کہتے، فتوے لگاتے، حکام وقت سے کہہ کر ان کو قید کروادیا۔

عمر بھر تکالیف دیں، پہچان نہ سکے کہ یہ شخص کون ہے؟
حضور داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ، کشف المحجوب میں روایت کرتے ہیں کہ جس رات حضرت ذوالنون مصری کا انتقال ہوا، کسی کو خبر نہ تھی کہ آج رات ان کا انتقال ہوگیا ہے، اس ایک رات شہر بغداد کے 70 اولیاء کو تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہوئی اور ہر ایک نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بغداد تشریف لائے ہیں۔ خواب میں ہر ولی نے پوچھا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کیسے تشریف لائے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ذوالنون مصری کی وفات ہوئی ہے اس کی روح کے استقبال کے لئے آیا ہوں۔دنیا دھاڑے مار کر روتی ہوئی صبح اٹھی تو ان کی خبر ہوئی کہ یہ ذوالنون مصری کسی مقام و مرتبے کے حامل تھے۔ مگر وہ دنیا سے جاچکے تھے اور جب لوگ ان کے گھر پہنچے تو نور کے کلمات سے ان کی پیشانی پر لکھا تھا۔

کَانَ حَبِيْبُ اللّٰه وَمَاتَ فی حُبِّ اللّٰه.
ترجمہ :
’’اللہ کا عاشق تھا اور اسی کے عشق میں وفات پاگیا‘‘۔

اللہ کا محبوب تھا اور اسی کی محبت میں وصال فرماگیا۔ سخت گرمیوں کے دن تھے، ان کا جنازہ اٹھایا گیا، اطراف و اکناف سے ہزاروں لاکھوں پرندے جمع ہوگئے اور انہوں نے پر (Wing) جوڑ کر سائبان بنا کر سایہ کردیا۔ اللہ چاہتا تو بادلوں کے ذریعے ہی سایہ کردیتا، مگر بادلوں سے سایہ کرتا تو کئی نہ ماننے والے کہتے کہ بادل تو آتے ہی رہتے ہیں مگر اللہ نے بادلوں کے ذریعے سایہ نہیں کروایا بلکہ پرندوں کے ذریعے اس طرح سایہ کروایا کہ ان پرندوں نے پروں سے پرملاکر سائبان بنادیا۔ نیچے ذوالنون مصری کا جنازہ جاتا تھا اور اوپر پرندوں کا سائبان چلتا تھا۔مگر اب پچھتائے کیا جب چڑیاں چگ گئیں کھیت
لوگ پچھتاتے رہ گئے کہ ہم ان کے مقام کو نہ پہچان سکے۔عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن
یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ
اللہ تعالیٰ ہمیں ان اولیاے کرام کی تعلیمات پر عمل کرنے اور اپنے احوال کی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

Comments
Loading...